Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں دہشت گرد حملہ ، دو فوجی جوان ایک پولیس ملازم ہلاک

کشمیر میں دہشت گرد حملہ ، دو فوجی جوان ایک پولیس ملازم ہلاک

اننت ناگ، سرینگر میں کرفیو برقرار، عام زندگی مسلسل مفلوج، وادی میں نقل و حمل بھی متاثر
سرینگر ۔ 17 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں دہشت گرد حملہ میں دو فوجی جوان اور ایک پولیس ملازم ہلاک ہوگئے۔ دہشت گردوں نے فوجی قافلہ پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ ضلع سرینگر، اننت ناگ ٹاؤن اور ماگم علاقہ میں کرفیو برقرار ہے۔ مقامی پولیس عہدیدار نے بتایا کہ رات 2:30 بجے کئے گئے حملہ میں دو سپاہی اور پولیس جوان ہلاک ہوا ہے۔ یہ حملہ ضلع بارہمولہ کے خواجہ باغ میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس شدید حملے میں دو سپاہی اور پولیس جوان مارا گیا جس کے بعد حملہ آوروں کی تلاش کیلئے بڑے پیمانے پر دھاوے شروع کئے گئے۔ اس آپریشن میں فوج اور پولیس کے ارکان نے حصہ لیا۔ وادی کشمیر میں مسلسل 40 دن سے عام زندگی بری طرح مفلوج ہے جہاں بدامنی کے واقعات میں اب تک مرنے والوں کی تعداد 63 ہوگئی۔ پولیس عہدیدار نے مزید بتایا کہ ضلع بڈگام کے ماگم علاقہ میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے جہاں کل سیکوریٹی فورسیس کی فائرنگ میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ضلع سرینگر اور اننت ناگ ٹاؤن میںکرفیو برقرار ہے۔ پوری وادی میں عوام کی آمدورفت متاثر رہی ہے۔ حمل و نقل پر بھی سخت پابندی عائد کردی گئی ہے۔

شہر سرینگر میں سیکوریٹی فورس کی بھاری جمعیت کو تعینات کیا گیا ہے۔ سونور میں یونائیٹیڈ نیشن ملٹری آبزرور گروپ کے مقامی دفتر کو جانے والی تمام سڑکوں کی ناکہ بندی کردی گئی۔ علحدگی پسند گروپس نے اقوام متحدہ کے مقامی دفتر تک مارچ نکالنے کی اپیل کی تھی۔ اس مارچ کا مقصد وادی کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے عالمی ادارہ پر دباؤ ڈالنا تھا۔ علحدگی پسندوں نے اقوام متحدہ کے دفتر تک مارچ اور اپنے مجوزہ دھرنے کو 72 گھنٹے تک جاری رکھنے کی دھمکی دی تھی لیکن حکومت نے اس مارچ کی اجازت نہیں دی۔ اسکولس، کالجس اور خانگی دفاتر بند رہے جبکہ عوامی ٹرانسپورٹ نظام مفلوج رہا۔ علحدگی پسندوں کی ہڑتال کی اپیل کے بعد سڑکیں سنسان ہوگئیں۔ سرکاری دفاتر میں بھی ملازمین کی حاضری معمولی دیکھی گئی۔ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائیل سرویس بھی معطل ہے جبکہ ہفتہ کے دن براڈ بیانڈ سرویس کو بھی روک دیا گیا ہے۔ ٹیلیفون سرویس کو بھی معطل رکھا گیا تھا۔ وادی میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی انکاونٹر میں ہلاکت کے بعد سے بدامنی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ 8 جولائی کو سیکوریٹی فورسیس کے ہاتھوں برہان وانی کی ہلاکت ہوئی تھی۔ اس کے بعد علحدگی پسندوں نے احتجاجی مظاہرے شروع کئے

اور پوری وادی تشدد کی لپیٹ میں آ گئی۔ اس میں کئی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ 9 جولائی سے شروع ہونے والے پرتشدد واقعات اور جھڑپوں میں اب تک 63 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر عمر عبداللہ نے کل شام میں ہوئی فائرنگ کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وادی کو گذشتہ 40 دن سے بدامنی کی آگ میں جھونکا گیا ہے۔ مرکز نے اس سلسلہ میں جو رویہ اختیار کیا ہے وہ افسوسناک ہے۔ وادی کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ قرار دیا جاتا ہے تو اس دعویٰ کو صرف زمین اور رقبہ کی حد تک محدود کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وادی کشمیر کے عوام کو بھی ہندوستان کا اٹوٹ حصہ سمجھا جانا چاہئے۔ اس دوران اعتدال پسند حریت کانفرنس لیڈر میر واعظ عمر فاروق نے اقوام متحدہ کے مقامی دفتر تک مارچ نکالنے کی کوشش کی جس کو پولیس نے ناکام بنادیا ہے۔ میر واعظ کو ان کے گھر پر ہی نظربند رکھا گیا جو اپنی رہائش گاہ سے نکل کر مارچ میں حصہ لینے کی کوشش کررہے تھے۔ ان کے ساتھ درجنوں حامی بھی تھے ان تمام کو آج دوپہر تحویل میں لیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT