Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں سکیوریٹی فورسیس کی اندھا دھند فائرنگ

کشمیر میں سکیوریٹی فورسیس کی اندھا دھند فائرنگ

سرکاری ملازم کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
سرینگر 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کشمیر کے کلگام ضلع میں کل رات بھر جاری انسداد شورش پسند کارروائی میں ایک سرکاری ملازم ہلاک ہوگیا جبکہ عسکریت پسند، سکیوریٹی فورسیس کو چکمہ دے کر فرار ہوگئے۔ پولیس عہدیدار نے بتایا کہ علاقہ چانسر میں عسکریت پسندوں کی روپوشی کی اطلاع پر سکیوریٹی فورسیس بشمول فوج نے کل شب تلاشی مہم شروع کی تھی۔ سکیوریٹی فورسیس علاقہ کا محاصرہ کرتے ہی عسکریت پسندوں نے فائرنگ شروع کردی جس کی زد میں آکر محکمہ سمکیات کا ایک ملازم اسداللہ خاں ہلاک ہوگئے۔ تاہم سکیوریٹی فورسیس نے اس علاقہ میں ایک عسکریت پسند نظر نہ آنے پر آج صبح تلاشی مہم ختم کردی۔ انھوں نے شبہ ظاہر کیاکہ عسکریت پسند تاریکی کا فائدہ اُٹھاکر فرار ہوگئے ہیں۔ تاہم ایک شہری کی ہلاکت پر فوجی حکام خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ دریں اثناء مقامی لوگوں نے اسداللہ خاں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سرینگر ۔ جموں قومی شاہراہ پر دھرنا دیا۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ فشریز کے ملازم اسداللہ کو سیکورٹی فورسز نے ایک فرضی جھڑپ کے دوران ہلاک کیا ہے ۔ مہلوک اسداللہ کمار کی ہلاکت کے خلاف اُن کے آبائی گاؤں منڈھال دیوسر (قاضی گنڈ) میں ہفتہ کو شدید احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے ۔ مقامی لوگوں نے اسداللہ کمار کی ہلاکت میں ملوث اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے واقعہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے مہلوک کی لاش ویسو نامی گاؤں لے جاکر وہاں مین روڑ پر شدید احتجاج درج کیا۔ اسداللہ کمار کے اہل خانہ نے بتایا کہ مہلوک کے جسم پر دو گولیوں کے نشان پائے گئے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو واقعہ کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا ‘چانسر نامی گاؤں میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر سیکورٹی فورسز نے مذکورہ گاؤں میں تلاشی مہم شروع کی’۔ انہوں نے بتایا ‘تاہم جب سیکورٹی فورسز علاقہ کو محاصرے میں لے رہے تھے تو وہاں موجود جنگجوؤں نے ان پر فائرنگ کی۔

سیکورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کی اور طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلے میں اسداللہ کمار ہلاک ہوا’۔ تاہم چانسر کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے ‘سیکورٹی فورسز بشمول فوج اور ریاستی پولیس کی جانب سے علاقہ میں تلاشی مہم شروع کرنے کے بعد چند گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں’۔ مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ علاقہ میں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے مابین کوئی تصادم نہیں ہوا۔سرکاری ملازم اسداللہ کی ہلاکت کا واقعہ کانگریس کے سابق سرپنچ سجاد احمد ملک عرف بٹہ ملک کی پراسرار ہلاکت کے ایک روز بعد پیش آیا۔ ریاستی پولیس نے مہلوک سابق سرپنچ سجاد ملک عرف ‘بٹہ ملک’ کو ایک سرینڈر شدہ جنگجو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے فوج نے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ایک پولیس اسٹیشن سے ہتھیار اڑانے کے بعد ڈورو علاقہ کے ایک گاؤں میں جوابی فائرنگ میں ہلاک کیا ہے ۔ لیکن مہلوک سجاد ملک کے اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے پولیس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ‘دوران حراست ہلاک کیا گیا ہے ‘۔

TOPPOPULARRECENT