Sunday , September 24 2017
Home / سیاسیات / کشمیر میں ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال : چیف منسٹر

کشمیر میں ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال : چیف منسٹر

سری نگر، 14دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اعتراف کیا کہ وادی میں گذشتہ پانچ ماہ کی کشیدگی کے دوران ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا گیا۔انہوں نے ریاستی پولیس سے کہا کہ وہ جنگجوؤں اور اُن کے اہل خانہ کے درمیان فرق قائم کرے ۔ انہوں نے کشمیر کی صورتحال میں بہتری آنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے ۔محبوبہ مفتی نے بدھ کو جنوبی کشمیر کے لتہ پورہ پلوامہ میں واقع کمانڈوز ٹریننگ سینٹر (سی ٹی سی) میں کمانڈوز کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وادی میں امن وامان کی بحالی کے لئے ریاستی پولیس کا تعاون طلب کیا۔ انہوں نے لوگوں پر ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ‘کشمیر میں گذشتہ پانچ ماہ کے دوران کشیدگی دیکھنے کو ملی جس کے نتیجے میں کئی لوگ بشمول پولیس اہلکار اور عام شہری مارے گئے اور زخمی ہوگئے ۔ لہٰذا ایسے حالات میں لوگوں کے مال و جان کو بچانے کے لئے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرنا پڑا لیکن اب صورتحال میں بہتری آئی ہے اور احتجاجوں سے نمٹنے کی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے ‘۔تاہم وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشیدگی کے دوران ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کو جواز بخشتے ہوئے کہا کہ اگر سیکورٹی فورسز نے سخت کاروائی نہ کی ہوتی تو مزید لوگ مارے گئے ہوتے اور املاک کو بھی بھاری نقصان ہوا ہوتا۔ مفاہمت کو امن وامان کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے حل کا واحد راستہ بتاتے ہوئے محترمہ مفتی نے ریاستی پولیس سے کہا کہ وہ (ریاستی پولیس) جموں وکشمیر میں ایک ایسا ماحول پیدا کرے جس میں پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے ) کا استعمال صرف جرائم پیشہ مجرموں کے خلاف کرنا پڑے ۔انہوں نے کہا کہ وادی میں صورتحال کو بہتر بنانے میں ریاستی پولیس کا رول بہت ہی اہم ہے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا ‘چاہے وہ پی ایس اے ہو یا آرمڈ فورس اسپیشل پاورس ایکٹ۔ یہ دونوں عارضی ہیں۔ ان کو جانا ہی ہوگا۔ میں آپ (پولیس اہلکاروں) سے گذارش کرتی ہوں کہ آپ ریاست میں امن وامان کی بحالی میں میری مدد کرو۔ ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں پی ایس اے کا استعمال صرف جرائم پیشہ مجرموں بشمول منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف کرنا پڑے ، نہ کہ اس کا استعمال ایک پچاس سالہ بوڑھے یا ایک کمسن لڑکے کے خلاف کرنا پڑے ‘۔ وزیر اعلیٰ نے ریاستی پولیس سے کہا کہ وہ جنگجوؤں اور اُن کے اہل خانہ کے درمیان فرق قائم کرے ۔ انہوں نے کہا ‘ہمیں جنگجو اور جنگجو کے کنبے کے درمیان فرق قائم کرنی ہوگی۔ ہم ایک جنگجو اور اس کے والد، بھائی اور بہن کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کرسکتے ہیں۔ اگر ایک نوجوان سنگباز ہے تو ہمیں اس نوجوان اور اس کے کنبے کے درمیان فرق قائم کرنی ہے ۔ اس کے بعد ہمیں ایک طالب علم سنگباز اور ایک بالغ سنگباز کے درمیان فرق کرنی ہے ‘۔

TOPPOPULARRECENT