Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں عام زندگی مفلوج، علیحدگی پسندوں کا آج احتجاجی مارچ

کشمیر میں عام زندگی مفلوج، علیحدگی پسندوں کا آج احتجاجی مارچ

پولیس کی بڑے پیمانے پر مہم ، 500 سے زائد نوجوان گرفتار، تشددمیں زخمی ہونے والوں کی کثیر تعداد ہنوز زیرعلاج

سری نگر 4 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر میں کشیدگی برقرار ہے اور کرفیو کے علاوہ ہڑتال کے سبب آج مسلسل 27 ویں دن بھی عام زندگی مفلوج رہی۔ پولیس نے بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم شروع کی ہے۔ وادی کے کئی اہم ٹاؤنس میں کرفیو برقرار ہے۔ پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ لاء اینڈ آرڈر کی برقراری کے لئے تمام حساس علاقوں میں زائد فورس تعینات کی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کل وادی کے کئی حصوں میں احتجاجیوں اور سکیورٹی فورسیس کے مابین جھڑپوں کے نتیجہ میں کئی افراد بشمول سکیورٹی فورس ارکان عملہ زخمی ہوئے۔ جنوبی کشمیر کے ضلع کلگام میں سب سے زیادہ تشدد کے واقعات دیکھے گئے۔ پولیس نے اشرار اور تشدد پھیلانے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی تاکہ سڑکوں پر ہورہے احتجاج کو ختم کیا جاسکے۔ اس سلسلہ میں تمام وادی میں اب تک 500 نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ آج مسلسل 27 ویں دن بھی عام زندگی بُری طرح متاثر رہی کیوں کہ حکام نے ایک طرف تحدیدات عائد کر رکھی ہے اور دوسری طرف علیحدگی پسندوں نے ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسکولس، کالجس، تجارتی ادارے بند رہے اور سڑکوں پر گاڑیاں بھی نہیں چلائی گئیں۔

علیحدگی پسند گروپس نے ہڑتال میں 5 اگسٹ تک توسیع کی ہے اور کل وہ درگاہ حضرت بلؒ تک مارچ کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ وادی میں گزشتہ چند دن سے شام کے وقت یا پھر صبح کی اولین ساعتوں میں دوکانات کھلی دیکھی جارہی ہیں اور عوام اِن اوقات میں اشیائے ضروریہ کی خریدی کررہے ہیں۔ سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد یٰسین ملک پر مشتمل علیحدگی پسند قیادت نے 30 جولائی کو احتجاجی کیلنڈر جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہڑتال میں ہر روز 6 بجے سے رات دیر گئے تک نرمی رہے گی اور دوکاندار اپنی دوکانات کھول سکتے ہیں تاکہ لوگ اشیائے ضروریہ کی خریدی کرسکیں۔ تاہم گیلانی اور عمر فاروق نے دوکانات کھلی رکھنے کا سخت نوٹ لیتے ہوئے کہاکہ وہ تحریک مخالف عناصر ہیں۔ تشدد سے زخمی ہونے والوں کی کثیر تعداد اب بھی ہاسپٹلس میں زیرعلاج ہے اور ان میں اکثر معذور ہوگئے ہیں۔ وادی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران 50 سے زائد عام شہری ہلاک اور 5 ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دارالحکومت سرینگر کے ڈاؤن ٹاؤن، شہر خاص اور بٹمالو میں کرفیو جاری ہے جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کیا گیا ہے۔ شمالی کشمیر کے خان پورہ، باندی پورہ اور جنوبی کشمیر کے شوپیان، اننت ناگ اور پان پورہ میں کرفیو جاری رکھا گیا ہے۔ سکیورٹی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کرفیو کے باعث علاقہ میں دن کے وقت احتجاجی مظاہرے نہیں ہوتے لیکن شام ہونے کے ساتھ ہی لوگ سڑکوں پر نکل آرہے ہیں اور سنگباری کے واقعات بھی پیش آرہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹی فورسیس نے کارروائی کے دوران کئی مکانات کو نقصان پہنچایا جس پر عوام بطور احتجاج سڑکوں پر نکل آئے اور سکیورٹی فورسیس کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اِس دوران ہوئی جھڑپوں میں بھی کئی افراد زخمی ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT