Wednesday , July 26 2017
Home / ہندوستان / کشمیر میں عسکریت پسندوں کے صفائے کیلئے فوجی مہم

کشمیر میں عسکریت پسندوں کے صفائے کیلئے فوجی مہم

ہیلی کاپٹرس اور ڈرونس کا استعمال، 4 ہزار فوجیوں نے ضلع شوپیان کا محاصرہ کرلیا
سری نگر۔4 مئی (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں عسکریت پسندوں کے صفائے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی گئی ہے جس میں ہیلی کاپٹرس اور ڈرونس کا استعمال کیا جارہا ہے۔ تقریباً 4 ہزار سے زائد فوجیوں نے اس ضلع کا عملاً محاصرہ کر رکھا ہے جہاں عسکریت پسند گھروں میں چھپے ہوئے ہیں۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ اس کارروائی کا مقصد وہ عسکریت پسند ہیں جو علاقہ میں چھپ کر سکیوریٹی فورسس کو نشانہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے آج صبح بھی سکیوریٹی عملے پر حملہ کیا تھا۔ اس کارروائی میں فوج، پولیس اور سی آر پی ایف شریک ہے جس میں ضلع کے ایک درجن سے زائد دیہاتوں میں مارچ کیا ہے۔ اب تک اس کارروائی میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ سری نگر سے تقریباً 55 کیلومیٹر دور شوپیان میں یہ شائد اب تک کی سب سے بڑی فوجی کارروائی ہے۔ وادی کشمیر میں تقریباً ایک دہے سے زائد عرصے سے بدامنی جاری ہے لیکن پہلی مرتبہ اس قدر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی جارہی ہے۔ فوج کے عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ گھر گھر تلاشی لی جارہی ہے جبکہ 1990ء کے اواخر سے اس طرح کی تلاشی مہم روک دی گئی تھی لیکن آج دوبارہ یہ طریقہ کار متعارف کیا گیا ہے۔ فوج نے تمام دیہاتی عوام سے کہا ہے کہ وہ کسی ایک مقام پر جمع ہوجائیں تاکہ ان کے مکانات کی جامع تلاشی لی جاسکے۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس کارروائی میں عام شہریوں کو نقصان پہنچے اور اس کے لیے انہیں باہر کھلے مقام پر جمع کرنا ضروری ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ عسکریت پسندوں بشمول غیر ملکی عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں انٹلیجنس اطلاعات کے بعد علاقہ کا محاصرہ کرتے ہوئے تلاشی مہم شروع کی جارہی ہے۔ تاہم اب تک عسکریت پسندوں سے کوئی ربط نہیں ہوسکا۔ سکیوریٹی فورسس کی مدد کے لیے کنسیلڈ اینٹی ٹیررسٹ (سی اے ٹی) ٹیم کو بھی شامل رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی ڈرونس طیارے فضاء میں اڑان بھرتے ہوئے فوج کی مدد کررہے ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ ترکا ونجان گائوں میں معمولی سنگ باری کے ماسوا فوجی کی یہ کارروائی پرامن رہی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT