Friday , August 18 2017
Home / اداریہ / کشمیر میں عوام کا غیض و غضب

کشمیر میں عوام کا غیض و غضب

گھر مرا آباد تھا لیکن نہ جانے کیا ہوا
جو کبھی سرسبز تھا شاداب تھا صحرا ہوا
کشمیر میں عوام کا غیض و غضب
جموں و کشمیر میں پی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد کے ساتھ تشکیل پائی محبوبہ مفتی زیرقیادت حکومت نے حلف لیتے ہی کشیدہ حالات پیدا ہوئے۔ ضلع کپواڑہ اکثر بدامنی کی کیفیت سے دوچار رہتا ہے یہاں پر فوج کو روانہ کرنے کا فیصلہ نہ صرف صورتحال کو خراب کرنے کا باعث بنا بلکہ تشدد کو ختم کرنے حکومت کی کوشش کو دھکہ بھی لگا۔ کشمیر ہمیشہ سے ہی ایک گڑبڑ زدہ علاقہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو یہ پھر خطرناک کھیل ہے۔ سیکوریٹی فورس کی کارکردگی اور اس کے بعض جوانوں کی وجہ پہلے ہی سے شکایت پائی جاتی ہے لیکن کشمیر میں مخالف ہند طاقتوں کی موجودگی کے بہانے فورس کو طاقت کے استعمال کی اجازت حاصل ہے۔ سرینگر میں مقامی افراد کی ایک عرصہ سے یہ شکایت تھی کہ فوج نے ان کی رہائشی، تجارتی اور صنعتی علاقوں میں بنکرس بنا لئے ہیں جو بنکرس اگرچیکہ فوج شہریوں کی حفاظت کیلئے ہی تیار تیار کئے تھے مگر برسوں سے خوف کے سایہ میں رہنے والے کشمیری عوام پر بنکرس کی شکل میں فوج کو مسلط کرکے ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش میں کوتاہی نوٹ کرنے والوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بنکرس کسی بھی طرح سلامتی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت نہیں ہوئے۔ گذشتہ ہفتہ ایک سپاہی کی جانب سے ایک کشمیری لڑکی کو ہراساں کرنے اور دست درازی کرنے کے الزام کے بعد تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ ہنواڑہ میں پیش آیا یہ دست درازی کا واقعہ فرضی قرار دیا گیا لیکن حقیقت سے صرف وہی لوگ واقف ہیں جو اس طرح کے واقعہ کا سامنا کرچکے ہیں۔ چھ سال قبل بھی فرضی جھڑپوں کے خلاف عوامی تحریک چلی تو مظاہرین پر راست فائرنگ کی گئی تھی اس مرتبہ بھی فوج نے مظاہرین پر راست فائرنگ کی جس میں ایک خاتون اور چار نوجوان ہلاک ہوئے۔ کشمیر میں اگرچیکہ اب حالات معمول پر تو آ گئے ہیں لیکن حکومت، فوج اور عوامی حلقوں کے درمیان ایک طرح کی اعصابی جنگ چل رہی ہے۔ اس طرح کی صورتحال کشمیر کے امن کیلئے نازک سمجھی جاسکتی ہے۔ محبوبہ مفتی نے اگرچیکہ تشدد کے واقعات پر قابو پانے میں کامیابی تو حاصل کرلی مگر دیرپا امن کی برقراری کو اس وقت یقینی سمجھا جائے گا جب عوام میں عدم تحفظ کا احساس دور ہوجائے۔ حکومت نے 12 اپریل کے اس واقعہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔ یہاں حالات اس وقت کشیدہ ہوگئے تھے جب سرینگر سے شمال کی جانب 10 کیلو میٹر دور ہندواڑہ موضع میں لوگوں کا مشتعل ہجوم ہند مخالف نعرے لگا رہا تھا۔ فوج نے ان پر فائرنگ کردی جس میں دو نوجوان ہلاک ہوئے۔ فوج کے ہاتھ میں بندوق اگر معصوم انسانوں کے قتل کا لائسنس بنادی جائے تو ایسے واقعات افسوسناک حد تک بڑھیں گے۔ کشمیر میں عوام کے اندر حکومت، فوج اور سرکاری نظم و نسق کے تعلق سے جو خیال پیدا ہوا ہے وہ حکومت کیلئے افسوسناک ہے کیونکہ کشمیری عوام کی شکایات سے یہ بات معلوم ہوتا ہیکہ انہیں اپنی پولیس اور حکومت پر اعتماد نہیں ہے۔ سرکاری نظم و نسق عہدیداروں کا موقف اتنا مشکوک ہے تو عوام کے غیظ و غضب میں اضافہ ہونا فطری امر ہے۔ حکومت اور اس کا نظم و نسق جب کبھی تشدد ہوتا ہے تو سب سے پہلے کرفیو نافذ کرتی ہے اور پورے مواصلاتی راستوں کو مسدود کرتی ہے۔ انٹرنیٹ کی معطلی سے وادی کشمیر کا باقی دنیا سے رابطہ منقطع کردیا گیا۔ پولیس نے یہاں ایک اور غلطی یہ کردی کہ جس لڑکی کے ساتھ دست درازی کا معاملہ پیش آیا تو اس نے اس پر دباؤ ڈالنے کیلئے حراست میں لے لیا اور اس کے خاندان والوں کو بھی حوالات میں بند رکھا۔ یہ احتیاطی حراست کا معاملہ عوامی غیض و غضب کا باعث بنا اور زبردست احتجاج کیا گیا۔ زیادتیوں اور مظالم کے خلاف آواز اٹھانے احتجاج کرنے پر اب نظم و نسق نے ایجی ٹیشنل ٹورازم کا نام دیا ہے۔ یعنی احتجاجی دہشت گردی اس طرح کے الفاظ کا استعمال خود نظم و نسق کیلئے مشکلات پیدا کرے گا۔ اگر حکومت یا فوج سمجھتی ہیکہ احتجاج کرنے والا ایک غیرمسلم نوجوان بھی گولی کا ہی مستحق ہے تو پھر کشمیر یا کسی بھی مقام پر عوامی امن کی توقع کم ہوجائے گی۔ یہ ایک ایسی خطرناک پالیسی ہے جس کو نافذ کیا گیا تو تشدد کا رخ مختلف ہوجائے گا۔ کسی بھی واقعہ کی سنگینی کا جائزہ لئے بغیر نظم و نسق اور پولیس کارروائی کرتی ہے تو ظاہر بات ہے عوام میں غم و غصہ پیدا ہوگا اور احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ اس کو پرامن بنانے اور قابو پانے کیلئے مؤثر انسانی جذبہ مظاہرہ کرنے کے بجائے فائرنگ کی جاتی ہے تو یہ کس قسم کی دہشت گردی کہلائے گی۔

TOPPOPULARRECENT