Tuesday , May 30 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں عوام کے حقوق سلب کرنے کی وجہ سے بدامنی

کشمیر میں عوام کے حقوق سلب کرنے کی وجہ سے بدامنی

انصاف کے تقاضے پورے کرنا ضروری ‘ محبوبہ مفتی حکومت مرکز کی آلہ کار : پروفیسر حمیدہ نعیم کا خطاب

حیدرآباد۔13فروری(سیاست نیوز) ہندستانی حکومت کی غلط پالیسیوں کے سبب کشمیر میں نوجوان مزاحمت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال کیلئے کشمیری عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے جن شرائط کی بنیاد پر ہندستان سے الحاق ہوا ہے انہیں برقرار رکھا جانا چاہئے۔پروفیسر حمیدہ نعیم کشمیر سنٹرفار سوشل اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹڈیزنے سیاست گولڈن جوبلی ہال میں منعقدہ سمینار بعنوان ’ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور حکومت‘ سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں برسراقتدار پی ڈی پی حکومت ہندستانی حکومت کی ایماء پر کام کررہی ہے جبکہ محبوبہ نے اقتدار حاصل کرنے کیلئے جو نعرہ دیا تھا وہ یہ تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے پی ڈی پی کو ووٹ دیا جائے۔ پروفیسر حمیدہ نعیم نے کہا کہ کشمیر کا ہندستان کے ساتھ مشروط اطلاق رہا ہے اور اس الحاق کی بنیادیں دفاع‘ خارجہ اور مواصلات پر مبنی ہیں لیکن ان شرائط سے تجاوز کرتے ہوئے اب تک کشمیر میں 9لاکھ سے زائد افواج کو متعین کیا جا چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت ہند کی جانب سے کشمیری عوام کے حقوق سلب کئے جانے کے سبب یہ حالات پیدا ہو رہے ہیں اور حالات پر اسی وقت کنٹرول کیا جا سکتا ہے جب انہیں انصاف ملے۔ پروفیسر حمیدہ نعیم نے بتایا کہ کشمیری عوام علحدگی نہیں انصاف چاہتے ہیں اور انصاف کے حصول میں حائل کی جانے والی رکاوٹیں انہیں علحدگی پر اکسا رہی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو نظر بند کرنے کے علاوہ علحدگی پسند قائدین کو برسہا برس تک نظر بند کئے جانے سے حالات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں لیکن اس بات کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے ۔ عوامی احتجاج عسکری صورت اختیار کر جانے کے مسئلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں نے کہا کہ ؎جب افواج کے مظالم میں اضافہ ہوتا ہے تو اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور ان حالات کے سبب عسکری فکر نوجوانوں میں پیدا ہونے لگی ہے۔ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے اس سمینار کی صدارت کی اور جناب فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل بھی موجود تھے۔ پروفیسر حمیدہ نعیم نے کشمیر معاہدہ کے تاریخی امور کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت ہند کی جانب سے کشمیر کے تشخص کو ختم کرنے کے لئے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کیلئے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کروائی جا رہی ہیں جبکہ اس آرٹیکل کی تنسیخ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کے ساتھ جاری نا انصافیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 1975سے اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اور ان کی تحریک مسلسل جاری ہے لیکن اقوام متحدہ میں پڑوسی کے خلاف شکایت کے ذریعہ کشمیری عوام کو نشانہ بنانے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد مرتبہ خود مختاری کا وعدہ کیا گیا لیکن اب تک قوانین میں کی گئی ترمیم کیلئے کبھی کوئی استصواب عامہ کروانے کا اعلان نہیں کیا گیا جبکہ الحاق کے دستاویزات میں یہ بات موجود ہے کہ کشمیر کے معاملات کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ان کی رائے کو ملحوظ رکھتے ہوئے حل کئے جائیں گے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کشمیری عوام پاکستان جانا نہیں چاہتے بلکہ انصاف چاہتے ہیں اور انصاف ملنے لگ جائے تو حالات بتدریج معمول پر آنے لگ جائیں گے۔ کشمیر میں حالات معمول پر لانے کیلئے ضروری ہے کہ کشمیریوں کو اعتماد میں لیا جائے اور کھوئے ہوئے اعتماد کو بحال کیا جائے ۔ انہوں نے حکومت ہند پر الزام عائد کیا کہ حکومت ہند کشمیری عوام کو احساس کامیابی و فتح سے بھی محروم رکھنا چاہتی ہے اسی لئے پلیٹ گن سے دستبرداری کے باوجود ان کا استعمال جاری رکھا گیا ہے۔ محمد مبشر الدین خرم اسٹاف رپورٹر روزنامہ سیاست نے اس سمینار کے دوران نظامت کے فراض انجام دیئے۔ سمینار میں کشمیر کے موجودہ حالات سے آگہی کے حصول کیلئے عوام کی کثیر تعداد موجود تھی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT