Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں فوج کی فائرنگ میں دو نوجوان ہلاک

کشمیر میں فوج کی فائرنگ میں دو نوجوان ہلاک

طالبہ کے ساتھ فوجی جوان کی مبینہ بدسلوکی کے بعد تشدد ، ذمہ داران کو سخت سزاء : محبوبہ مفتی

سرینگر ۔ /12 اپریل (سیاست نیوز) سرینگر سے تقریباً 85 کیلو میٹر دور ہندوارا میں فوج کی فائرنگ کے نتیجہ میں دو نوجوان بشمول ایک ابھرتا کرکٹر ہلاک ہوگئے ۔ فوجی عملہ کی جانب سے ایک لڑکی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے خلاف لوگ احتجاج کررہے تھے اور انہوں نے سنگباری شروع کردی ۔ فوج نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کیلئے فائرنگ کی جس میں دو نوجوان ہلاک ہوگئے ۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے کہا کہ نوجوانوں کی ہلاکت میں ملوث سکیورٹی عملہ کو عبرتناک سزاء دی جائے گی اور اس طرح کے واقعات کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ کیونکہ اس سے امن کی بحالی کیلئے ریاستی حکومت کی کوششوں پر منفی اثر مرتب ہورہا ہے ۔ فوج نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ جموں و کشمیر پولیس نے فوجداری مقدمہ درج کرتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ۔ ہندوارہ میں احتجاج مزید شدت اختیار کرگیا ہے اور اس کے اثرات سرینگر اور پلوامہ اضلاع میں بھی دیکھے گئے ۔ گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب مقامی افراد نے ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے خلاف احتجاج کیا ۔ واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس ترجمان نے کہا کہ فوجی جوان کی بدسلوکی کے واقعہ کے اندرون چند منٹ عوام کی کثیر تعداد یہاں جمع ہوگئی

اور انہوں نے ہندوارہ چوک میں فوجی چوکی پر حملہ کردیا ۔ انہوں نے یہاں متعین فوجی عملہ کو نشانہ بنایا اور فوجی چوکی تباہ کردی ۔ اسے آگ لگانے کی کوشش بھی کی گئی ۔ یہاں تعینات سکیورٹی فورسیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا ۔ اس کارروائی میں دو افراد محمد اقبال اور نعیم قادر بھٹ بری طرح زخمی ہوئے ۔ انہیں فوری ہاسپٹل لے جایا گیا لیکن وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو دو نوجوانوں کی موت پر انتہائی افسوس ہے ۔ نعیم گورنمنٹ ڈگری کالج ہندوارہ کا طالبعلم اور ٹاپ آرڈر بیاٹسمین تھا اس نے تین سال قبل انڈر 19 قومی سطح کے کیمپ میں بھی حصہ لیا تھا ۔ نعیم کی کئی تصاویر منظر عام پر آئیں ہیں جن میں اسے جموں و کشمیر کے اسٹار آل راؤنڈر پرویز رسول کے ساتھ نیٹ سیشن میں کھیلتا دکھایا گیا ہے ۔

یہ تصاویر سوشیل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہیں ۔ ایک تصویر میں بھٹ یہاں کرکٹ ٹورنمنٹ کے آغاز سے قبل ایک سینئر پولیس عہدیدار سے مصافحہ کررہا ہے ۔ ہندوارہ کے اس واقعہ کا اثر سرینگر میں دیکھا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ پلوامہ میں بھی تشدد پھوٹ پڑا اور لوگ احتجاج پر اتر آئے ۔ شہر کے حساس علاقوں میں اضافی پولیس تعینات کردی گئی ہے ۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی جو اس وقت دہلی میں ہے ادھم پور کے ناردن فوجی کمانڈر لیفٹننٹ جنرل ڈی ایس ہودا سے اس مسئلہ پر بات کی اور انہیں بتایا گیا کہ فوج نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔
وادی کشمیر میں ہڑتال کے سبب عام زندگی متاثر
سرینگر ۔ 12 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں آج ہڑتال کے سبب عام زندگی پر اثر پڑا ۔ بیرون ریاست کشمیری طلبہ کو مبینہ طورپر ہراساں کئے جانے کے خلاف علحدگی پسند گروپوں نے اس ہڑتال کی اپیل کی تھی ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ سرینگر میں دکانات ، تجارتی ادارے ، پٹرول پمپس اور تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ بینکوں اور سرکاری دفاتر میں حاضری بہت کم رہی ۔ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا ، تاہم پرائیویٹ کاریں ، کیابس اور آٹو رکشا معمول کے مطابق چلتے رہے۔ عہدیداروں نے یہ بھی بتایا کہ وادی کے دیگر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرس سے بھی بند منائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ حریت کانفرنس کے دونوں گروہوں اور جے کے ایل ایف کے بشمول مختلف علحدگی پسند گروپوں نے بیرون ریاست کشمیری طلبہ کو دھمکانے اور ہراساں کرنے نیز مبینہ زدوکوبی کے خلاف بطور احتجاج آج ہڑتال کی اپیل کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT