Tuesday , September 26 2017
Home / سیاسیات / کشمیر میں لا اینڈ آرڈر سے نمٹنے میں احتیاط سے کام لیں گے : محبوبہ مفتی

کشمیر میں لا اینڈ آرڈر سے نمٹنے میں احتیاط سے کام لیں گے : محبوبہ مفتی

جموں؍ سرینگر ، 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وادیٔ کشمیر میں جاری تشدد کے پس منظر میں چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے آج سیول اور پولیس نظم و نسق سے کہا کہ لا اینڈ آرڈر سے نمٹنے میں احتیاط سے کام لیں تاکہ عوام سے اچھی حکمرانی فراہم کرنے کے وعدہ پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کیا جاسکے۔ محبوبہ جنھوں نے محض 12 یوم قبل چیف منسٹر کی حیثیت سے جائزہ لیا ، انھوں نے کہا کہ حکومت کو لا اینڈ آرڈر کے محاذ پر نئے چیلنجوں کا سامنا ہے اور ان پر قابو پالینے کا اعتماد ظاہر کیا اور کہا کہ ریاست میں ترقی کا نیا دور لانے پر پوری توجہ مرکوز کی جائے گی۔ انھوں نے جموں ریجن کے ڈپٹی کمشنرز اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے ساتھ یہاں منعقدہ میٹنگ میں کہا کہ یہ اجلاس وادیٔ کشمیر میں بعض بدبختانہ واقعات کے پس منظر میں منعقد ہورہا ہے۔ دو گھنٹے طویل میٹنگ کے دوران محبوبہ نے پولیس سے کہا کہ بدستور چوکس رہیں اور صورتحال کو بگڑنے نہ دیا جائے تاکہ وہ اس ریاست میں امن قائم رکھنے اور ترقی لانے کے اپنے حقیقی ایجنڈے سے ہٹنے نہ پائیں۔ انھوں نے عہدیداروں سے کہا کہ سرکاری کام کاج کو سہل بنائیں تاکہ عوام وقت ِ مقررہ میں خدمات سے مستفید ہوسکیں۔

دریں اثناء سرینگر سے موصولہ اطلاع کے بموجب سنگباری کرنے والے ہجوم اور سکیورٹی فورسیس کے درمیان پُرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں آج دو نوجوان زخمی ہوگئے۔ ایک پولیس عہدہ دار نے کہا کہ ضلع کپواڑہ کے تریہگام علاقہ میں پرتشدد احتجاجیوں کو منتشر کرنے کیلئے سکیورٹی دستوں نے فائرنگ کی، جس سے دو نوجوانوں یاور رشید اور گوہر مجید کو زخم آئے۔ انھوں نے بتایا کہ دونوں زخمیوں کو سرینگر کے ایک اسپتال سے رجوع کیا گیا ۔ احتجاجیوں نے اس وقت سکیورٹی دستوں پر پتھراؤ شروع کردیا جب نتھنوسا کے مقام پر پولیس نے انھیں روکا اور رکن اسمبلی شیخ عبدالرشید کو واپس بھیج دیا، جو درگمولا کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔ قبل ازیں چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے کشمیر میں مسلسل چوتھے روز کشیدگی کے درمیان منگل سے سکیورٹی فورسیس کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے ملاقات کرتے ہوئے انھیں پُرسہ دیا اور یقین دلایا کہ اُن سے انصاف کیا جائے گا۔ انھوں نے ادعا کیا کہ اس طرح کے واقعات ’’ناقابل قبول‘‘ ہیں۔ محبوبہ کشمیر کے بعض حصوں میں کرفیو جیسی تحدیدات کے درمیان بعض متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ وادیٔ کشمیر بالخصوص کپواڑہ اور ہندواڑہ میں موبائل انٹرنٹ سرویسیس منقطع کردی گئی ہیں۔ ایک پولیس عہدہ دار نے کہا کہ یہ بطور احتیاط کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں عوام کے درمیان رہنا چاہتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ان سلسلہ وار بدبختانہ واقعات سے کافی رنجیدہ ہیں، کیونکہ ان میں چار نوجوان لڑکوں اور ایک معمر خاتون کی جانیں تلف ہوئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT