Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں مزید دو زخموں سے جانبر نہ ہوسکے

کشمیر میں مزید دو زخموں سے جانبر نہ ہوسکے

مہلوکین کی تعداد 47 ، تجرباتی بنیاد پر افسپا منسوخ کرنے چیف منسٹر کی تجویز
سری نگر۔24 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں آج مزید ایک کانسٹیبل اور عام شہری زخموں سے جانبر نہ ہوسکے جس کے بعد بدامنی کے سبب مرنے والوں کی جملہ تعداد 47 ہوگئی ہے۔ پولیس عہدیدار نے بتایا کہ کانسٹیبل مدثر احمد 15 جولائی کو جنوبی کشمیر کے ضلع کلغام میں پولیس اسٹیشن پر کئے گئے حملے میں زخمی ہوگیا تھا۔ وہ آج زخموں سے جانبر نہ ہوسکا۔ اس کے علاوہ ضلع پلوامہ کے پامپور علاقہ میں رہنے والے سمیر احمد وانی کی بھی آج موت ہوگئی۔ وہ ہاسپٹل میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکا۔ 10 جولائی کو پرتشدد جھڑپوں میں وہ زخمی ہوگیا تھا۔ اس دوران چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے کشمیر میں نوجوانوں کو اسلحہ اٹھانے کے لئے اکسانے پر پاکستان کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مرکز سے خواہش کی کہ سکیوریٹی فورسس کو خصوصی اختیارات کا حامل قانون (افسپا) تجرباتی بنیاد پر بعض علاقوں میں منسوخ کیا جائے تاکہ عوام کے دل جیتے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک کشمیری نوجوان ہلاک ہوتا ہے تو پاکستان کے قائدین ہنگامہ کررہے ہیں۔

حالانکہ خود ان کے ملک میں نوجوانوں کو ہلاک کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ مدارس کے بچوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا اور ڈرون کے ذریعہ ان پر حملے کئے جاتے ہیں۔ فوجی عدالتوں میں انہیں پھانسی پر چڑھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ تاثر دے رہا ہے کہ اسے کشمیر کے عوام سے ہمدردی ہے لیکن وہ اس معاملہ میں زیادتی کررہا ہے۔ اگر وہ ہمارے بچوں کو ہتھیار اٹھانے کیلئے اکساتا ہے اور اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ وہ انکائونٹر میں ہلاک ہوجائے تو وہ ایک لیڈر بن جائے گا تو اس کا یہ مطلب ہے کہ زیادتی ہورہی ہے اور اس پالیسی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر جموں و کشمیر نے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کے بعد کہا کہ یہاں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے جرأتمندانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ بعض علاقوں میں تجرباتی بنیاد پر افسپا کو منسوخ کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT