Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں موبائیل فون سروس ایک بار پھرمعطل، انٹرنیٹ خدمات بدستور بند

کشمیر میں موبائیل فون سروس ایک بار پھرمعطل، انٹرنیٹ خدمات بدستور بند

سرینگر ، 12 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں موبائیل فون سروس کو ایک بار پھر معطل کردیا گیا ہے جبکہ موبائیل انٹرنیٹ خدمات 8 اور 9 جولائی سے بدستور معطل ہے ۔ وادی میں اس سے قبل 14 جولائی کو موبائیل فون سروس معطل کی گئی تھی۔تاہم انسانی حقوق کی قومی و بین الاقوامی تنظیموں بالخصوص ایمنسٹی انٹرنیشنل اور مختلف سیاسی جماعتوں کے دباؤ اور وادی سے باہر مقیم کشمیری طلبہ اور تاجروں کے بار بار اصرار کے بعد 26 اور 27 جولائی کی درمیانی رات کو تمام نجی مواصلاتی کمپنیوں کی پوسٹ پیڈ فون خدمات کو بحال کردیا گیا تھا۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پری پیڈ سم کارڈ کی انکمنگ کال سروس بحال کردی گئی تھی۔ سرکاری مواصلاتی کمپنی بی ایس این ایل کی پوسٹ پیڈ موبائیل خدمات کو ایک بار پھر معطلی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے ۔ وادی کے پری پیڈ صارفین نے بتایا کہ اگرچہ اُن کے سم کارڈوں کی آوٹ گوئنگ کال سہولیت پہلے سے ہی معطل تھی، لیکن جمعرات کو رات دیر گئے انکمنگ کال سہولیت کو ایک بار پھر معطل کردیا گیا۔ نجی مواصلاتی کمپنیوں کی پوسٹ پیڈ اور پری پیڈ موبائیل فون سروس کو ایک بار پھر معطل کئے جانے پروادی سے باہر مقیم کشمیریوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔

وادی میں 14 جولائی کو موبائیل فون سروس کی معطلی کے ساتھ ہی بی ایس این ایل پوسٹ پیڈ سم کارڈوں کی بلیک مارکیٹ میں دوگنی قیمتوں پر فروخت کا سلسلہ شروع ہوا تھا ، جو مبینہ طور پر تاحال جاری ہے ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بلیک مارکیٹ کا یہ کاروبار بی ایس این ایل کے اعلیٰ افسران کی ناک تلے کیا جارہا ہے ۔ دوسری جانب نجی مواصلاتی کمپنیوں نے پری پیڈ فون سروس پر عائد پابندی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مجبور لوگوں کو پوسٹ پیڈ سم کارڈوں کی فراہمی کے نام پر لوٹنا شروع کردیا ہے ۔ نجی مواصلاتی کمپنیوں بھارتیہ ائرٹیل، ائرسیل اور ریلائنس نے مجبور صارفین سے پوسٹ پیڈ سم کارڈوں کی فراہمی کے عوض بھاری رقوم بطور ایڈوانس لینا شروع کردیا ہے ۔ لوگوں نے الزام عائد کیا کہ ائرٹیل پوسٹ پیڈ سم کارڈ جو دو ماہ قبل ایک صارف کو محض 350 روپے ایڈوانس کے عوض فراہم کی جاتی تھی، وہی سم کارڈ اب مزید مہینوں کے ایڈوانس کے نام پر 1250 روپے میں فراہم کی جاتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک طرف بی ایس این ایل اپنے پوسٹ پیڈ سم کارڈ صرف سرکاری ملازمین کو فراہم کررہا ہے ، وہیں دوسری طرف بلیک مارکیٹ میں یہی سم کارڈ عام اور مجبور شہریوں کو بلیک مارکیٹ میں 1500 سے دو ہزار روپے میں فراہم کئے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT