Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں کرفیو اور ہڑتال کا ایک ماہ ، عوام کو شدید مشکلات

کشمیر میں کرفیو اور ہڑتال کا ایک ماہ ، عوام کو شدید مشکلات

SRINAGAR, AUG 7 (UNI ):- Attendants in SMHS hospital in a long queue waiting for their turn to collect food being provided by the volunteers on Sunday. UNI PHOTO-54U

دودھ اور سبزیاںعدم دستیاب ، علیحدگی پسندوں کے احتجاج میں توسیع، تشدد میں تاحال54 ہلاک، 6,000 زخمی

سرینگر۔ 7 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وادیٔ کشمیر کے بیشتر حصوں میں کرفیو اور علیحدگی پسندوں کی ہڑتال کے سبب مسلسل 30 دن سے عام زندگی بری طرح مفلوج ہے۔ تشدد میں اب تک 54 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور 6,000 سے زائد زخمی ہوگئے۔ وادی میں حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں سکیورٹی فورسیس کے ساتھ انکاؤنٹر میں ہلاکت کے دوسرے دن 9 جولائی سے تشدد شروع ہوا۔ سرینگر کے 6 پولیس اسٹیشن حدود نوہتا، خانیار، رائنا واری، سفاکدال، مہاراج گنج اور بٹامالو میں کرفیو برقرار ہے۔ پولیس عہدیدار نے بتایا کہ ضلع بڈگام کے دو ٹاؤنس چڈورا اور خان صاحب کے علاوہ کپواڑہ کے دو ٹاؤنس ہنڈوارہ اور لانگیٹ کے علاوہ اننت ناگ ٹاؤن میں بھی کرفیو برقرار ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ وادی کے دیگر تمام علاقوں میں تحدیدات برقرار رکھی گئی ہیں۔ یہاں 4 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی ہے۔ وادی میں ان پابندیوں اور علیحدگی پسندوں کی سکیورٹی فورسیس کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال کے سبب عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔ موبائل، انٹرنیٹ خدمات ساری وادی میں بند ہیں اور پری پریڈ کنکشن رکھنے والوں کو بھی آؤٹ گوئنگ کالس کی سہولت نہیں ہے۔

علیحدگی پسند کیمپ نے کشمیر میں جاری ہڑتال میں 12 اگست تک توسیع کی ہے اور عوام سے کہا ہے کہ وہ اپنے علاقوں اور ہاسپٹلس میں صفائی کی مہم چلائیں۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے وادی میں جاری ہڑتال میں 12 اگست تک توسیع کا اعلان کیا ہے ۔ کسی بھی احتجاجی مظاہرے کی قیادت سے روکنے کے لئے بیشتر علیحدگی پسند قائدین کو اپنے گھروں میں نظر بند رکھا گیا ہے ، یا پولیس تھانوں میں قید کردیا گیا ۔وادی کے اطراف واکناف میں اتوار کو علیحدگی پسند قیادت کے اعلان پر بطور احتجاج ایک روزہ صفائی مہم چلائی گئی جس کے دوران سڑکوں اور اسپتالوں کی صفائی کی گئی۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ ضلع بڈگام میں امن وامان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لئے اس کے چاڈورہ اور خانصاحب میں کرفیو بدستور جاری رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سری نگر کے شہرخاص و ڈاون ٹاون اور جنوبی کشمیر کے قصبہ اننت ناگ میں بھی کرفیو کا نفاذ جاری رکھا گیا ہے ۔وادی کشمیر کے کرفیو زدہ علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو کئی لحاظ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

ایسے علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں نے کہا کہ انہیں اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیکورٹی فورسز دودھ اور سبزی فروشوں کو اُن کے علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔سری نگر کے شہرخاص اور ڈاون ٹاون جہاں 9 جولائی سے کرفیو بدستور جاری ہے ، کے رہائشیوں نے بتایا کہ انہیں اشیائے ضروریہ خاص طور پر ادویات، دودھ، سبزی اور روٹی کی شدید قلت کا سامنا ہے کیونکہ سیکورٹی فورسز دودھ اور سبزی فروشوں کو کرفیو زدہ علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ اِن علاقوں کے مکینوں نے بتایا کہ اگرچہ عوام چاول، دالیں اور دیگر اشیائے ضروریہ کا وافر اسٹاک اپنے گھروں میں رکھتے ہیں، لیکن دودھ اور سبزیوں کو زیادہ سے زیادہ دو دنوں تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے بتایا سبزیوں اور دودھ کی عدم دستیابی کی وجہ سے بہت سے خاندان دوپہر اور رات کے کھانے کے لئے تہری (پیلا چاول) اور چائے کے بدلے کشمیری قہوے پر ہی گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔ مختلف علاقوں میں اب سبزیاں اگانے والے کسان اپنی سبزیاں عوام میں مفت تقسیم کررہے ہیں۔

 

جنوبی کشمیر میں نوجوان کی گولیوں سے چھلنی نعش دستیاب
سری نگر ۔7اگست (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں اتوار کی صبح ایک نوجوان کی گولیوں سے چھلنی نعش برآمد کی گئی ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ23سالہ بلال احمد ملک اتوار کی علی الصبح موٹر سائیکل پر سوار ہوکر کہیں روانہ ہوا۔تاہم بعد میں اُس کی گولیوں سے چھلنی نعش چیوہ کلان نامی گاؤں میں سڑک کے کنارے برآمد ہوئی۔ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بلال کو کس نے ہلاک کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT