Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / کشمیر میں کرفیو جیسی پابندیاں ، کئی قائدین نظربند

کشمیر میں کرفیو جیسی پابندیاں ، کئی قائدین نظربند

سرینگر ۔ 19 اکٹوبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اُودھم پور پٹرول بم حملے میں ٹرک کنڈاکٹر کی ہلاکت کے خلاف بطوراحتجاج آج وادی کشمیر میں ہڑتال منظم کی گئی جہاں حکام نے آٹھ پولیس اسٹیشن حدود میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کردی تھیں اور کئی علحدگی پسند قائدین کو نظربند کیا گیا تھا۔ اننت ناگ اور بج بہارا پولیس اسٹیشن حدود میں عوام کی نقل و حرکت پر پابندی لگادی گئی تھی ۔ ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ کنڈاکٹر زاہد کے جلوس جنازہ سے پہلے عوامی نقل و حرکت پر پابندی لگادی گئی ۔ واضح رہے کہ کنڈاکٹر زاہد 9 دن تک موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا رہا اور کل دہلی کے ہاسپٹل میں وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکا ۔ جیسے ہی زاہد کی موت کی اطلاع ملی ، وادی میں کل عوام احتجاج پر اُتر آئے اور پرتشدد مظاہرے کئے۔ سخت گیر موقف کے حامل حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی اور جموں و کشمیر ڈی ایف پی لیڈر شبیر احمد شاہ کے علاوہ دیگر کئی علحدگی پسندوں کو گھر پر نظربند کردیا گیا تھا ۔ جنوبی کشمیر میں اننت ناگ کے ساکن ایک شخص نے بتایا کہ زاہد اُس ٹرک کا کنڈاکٹر تھا جو کشمیر سے یہاں آرہی تھی اور اسے 9 اکٹوبر کو پٹرول بموں سے حملے کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس ٹرک کا ڈرائیور شوکت احمد بھی ہاسپٹل میں شریک ہے ۔ اس حملے کے سلسلے میں 9 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور پانچ کے خلاف انتہائی سخت پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کیا گیا ہے۔ آج ہڑتال کے دوران کئی مقامات پر احتجاجیوں کی سکیورٹی فورسیس سے جھڑپ ہوگئی ۔ کشمیر میں ریل خدمات روک دی گئی اور جموںتا سرینگر شاہراہ پر بھی احتجاج کی وجہ سے ٹریفک متاثر رہی ۔ ریاست میں کشیدہ صورتحال کے درمیان کابینہ نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے 9 اکٹوبر کو کئے گئے اس حملے کی مذمت کی اور امن و سکون کی برقراری کیلئے ریاستی عوام کی ستائش کی ۔زاہد کا جلوس جنازہ پرامن رہا اور ایک نوجوان کو اس جلوس میں پاکستانی پرچم تھامے ہوئے دیکھا گیا ۔ حکام نے جلوس جنازہ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT