Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / کشمیر میں کشیدہ صورتحال کے باعث شادیوں کی تقریبات میں سادگی، باورچیوں اور دکانداروں کا نقصان

کشمیر میں کشیدہ صورتحال کے باعث شادیوں کی تقریبات میں سادگی، باورچیوں اور دکانداروں کا نقصان

سری نگر ، 11جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں جاری کشیدگی کی لہر کے باعث پہلے سے طے شدہ شادی کی تقریبات انتہائی سادگی کے ساتھ منائی جارہی ہیں جہاں شادیوں میں بے جا اصراف اور فضول خرچی کا رواج عام اور عروج پر ہے ۔ جن لوگوں نے اپنے بچوں کی شادی تقریبات پر لاکھوں روپے خرچہ آنے کا تخمینہ لگا رکھا تھا، کے لئے وادی کے موجودہ حالات ‘شر میں سے خیر جیسا’ ثابت ہورہے ہیں کیونکہ گذشتہ تین روز سے جاری کرفیو جیسی پابندیوں اور مکمل ہڑتال کے باعث انہیں مہمانوں کے لئے ‘کشمیری وازوان’ پر لاکھوں روپے خرچ نہیں کرنے پڑے ۔ کیونکہ بیشتر لوگوں نے دعوت نامے منسوخ کرکے شادی کی تقریبات انتہائی سادگی کے ساتھ انجام دیں۔ تاہم شادیوں کی سادگی کے ساتھ انجام دہی کے باعث گوشت ، چکن ، ڈسپوزل ایبل چیزیں، ٹھنڈے مشروبات، خشک میوے اور وازوان پکانے کے لئے درکار مصالحے بیچنے والے دکانداروں کا نقصان ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ وازوان پکانے والے باورچی جو فی کونٹل گوشت پکانے کے لئے دس ہزار سے پندرہ ہزار روپے لیتے ہیں، کا بھی نقصان ہوا ہے ۔ اگرچہ وادی کے مسلم اسکالر اور علماء پہلے ہی شادیوں میں اصراف اور فضول خرچی کے خلاف فتویٰ جاری کرچکے ہیں، تاہم باوجود اس کے یہاں شادیوں میں وازوان پکانے اور دیگر چیزوں پر لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔وادی کے موجودہ حالات کی وجہ سے شادی کی بیشتر تقریبات سادگی کے ساتھ انجام دی گئی اور لوگوں نے بذریعہ اخباری اشتہارات، فون اور موبائیل پیغامات مہمانوں کو دعوت کی منسوخی کے بارے میں مطلع کیا۔ وادی میں سال 2008 ء اور 2010 ء کی عوامی احتجاجی لہر کے دوران بھی شادی کی تقریبات انتہائی سادگی کے ساتھ انجام دی گئی تھیں۔ گذشتہ تین دنوں کے دوران کشمیر سے شائع ہونے والے اردو اور انگریزی روزناموں میں سینکڑوں ایسے اشتہارات دیکھنے کو ملے جن میں یہ اعلانات کئے گئے تھے کہ ‘شادی کی تقریبات کے تمام دعوت نامے منسوخ کئے گئے ہیں، تاہم نکاح خوانی کی تقریب پروگرام کے مطابق سادگی کے ساتھ منائی جائے گی’۔
حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کے ماموں مولوی منظور نے بھی مقامی روزناموں میں ایک اشتہار کے ذریعہ اعلان کیا ہے کہ ‘اُن کی بیٹی کی شادی کے سلسلے میں تقسیم کئے گئے دعوت نامے منسوخ کئے گئے ہیں، تاہم شادی کی تقریب شیڈول کے مطابق انتہائی سادگی کے ساتھ انجام دی جائے گی’۔ اگرچہ آج سے دو دہائی پہلے شادیوں کے موقع پر صرف پانچ سے سات پکوان تیار کئے جاتے ہیں، تاہم اب پکوانوں کی تعداد بڑھ کر 25 ہوگئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT