Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں ہڑتال کے باعث عام زندگی مفلوج

کشمیر میں ہڑتال کے باعث عام زندگی مفلوج

SRINAGAR, SEP 16 (UNI):- A deserted view of Badshah Chowk in Srinagar on Wednesday, as all the shops and business establishments remained closed due to general strike called in the valley against the killing of three youths in Pattan area in north Kashmir's Baramulla district. UNI PHOTO-15u

تین نوجوانوں کی گولیوں سے چھلنی نعشیں برآمد ہونے کے بعد صورتحال کشیدہ
سرینگر ۔16 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وادیٔ کشمیر میں آج علیحدگی پسند گروپس کی ہڑتال کے باعث عام زندگی بری طرح متاثر رہی۔ تین نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف یہ ہڑتال منظم کی گئی تھی جن کے بارے میں حزب المجاہدین نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان کے کیڈر سے تعلق رکھتے تھے۔ تین نوجوانوں کی گولیوں سے چھلنی نعشیں ضلع بارہمولہ میں پیر کو دستیاب ہوئی تھیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ آج ہڑتال کی وجہ سے دکانات، تجارتی ادارے، پٹرول پمپس، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر اور گرمائی دارالحکومت جموں میں معمول کی سرگرمیاں متاثر رہیں۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں بھی حاضری انتہائی کم تھی۔ پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو سڑک سے ہٹا دیا گیا تھا جبکہ کاریں، آٹو رکشا اور کیابس بعض مقامات پر دیکھی گئیں۔ عہدیداروں کے مطابق وادی کے دیگر ضلع ہیڈکوارٹرس سے بھی اسی طرح کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ علیحدگی پسند گروپس بشمول حریت کانفرنس کے دونوں گروہ اور جے کے ایل ایف نے کل تین نوجوانوں کی ہلاکت کو قتل عام قرار دیتے ہوئے اس واقعہ کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

ان تین نوجوانوں کی نعشیں پیر کو دستیاب ہوئیں جس کے بعد احتجاجیوں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے مابین جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ سخت گیر حریت کانفرنس کے صدرنشین سید علی شاہ گیلانی نے ان ہلاکتوں کو ظالمانہ کارروائی قرار دیا اور کہا کہ اب تک ان ہلاکتوں کے بارے میں واضح صورتحال سامنے نہیں آئی ہے لیکن حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے بعد اس واقعہ میں سرکاری فورسیس کے ملوث ہونے کا امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ حزب المجاہدین نے ایک بیان میں کل کہا تھا کہ یہ تین نوجوان اس کی تنظیم کے ارکان تھے۔ حزب المجاہدین نے اسپیشل آپریشنس گروپ (ایس او جی) کو ’’تحویل میں قتل‘‘ کیلئے موردالزام قرار دیا۔ تاہم پولیس کا یہ موقف ہے کہ دو عسکریت پسند گروپس حزب المجاہدین اور لشکر اسلام  کے مابین داخلی لڑائی میں یہ تینوں ہلاک ہوئے ہیں۔ عبدالقیوم نذر نے حزب المجاہدین سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی علیحدہ تنظیم ’’لشکر اسلام‘‘ قائم کرلی تھی۔ اس گروپ نے جاریہ سال مئی اور جون کے دوران کئی موبائل ٹاورس اور دیگر ٹیلی کمیونیکیشن تنصیبات پر حملے کئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT