Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں 4 انکاؤنٹر ،مداخلت کاری کی کوشش ناکام

کشمیر میں 4 انکاؤنٹر ،مداخلت کاری کی کوشش ناکام

۔4 عسکریت پسند اور ایک پولیس ملازم ہلاک ، وادی میں تازہ جھڑپیں ، پلیٹ گنس کا استعمال

سرینگر۔11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں آج چار علیحدہ انکاؤنٹرس میں ایک ملازم پولیس ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا جبکہ 4 عسکریت پسند مارے گئے۔ تین انکاؤنٹرس تنگدھار، گریز اور نوگام سیکٹرس میں ہوئے جہاں عسکریت پسندوں کی مداخلت کاری کی کوشش ناکام بنادی گئی۔ ایک اور انکاؤنٹر پونچھ میں پولیس کے ساتھ ایک عمارت میں ہوا جہاں عسکریت پسند چھپے ہوئے تھے۔ ایک فوجی عہدیدار نے کہا کہ نوگام سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر چوکس سپاہیوں نے مشتبہ نقل و حرکت دیکھنے کے بعد مداخلت کاروں کو چیلنج کیا جس پر عسکریت پسندوں نے سکیورٹی فورسیس کے ٹھکانوں پر فائرنگ کردی ۔ سکیورٹی فورسیس نے بھی جوابی کارروائی کی۔ عہدیدار نے بتایا کہ چار عسکریت پسند ہلاک ہوئے اور لڑائی کے مقام سے جنگی ساز و سامان جیسی اشیاء برآمد ہوئیں۔ یہ آپریشن کافی دیر تک جاری رہا۔ اس دوران سرینگر میں عوام اور سکیورٹی فورسیس کے درمیان تازہ جھڑپوں میں کئی شہری زخمی ہوگئے۔ پولیس نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں یہ جھڑپیں ہوئیں۔ کریم آباد اور متصل علاقوں کے ہزاروں عوام آج صبح سکیورٹی فورسیس کے مبینہ دھاوؤں کے خلاف بطور احتجاج سڑکوں پر نکل آئے۔ ان احتجاجیوں نے سکیورٹی فورسیس پر سنگباری شروع کردی۔ جواب میں آنسو گیاس کے شیل اور پلیٹ گنس فائر کئے گئے۔ عہدیدار نے بتایا کہ 20 زخمیوں کو شہر کے مختلف دواخانوں میں شریک کرایا گیا ہے۔ اطلاع ملنے تک جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا۔ سی آر پی ایف نے کہا کہ وادی میں کل سے اب تک سنگباری کے واقعات میں 19 ارکان عملہ زخمی ہوئے ہیں۔ سی آر پی ایف نے ٹوئٹ کیا کہ وادی کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سنگباری کے 24 واقعات میں 19 سی آر پی ایف اہلکار زخمی اور ایک سی آر پی ایف گاڑی کو نقصان پہنچا۔
جموں کے ضلع پونچھ میں عسکریت پسندوں کے ساتھ ہوئی جھڑپ میں ایک پولیس ملازم ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ اللہ پیر علاقہ میں جہاں منی سیکریٹریٹ زیرتعمیر ہے ، اس کے قریب یہ لڑائی ہوئی ۔ پولیس نے بتایا کہ علاقہ میں دو یا اس سے زائد عسکریت پسندوں کی موجودگی کا پتہ چلا جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ اس دوران سرینگر کے تین پولیس اسٹیشن حدود میں کرفیو جیسی تحدیدات برقرار ہے اور مابقی وادی میں چار یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی ہے۔ وادی میں بدامنی کے سبب مسلسل 65 ویں دن بھی عام سرگرمیاں مفلوج رہیں۔

TOPPOPULARRECENT