Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / کشمیر پاکستان کا اٹوٹ حصہ : نواز شریف

کشمیر پاکستان کا اٹوٹ حصہ : نواز شریف

حزب المجاہدین کے متوفی رکن برہان وانی کی ستائش، ہندوستان سے کہہ دیا جائے کہ اب بہت ہوچکا
اسلام آباد۔5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر کو پاکستان کا ’’اٹوٹ حصہ‘‘ ہونے کا دعوی کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے آج ہندوستان کی جانب ایک بار پھر انگلیاں اٹھائیں اور حزب المجاہدین کے متوفی رکن برہان وانی کی ستائش کرتے ہوئے انہیں ایک متحرک اور کرشماتی لیڈر قرار دیا۔ یہاں کشمیر پر دو روزہ بین الاقوامی پارلیمانی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے خود مختاری کے حق کے لئے جدوجہد کرنے پر کشمیری عوام کی بھی زبردست ستائش کی اور ان کے جذبہ کو سلام کیا۔ برادران کشمیر کے لئے ہمارے دل مضطرب ہیں اور ان کے لئے تڑپ پائی جاتی ہے۔ ریڈیو پاکستان نے نواز شریف کی تقریر کے حوالے سے کہا کہ کشمیر کے بارے میں نواز شریف نے ہندوستان کو نشانہ بنایا اور عالمی سطح پر زور دیا کہ اب دنیا والوں کو ہندوستان سے یہ کہہ دینے کی ضرورت ہے کہ کشمیر کے تعلق سے اس کی پالیسی کی ضرورت نہیں ہے، اب بہت ہوچکا، لہٰذا کشمیر پاکستان کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ متحرک و کرشماتی کشمیری لیڈر برہان وانی کی شہادت نے تحریک کشمیر کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ نواز شریف نے 8 جولائی کو سکیوریٹی فورسس کی جانب سے وانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں پھوٹ پڑنے والے احتجاج میں کشمیری عوام کے خلاف ’’ہندوستانی جارحیت‘‘ پر اظہار تاسف کیا اور کہا کہ کشمیری عوام کی اس جدوجہد آزادی کے لئے ہماری حمایت ہر پاکستانی کا عزم و ایقان ہے۔ پاکستان کشمیر کی آزادی کے لئے اپنی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی تائید کو جاری و ساری رکھے گا۔ کشمیری عوام کو ان کا جائز حق دلانا ان کی جدوجہد کا ساتھ دینا ہمارا فرض ہے۔

ہم عالمی برادری پر مسلسل دبائو ڈالتے رہیں گے کہ وہ کشمیری عوام کے حقوق کے لئے قدم اٹھائیں۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان نے اہم ممالک کو اپنے خصوصی قاصد روانہ کئے ہیں تاکہ انہیں کشمیر کی صورتحال سے واقف کروایا جاسکے۔ انہوں نے خود بھی اس مسئلہ کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے سیشن سے اپنے خطاب کے دوران اٹھایا ہے۔ اقوام متحدہ میں پیش کردہ اپنے چار نکات کا حوالہ دیتے ہوئے نواز شریف نے پھر ایک بار عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدہ کی تکمیل کیلئے آگے آنے 70 سال قبل کشمیری عوام سے عالمی برادری نے جو وعدہ کیا تھا اس کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد کو بھی روبہ عمل لایا جانا چاہئے۔ کشمیری عوام کی مصیبتیں اور ان کی پریشانیاں یکلخت ختم ہوجانی چاہئے۔ نواز شریف نے گزشتہ سال اکٹوبر میں پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بھی برہان وانی کی ستائش کی تھی۔ اس پر ہندوستان کی جانب سے شدید ردعمل ظاہر کیا گیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نواز شریف دہشت گردی سے وابستہ ہیں۔ نواز شریف نے 21 ستمبر کو بھی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے برہان وانی کی ستائش کی تھی اور اسے ایک نوجوان لیڈر قرار دیا تھا۔ ہندوستان نے اقوام متحدہ میں نواز شریف کی تقریر پر شدید تنقید کی تھی اور اس حرکت کو پاکستان کی جانب سے خودمختاری کی کوشش کرنے کا عمل ہے۔ آج کے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کے مشیرانے خارجی امور سرتاج عزیز نے کہا کہ کشمیر مسئلہ بین الاقوامی عمل کا حصہ ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ ایک جیسا کہا ہے جو اب تک اقوام متحدہ ایجنڈہ میں زیر التوا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT