Monday , September 25 2017
Home / ہندوستان / کشمیر : پولیس فیملیوں پر حملوں کے پس پردہ محکمہ کے بعض داخلی عناصر پر شبہ

کشمیر : پولیس فیملیوں پر حملوں کے پس پردہ محکمہ کے بعض داخلی عناصر پر شبہ

مشتبہ عناصر کا پتہ چلانے آپریشن شروع۔ حالیہ عرصہ میں پولیس ملازمین، ان کے خاندانوں اور سیاسی ورکرس پر حملوں میں اضافہ

سرینگر ۔ 18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر پولیس نے ایسے عناصر کی شناخت کا آپریشن شروع کردیا ہے، جن پر خود محکمہ میں رہتے ہوئے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے اور پولیس فیملیوں کو عسکریت پسندوں سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اگرچہ جموں و کشمیر پولیس کی اعلیٰ قیادت اس مسئلہ پر خاموش ہے لیکن سیکوریٹی نظم و نسق کے ذرائع کا کہنا ہیکہ بعض پولیس والوں کو ان معاملات کی جامع انکوائری کرنے کا کام سونپا گیا ہے جہاں عسکریت پسندوں نے جن کا تعلق زیادہ تر ممنوعہ حزب المجاہدین سے ہے، انسداد شورش پسندی آپریشنس سے وابستہ پولیس  ملازمین کے خاندانوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایک حالیہ واقعہ میں عسکریت پسند شوپیان میں ایک پولیس ملازم کے مکان پر گھس پڑے جسے پلواما میں ایک آفیسر کے پرسنل اسسٹنٹ کی حیثیت سے تعینات کیا گیا ہے۔ اس واقعہ سے وادی میں سیکوریٹی انتظامیہ میں ہلچل پیدا ہوئی۔ عسکریت پسندوں نے انتباہی فائرنگ کرنے کے علاوہ ارکان خاندان کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ پولیس ملازم (شناخت کا انکشاف نہیں کیا گیا) ان کے ساتھی دہشت گردوں کی موت کا ذمہ دار ہے کیونکہ اسی نے ان کے اتہ پتہ کے بارے میں انتظامیہ کو خفیہ اطلاع دی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس واقعہ سے ہلچل مچ گئی کیونکہ یہ معاملہ مبینہ طور پر نہایت راز میں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گرد گروپ پولیس والوں کو زیادہ سے زیادہ نشانہ بنانے لگے ہیں، ان کے خاندانوں اور سیاسی ورکرس کو بھی حالیہ عرصہ میں زیادہ نشانہ بنایا گیا ہے۔

پولیس ملازمین کے خاندانوںکو اس سال مارچ سے دھمکیاں وصول ہورہی ہیں اور اس طرح کے واقعات گذشتہ ہفتے تک تشویشناک سطح تک پہنچ گئے جیسا کہ انسداد شورش پسندی آپریشنس سے وابستہ پولیس والوں کے 14 خاندانوں کو جنوبی کشمیر کے شوپیان اور کھلگام میں نشانہ بنایا گیا۔ اس طرح کے واقعات میں اچانک اضافہ کی وجہ سے پولیس ہیڈکوارٹرس کو انتباہ جاری کرنا پڑا جہاں پولیس والوں سے کہا گیا کہ چند ماہ تک اپنے مکانوں کو نہ جائیں۔ اتوار کو جاری کردہ اڈوائزری میں کہا گیا کہ ان واقعات کے تناظر میں پولیس ملازمین بالخصوص جنوبی کشمیر میں تعینات پولیس پرسونل کو مشورہ دیا گیا ہیکہ اپنے مکانات کو جاتے وقت نہایت محتاط رہیں۔ بہتر تو یہ ہیکہ وہ آئندہ چند ماہ تک اپنے گھروں کو نہ جائیں کیونکہ شخصی سلامتی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ گذشتہ ہفتے جمعہ اور شنبہ کو کھلگام اور شوپیان میں پولیس فیملیوں کو دھمکی سے سارے سیکوریٹی انتظامیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ دو کانسٹیبلس کی شوپیان میں پٹائی کردی گئی جن میں ایک چیف منسٹر محبوبہ مفتی کی حفاظت پر معمور اسپیشل سیکوریٹی گروپ سے وابستہ ہے۔ ان میں سے ایک کانسٹیبل کو شوپیان میں گھسیٹ کر مقامی مسجد لے جایا گیا اور اسے اپنے استعفیٰ کا اعلان لاؤڈ اسپیکر پر کرنے کیلئے مجبور کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT