Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / کشمیر کا سیاسی حل تلاش کرنے میں تاخیر کے تباہ کن اثرات

کشمیر کا سیاسی حل تلاش کرنے میں تاخیر کے تباہ کن اثرات

انتظامی سطح پر صورتحال سے نمٹا نہیں جاسکتا، صدرجمہوریہ مرکز پر دباؤ ڈالیں ، اپوزیشن قائدین کے وفد کی نمائندگی
نئی دہلی۔ 20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن قائدین نے سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ کی زیرقیادت آج صدرجمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کی اور مرکزی حکومت پر کشمیر کے موجودہ بحران کا انتظامی سطح پر نہیں بلکہ سیاسی سطح پر حل تلاش کرنے کیلئے دباؤ ڈالنے کی خواہش کی۔ عمر عبداللہ نے اپوزیشن جماعتوں کے تقریباً 20 قائدین کے وفد کی قیادت کی جس نے صدرجمہوریہ سے ایک گھنٹہ طویل ملاقات کی۔ بعدازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ مرکزی حکومت کی سب سے بڑی غلطی یہی رہی کہ اس نے کشمیر کو سیاسی مسئلہ تسلیم نہیں کیا ۔ اس کی وجہ سے پہلے سے حساس صورتحال مزید ابتر ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صدرجمہوریہ سے خواہش کی ہے کہ وہ مرکز پر دباؤ ڈالیں کہ بلاکسی تاخیر بامقصد اور ٹھوس مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے۔

اس میں تمام فریقین کو شامل رکھا جائے تاکہ ریاست کے سیاسی مسئلہ کو حل کیا جاسکے۔ نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ مرکز کی جانب سے صورتحال سے نمٹنے کے لئے سیاسی پیشرفت سے مسلسل انکار انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس کے ریاست میں امن و استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔سابق چیف منسٹر نے کہا کہ وادیٔ کشمیر میں گزشتہ 42 دن سے جو آگ لگی ہوئی ہے، وہ پہلے ہی جموں علاقہ میں پیرپنجال اور چناب وادی کے علاوہ کارگل کے علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ انہیں حیرت اس بات پر ہے کہ آخر مرکزی حکومت کب بیدار ہوگی جبکہ صورتحال اس قدر سنگین ہوچکی ہے۔ سابق چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں ، انتظامی نوعیت کے انتظامات جیسے پٹرول اور دیگر اشیائے ضروریہ کی فروخت کو روکتے ہوئے احتجاج کچلنے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو صورتحال بہتر بنانے کے لئے جو اقدامات کرنا چاہئے تھا ، اپوزیشن پارٹیاں وہ کام انجام دے رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے ہی پارلیمنٹ میں مباحث کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالا اور اپوزیشن جماعتیں ہی اس مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرنے کیلئے حکومت پر زور دے رہی ہیں۔ عمر عبداللہ نے خبردار کیا کہ ریاست کے عوام کو قریب کرنے اور اس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے سیاسی کوششیں فوری شروع نہ کرنے کے نتیجہ میں وادی میں دوریوں کا احساس مزید بڑھے گا اور مستقبل کی نسلوں پر غیریقینی کیفیت کے سایے منڈلاتے رہیں گے۔ اس وفد میں کانگریس ارکان اسمبلی، ریاستی پردیش کانگریس کمیٹی سربراہ جی اے میر کی قیادت میں شریک تھے۔ ان کے علاوہ سی پی ایم رکن اسمبلی ایم وائی تریگامی اور آزاد رکن اسمبلی حکیم یٰسین وفد میں شامل تھے۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ وفد میں صدرجمہوریہ سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے مرکز کو اس بات سے روکے کہ وادی میں عام شہریوں کے خلاف مہلک ہتھیاروں کا استعمال نہ کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT