Friday , July 28 2017
Home / مضامین / کشمیر کو مزید کتنی خونریزی سہنا باقی ہے؟

کشمیر کو مزید کتنی خونریزی سہنا باقی ہے؟

 

محمد اظہر
مسئلہ کشمیر پر پڑوسی ریاست کے ساتھ تنازعہ تقسیم ہند کے بعد سے ہمیشہ رہا ہے لیکن جموں و کشمیر میں داخلی طور پر دِگرگوں حالات جیسے حالیہ تین برس اور خاص طور پر گزشتہ ایک سال میں ہوچکے ایسی حالت شاید کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اُس وقت بھی نہیں جب سرحدی ریاست میں عسکریت پسندی اپنے عروج پر تھی۔ کسی سرحدی علاقہ میں بیرونی طاقتوں کا خطرہ، دراندازی اور بعض ناراض عناصر کی معاندانہ سرگرمیاں کوئی حیران کن معاملے نہیں مگر جب عام شہریوں کی پے در پے ہلاکت ہونے لگے، ریاست کے داخلی حصوں میں عام زندگی اجیرن بن جائے، آئے دن شہری بطور احتجاج سڑکوں پر آنے لگیں، سکیورٹی فورسیس سے عوام کی جھڑپیں ہونے لگیں اور عملاً حکومتی نظام ٹھپ ہوجائے تو سمجھئے کہ وہاں تباہی کا راج قائم ہوچلا ہے۔ اور یہی کچھ آج کے جموں و کشمیر میں دیکھنے میں آرہا ہے !
ہندوستان کی واحد مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر میں برسہا برس سے جابرانہ و غیرمنصفانہ (AFSPA) کے تحت مسلح فورسیس کو خصوصی اختیارات (جسے تاحال جس طرح استعمال کیا گیا، اسے دیکھتے ہوئے اس کو ظلم و زیادتی کیلئے کھلی چھوٹ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا)، مرکز میں مودی اقتدار کے بعد ریاست میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ ناموزوں گٹھ بندھن اور مخلوط حکومت کی تشکیل … ان سب تبدیلیوں نے مل کر جموں و کشمیر کا ستیاناس کردیا ہے اور اگر محبوبہ مفتی زیرقیادت مخلوط حکومت بدستور مرکز کی سرپرستی میں بی جے پی کیساتھ اپنی میعاد مکمل کرتی ہے تو جموں و کشمیر بلاشبہ ملک کی بدترین داخلی صورتحال والی اُجڑی ریاست بن جائے گی۔ یہ باتیں یونہی موجودہ حکومتوں کی مخالفت میں بے بنیاد نہیں کہے جارہے ہیں۔ جموں و کشمیر میں مئی 2014ء سے دہشت گردی سے متعلق اموات میں 42 فیصد اضافہ اور عام شہریوں کی ہلاکت 164 فیصد بڑھ جانے پر دیگر ہم وطنوں کو تشویش لاحق ہونا ضروری ہے۔
جنوبی کشمیر میں سات امرناتھ یاتریوں کی ہلاکت جموں و کشمیر میں خونریزی کے اعدادو شمار میں تازہ اضافہ ہے۔ ساؤتھ ایشین ٹیررازم پورٹل (ایس اے ٹی پی) سے محصلہ مواد کے تجزیہ کے مطابق جموں و کشمیر میں 30 جون تک گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں 45 فیصد اور شہری اموات میں 164 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 10 جولائی کو غیرشناخت شدہ دہشت گردوں نے تقریباً 8 بجے شب ایک پولیس گاڑی پر فائرنگ کردی۔ جب پولیس نے جوابی کارروائی کی تو دہشت گردوں نے اندھادھند گولیاں برسائیں، اور امرناتھ مندر سے واپس ہورہی یاتریوں کے ساتھ بھرپور بس کئی سمتوں سے فائرنگ کی زد میں آگئی۔ کشمیر پولیس نے اس حملہ کیلئے دہشت گرد گروپ لشکر طیبہ کو مورد الزام ٹھہرا دیا۔
گزشتہ 18 برسوں میں کم از کم 52 امرناتھ یاتری پانچ دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ مہلک ترین حملہ یکم اگست 2000ء کو لشکرطیبہ نے کیا تھا۔ پہلگام میں پیش آئے اُس حملہ میں 21 یاتریوں کی جان گئی تھی۔ تازہ حملہ وادیٔ کشمیر میں کرفیو اور سوشل میڈیا پر پابندی برخاست کرنے کے چند گھنٹوں میں پیش آیا، جب کہ یہ تحدیدات حزب المجاہدین جنگجو برہان وانی کی پہلی برسی کے موقع پر ممکنہ حملہ کے اندیشے پر عائد کئے گئے تھے۔ وانی کو سکیورٹی فورسیس نے ایک سال قبل 8 جولائی 2016ء کو گولی مار دی تھی۔ اس کے بعد سے ابھی تک سارا کشمیر دہلا ہوا ہے اور چند دن بھی سکون سے نہیں گزرے ہیں۔ وانی کشمیر کا جواں سال حرکیاتی نوجوان تھا اور جموں و کشمیر میں متواتر حکومتوں نیز حکومت ہند کے رویے سے ناراض ہوکر شدت پسندی کی راہ پر چل پڑا تھا۔ برہان وانی کی ہلاکت کے ساتھ پرتشدد احتجاجوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس کے نتیجے میں کئی مہینوں تک وادی کے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ رہا، اور جموں و کشمیر کی سکیورٹی صورتحال میں مجموعی دیکھنے ابتری آئی۔ ایس اے ٹی پی کے پاس دستیاب ڈاٹا کے تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ دہشت گردانہ تشدد میں ہلاک سکیورٹی پرسونل کی تعداد وانی کی موت سے قبل کے سال میں 51 سے لگ بھگ دگنی ہوکر اگلے برس 98 ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ پورٹل دہشت گردی کے سبب جانی نقصانات کا ڈاٹا میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر جمع کرتی ہے، اور یہ اعداد و شمار 10 جولائی کے واقعہ تک ہیں۔
عام شہریوں، سکیورٹی ملازمین اور دہشت گردوں کی اموات میں 2015-16ء میں 216 سے 2016-17ء میں 313 تک 45 فیصد کا اضافہ گزشتہ پانچ برسوں میں سال بہ سال تناسب میں اعظم ترین اضافہ ہے۔ شہری اموات کا تناسب 2015-16ء میں 14 سے 2016-17ء میں 37 تک بڑھ گیا، جب کہ اسی مدت کے دوران دہشت گردوں کی ہلاکتیں 18 فیصد سے بڑھ کر 2016-17ء میں غیرمعمولی 178 فیصد ہوئی ہیں۔ مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت مئی 2014ء میں برسراقتدار آنے کے بعد سے جموں و کشمیر میں دہشت گردی سے متعلق اموات میں 42 فیصد اضافہ ہوا، جو کانگریس زیرقیادت یونائیٹیڈ پروگریسیو الائنس (یو پی اے) کی دوسری میعاد کے آخری تین برسوں سے تقابل پر حاصل شدہ تناسب ہے۔

گزشتہ تین سال میں ہندوستان کو دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی اور ڈپلومیسی دونوں محاذ پر کامیابیاں ضرور ملی ہیں۔ جیسے رواں سال 27 مئی کو وانی کے جانشین سبزار بھٹ کو سکیورٹی فورسیس نے اینٹی ٹیررسٹ آپریشن میں ہلاک کیا۔ 27 جون کو امریکہ نے حزب المجاہدین سربراہ سید صلاح الدین کو ’’عالمی دہشت گرد‘‘ نامزد کیا، جو مودی کی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ واشنگٹن، ڈی سی میں میٹنگ سے قبل کا اقدام ہے۔ صلاح الدین متحدہ جہاد کونسل کا سربراہ بھی ہے، جو پاکستان مقبوضہ کشمیر کے باہر سرگرمیاں چلانے والی مخالف ہند دہشت گرد تنظیموں جیسے لشکر طیبہ اور جیش محمد کی اجتماعی تنظیم ہے۔ صلاح الدین نے کھلے طور پر اعتراف کیا ہے کہ ہندوستان کے خلاف حملے انجام دیئے جن میں پٹھان کوٹ، پنجاب میں انڈین ایئر فورس اڈہ پر 2 جنوری 2016ء کا حملہ شامل ہے۔

آرمڈ فورسیس اسپیشل پاورس ایکٹ (AFSPA) کو کشمیر میں 1990ء میں لاگو کیا گیا تھا، جس کے تعلق سے انسانی حقوق گروپوں کا دعویٰ ہے کہ یہ سکیورٹی فورس کو ظالمانہ کارروائیوں پر عملاً کسی بھی قسم کی پکڑ یا جوابدہی سے محفوظ کرتا ہے۔ آج 27 سال گزر چکے، انسانی حقوق تنظیمیں، سماجی ادارے، سیاسی جماعتیں اور عام شہریوں کا مسلسل مطالبہ ہے کہ اس ظالمانہ قانون سے کشمیریوں کو چھٹکارہ دیا جائے لیکن کوئی بھی مرکزی حکومت اس معاملے میں منصفانہ عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دراصل قصور تو خود کشمیریوں کا بھی ہے۔ مفتی فیملی جیسے سیاست داں جب اقتدار کی خاطر خود ہی کشمیر اور کشمیریوں کے مفادات پر مفاہمت کرنے لگیں آج بے حسی کے دور میں کسے پڑی کہ دوسروں کے مفادات کا پاسبان بننے کی زحمت گوارا کرے۔ پی ڈی پی نے تو موجودہ بی جے پی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دیتے ہوئے تاریخی غلطی کی ہے لیکن ماضی میں فاروق عبداللہ زیرقیادت نیشنل کانفرنس اور پردیش کانگریس قیادتوں نے بھی جموں و کشمیر کو سنبھالنے اور ترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے خاطرخواہ اقدامات نہیں کئے۔ اس لئے آخرالذکر پارٹیوں کو یہ دن بھی دیکھنا پڑا کہ علاقہ جموں سے اُن کا صفایا ہوگیا اور وہاں سے بی جے پی نے تمام 25 اسمبلی نشستیں جیت لئے!

TOPPOPULARRECENT