Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / کشمیر کی تاریخی جامع مسجد میں کرفیو کی برخاستگی کے باوجود نماز جمعہ نہیں ہوئی

کشمیر کی تاریخی جامع مسجد میں کرفیو کی برخاستگی کے باوجود نماز جمعہ نہیں ہوئی

SRINAGAR, NOV 4 (UNI) A security personnel stand guard at outside Jamia Masjid during restrictions in down town Srinagar on Friday. UNI PHOTO-8U

فوج نے سخت محاصرہ کیا، دیگر علاقوں میں علیحدگی پسندوں کی ہڑتال کی بناء پر معلومات زندگی ہنوز مفلوج
سری نگر ، 4 نومبر (یو ا ین آئی) وادی کشمیر کی سب سے بڑی عبادت گاہ ‘تاریخی و مرکزی جامع مسجد سری نگر ‘ میں مسلسل سترہویں جمعہ کو بھی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔اگرچہ کشمیر انتظامیہ نے گذشتہ 4 ماہ میں پہلی مرتبہ سری نگر کے پائین شہر میں جمعہ کے موقع پر کرفیو نافذ نہیں کیا، تاہم مسلمانان کشمیر کی اس بڑی عبادت گاہ کا سخت محاصرہ جاری رکھا گیا جس کے باعث اس میں مسلسل سترہویں جمعہ کو بھی نماز کی ادائیگی ممکن نہ ہوسکی۔مورخین کے مطابق 1842 ء کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ جب کسی حکومت نے سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کو مسلسل چار ماہ تک مقفل رکھا۔ سیکورٹی فورسز نے تاریخی جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی مسلسل 17 ویں جمعہ کو ناممکن بنانے کے لئے نہ صرف اسے سخت محاصرے میں لے لیا تھا بلکہ حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کی خانہ نظربندی میں مزید سختی برتتے ہوئے انہیں جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔سیکورٹی فورسز نے جامع مسجد کی طرف جانے والی کئی سڑکوں کی خاردار تار سے ناکہ بندی کی ہے ۔ اگرچہ سرکاری طور پر وادی میں جمعہ کو کرفیو صرف سیول لائنز کے بتہ مالو میں رہا، لیکن علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر ہڑتال کے باعث معمولات زندگی مسلسل 119 ویں دن بھی مفلوج رہے ۔پولیس نے بتایا کہ بتہ مالو کو چھوڑ کر وادی کے کسی بھی دوسرے حصے میں کرفیو نافذ نہیں کیا گیا ہے ، البتہ امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی تعیناتی جاری رکھی گئی ہے ۔تاہم پولیس دعوے کے برخلاف کئی ایک علاقوں بشمول سیول لائنز کی صورتحال بالکل ہی مختلف نظر آئی جن میں سیکورٹی فورسز نے لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لئے سڑکوں کو خاردار تار سے بند کردیا تھا۔ 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جب کشمیر انتظامیہ نے پائین شہر میں علانیہ کرفیو نافذ نہیں کیا۔

وادی میں 9 جولائی سے جاری ہڑتال اور آزادی حامی پروگراموں کی قیادت کررہے علیحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین نے جاری ہڑتال میں 10 نومبر تک توسیع کا اعلان کیا ہے ۔ علیحدگی پسند رہنماؤں نے آج کشمیری عوام کو اپنے متعلقہ ضلع ہیڈکوارٹروں تک مارچ کرنے کے لئے کہا تھا۔ پائین شہر کے دوسرے علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات رکھے گئے تھے ۔ نالہ مار روڑ کا ایک حصہ کئی ایک جگہوں پر خاردار تار سے بند کردیا گیا تھا۔تاہم پائین شہر کے جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا، میں اکا دکا گاڑیاں سڑکوں پر چلتی ہوئی نظر آئیں۔ پائین شہر میں کاروباری سرگرمیاں 9 جولائی سے بدستور مفلوج پڑی ہوئی ہیں، جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر پڑا ہوا ہے ۔ ادھر سیول لائنز میں سیکورٹی فورسز نے تاریخی لال چوک کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو بند کردیا تھا۔ دریائے جہلم پر بنے امیرا کدل برج جو ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ کو تاریخی لال چوک سے جوڑتا ہے ، کو ایک بار پھر بند کردیا گیا تھا۔سری نگر سول سکریٹریٹ سے چند سو میٹر کی دوری پر واقع ‘بتہ مالو’علاقہ میں کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔بالائی شہر میں بھی امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رکھی گئی ہے ۔شمالی کشمیر کے دوسرے حصوں بشمول کپواڑہ، ہندواڑہ، بانڈی پورہ، اجس، پٹن اور پل ہالن میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ جنوبی کشمیر کے اضلاع اننت ناگ، کولگام، پلوامہ اور شوپیان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ان اضلاع میں آج مسلسل119 ویں دن بھی مکمل ہڑتال رہی۔

TOPPOPULARRECENT