Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / کشمیر کی صورتحال ابتر ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

کشمیر کی صورتحال ابتر ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

فوج کے تخلیہ کے بغیر مسئلہ کا حل ناممکن ، او پی ڈی آر ٹیم کا دورہ ، سامبا شیوا راؤ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 17 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : فوج کو ہٹائے بغیر کشمیر کا حل تلاش کرنا ممکن نہیں ، کشمیر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی زندہ مثال ہے ۔ وادی کے مسائل کی یکسوئی کے لیے کیے جارہے اقدامات فوج کی موجودگی سے ناکام ثابت ہورہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار آرگنائزیشن فار پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس ۔ او پی ڈی آر کے ریاستی صدر مسٹر یو سامبا شیوا راؤ نے کیا ۔ جو آج یہاں حیدرآباد میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کو مخاطب تھے ۔ انہوں نے کشمیر کے حالات پر او پی ڈی آر کی جانب سے کی گئی فیاکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا تذکرہ کیا ۔ رپورٹ 15 نومبر کو دہلی میں پیش کی گئی تھی ۔ او پی ڈی آر کی 7 رکنی ٹیم نے 10 تا 12 نومبر تک جموں کشمیر کا دورہ کیا اور وہاں مختلف تنظیموں اور انسانی حقوق کے قائدین و سماجی کارکنوں سے بات چیت کی ۔ اس موقع پر مسٹر سامبا شیوا راؤ نے بتایا کہ کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کا سنجیدہ اقدام فوج کی علاقہ سے دستبرداری ہونی چاہئے ۔ کشمیریوں کی تحریک کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے ہندو توا طاقتیں انہیں تنہا کررہی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر میں 8 تا 10 ہزار نوجوان پر اسرار طور پر لاپتہ ہیں ۔ جنہیں گمشدہ قرار دیا جارہا ہے ۔ وادی میں حقوق کا تحفظ نہیں ہے جو گذشتہ 4 ماہ سے ہڑتال پر ہیں ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بچوں ، جوانوں اور ضعیف افراد و خواتین پر فوج ظلم کرنے اور گولیاں چلانے سے گریز نہیں کرتی اور خواتین کی عصمت کو لوٹا جارہا ہے ۔ تلاشی کے نام پر فوج کچھ بھی کرنے کے اختیارات رکھتی ہے ۔ کشمیریوں کی نظر میں موجودہ حکومت کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ موجودہ دور میں اگر چناؤ کروایا جائے توکسی امیدوار کی ضمانت تک نہیں بچ پائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ 8 جولائی کو برہان وانی کا انکاونٹر ہوا اور اس انکاونٹر کے بعد ہی ہڑتال و احتجاج شروع ہوا لیکن ایسا نہیں ہے کشمیری عوام ایک ماہ قبل ہی سے احتجاج اور ہڑتال پر تھے ۔ کشمیر کے حالات اتنے ابتر ہیں کہ موجودہ حکومت برائے نام ہے اور فوج کی اجارہ داری اور اختیارات بربریت سے کم نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر کے حقائق کچھ اور ہیں اور بتایا کچھ اور جارہا ہے ۔ انہوں نے میڈیا کے رول پر بھی سوالیہ نشان لگایا اور کہا کہ کاش میڈیا اگر چاہے تو کشمیری عوام اور ان کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیری عوام ڈر اور خوف میں زندگی بسر کررہے ہیں اور انہیں نہ ہی بھارت اور نہ ہی پاکستان پر بھروسہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سہ رخی بات چیت ہی کشمیر کے مسئلہ کو حل کرسکتی ہے ۔ اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ سابق قرار دادوں اور معاہدات کی بنیاد پر بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیری عوام کو رکھتے ہوئے مسئلہ کا حل تلاش جو کامیاب ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے اپنے دورے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں ایرپورٹ سے باہر نکلنے کے بعد ہر جگہ ہر فرلانگ کے فاصلہ پر 4 فوجی موجود ہیں اور وادی میں سات لاکھ 50 ہزار فوج موجود ہے جو کشمیریوں کی زندگیوں کو تباہ کررہے ہیں ۔ انہوں نے کشمیری عوام کی خواہشات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو پنڈتوں کی علحدہ بستیوں سے اعتراض ہے جب کہ وہ ان کے قدیم مقامات پر بسنے کے مخالف ہیں ۔ کشمیری پنڈتوں کو فوج کے گھیرے میں تحفظ فراہم کیا جارہا ہے جب کہ مسلمانوں پر گولیاں داغی جارہی ہیں ۔ انہوں نے بارہمولہ اور اننت ناگ ضلع کے تجربات بیان کئے اور بتایا کہ کشمیری مسلمان ان علاقوں میں کشمیری پنڈتوں دوکانات کھلے رکھنے کی اجازت دے رہے ہیں اور پنڈتوں اور مسلمانوں کے درمیان خوشگوار تعلقات پائے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کشمیر سے فوج کو فوری ہٹا لینے کا مطالبہ کیا اور انسانی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے کشمیریوں کو ان کے جائز حقوق فراہم کرنے کی مانگ کی اور سہ رخی بات چیت کے ذریعہ مسئلہ کا حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس موقع پر سکریٹری تلنگانہ یونٹ او بی ڈی آر مسٹر نرسمہا ریڈی اور انسانی حقوق تنظیم کے قائد مسٹر بالراج و دیگر موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT