Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / کشمیر کی صورتحال سے صدرجمہوریہ کو واقف کرانے کا فیصلہ

کشمیر کی صورتحال سے صدرجمہوریہ کو واقف کرانے کا فیصلہ

وادی کی اپوزیشن پارٹیوں کا اجلاس، پرنب مکرجی سے مشترکہ نمائندگی کرنے پر غور
سرینگر ۔ 17 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر کی اپوزیشن پارٹیوں نے آج اپنا اجلاس منعقد کیا اور یہ فیصلہ کیاکہ وادی کشمیر میں پائی جانے والی صورتحال اور سنگین کیفیت سے صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کو واقف کروایا جائے۔ اس خصوص میںاپوزیشن پارٹیوں نے وفد کی شکل میں دہلی پہنچ کر صدرجمہوریہ سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ وفد سیکوریٹی فورس کی جانب سے طاقت کے بیجا اور من مانی استعمال کے الزامات کی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کے ذریعہ تحقیقات کرانے کا بھی مطالبہ کرے گا۔ نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے اپنی رہائش گاہ پر اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے صدرجمہوریہ سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان سے مل کر ہم وادی کشمیر کی صورتحال اور بنیادی حالات سے واقف کروائیں گے۔ ہم مرکزی حکومت پر زور دیں گے کہ وہ وادی میں صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد کریں۔ اس مسئلہ میں فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کا وفد دہلی جائے گا اور وادی کشمیر کے تمام دعویداروں سے بات چیت کرنے پر زور دے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وادی کشمیر میں جاری بدامنی کی کیفیت کے پیچھے پاکستان کا رول ہے۔ وادی میں ہر مسئلہ بگڑتا جارہا ہے اور اس کو حل کرنے کیلئے درست طریقہ سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

اپوزیشن پارٹیوں کے اجلاس میں جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی صدر جی اے میر کے بشمول کانگریس کے کئی قائدین نے شرکت کی ان کے علاوہ سی پی آئی ایم رکن اسمبلی تلگام محمد یوسف تاریگامی، آزاد رکن اسمبلی حکیم محمد یٰسین، شیخ عبدالرشید اور سابق وزیر غلام حسن میر بھی شریک تھے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں نے فوج کی ظلم و زیادتیوں کے الزامات کی ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا۔ اس صورتحال پر غوروخوض کرنے کیلئے اسمبلی کا خصوصی سیشن بھی طلب کرنے پر زور دیا۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے 15 اگست کی اپنی تقریر میں ازخود کہا تھا کہ سیکوریٹی فورس میں بعض عناصر نے ہدایت کو نظرانداز کردیا اور احتجاج کے دوران حد سے زیادہ صبروتحمل کا مظاہرہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس لئے اب وقت آ گیا ہیکہ اس صورتحال کی جامع تحقیقات کروائی جائے۔ سیکوریٹی فورس کے ہاتھوں وادی کشمیری نوجوان ہلاک ہورہے ہیں یا انہیں زخمی کردیا جارہا ہے اور ریاستی و مرکزی حکومتیں صورتحال سے لاپرواہی کے ساتھ نمٹ رہی ہیں۔ ہم کو جموں و کشمیر کی سیاسی نوعیت کی بھی فکر لاحق ہوگئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT