Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / کشمیر کی صورتحال پر سکریٹری جنرل اقوام متحدہ بانکی مون کا اظہار ِتشویش

کشمیر کی صورتحال پر سکریٹری جنرل اقوام متحدہ بانکی مون کا اظہار ِتشویش

U.N. Secretary-General Ban Ki-moon gestures during a press conference at the United Nations headquarters in Geneva, Switzerland Friday, Dec. 12, 2008. Ban says the latest "very sobering" assessment of the World Bank underscores the world's economic problems. The world should act with great urgency and compassion to ease economic distress. (AP Photo/Anja Niedringhaus)

فریقین سے صبر و تحمل کی اپیل ، راج ناتھ سنگھ کا مجوزہ دورۂ امریکہ ملتوی ، سی پی ایم پارلیمنٹ میں مسئلہ اٹھائے گی
اقوام متحدہ ؍ نئی دہلی 12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ہلاکتوں اور کشمیر میں جھڑپوں کے دوران زخمی ہوجانے کے واقعات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سربراہ بانکی مون نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ ’’اعظم ترین تحمل‘‘ اختیار کریں تاکہ مزید تشدد سے گریز کیا جاسکے اور اُمید ظاہر کی کہ تمام اندیشوں کا ازالہ پرامن طریقوں سے کیا جائے گا۔ بانکی مون کے ترجمان ڈوجارک نے کہاکہ بانکی مون کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور حالیہ جھڑپوں میں کئی افراد کی ہلاکت اور دیگر کئی کے زخمی ہوجانے پر اظہار افسوس کرتے ہیں۔ اسٹیفن ڈوجارک نے کہاکہ کشمیر میں جھڑپوں سے تقریباً 24 افراد ہلاک اور 250 سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں اور یہ تمام بانکی مون کے لئے تشویش کی وجہ ہے۔ قبل ازیں جنوبی سوڈان کی صورتحال کے بارے میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کردیا تھا اور وہاں کی صورتحال کا کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا۔ انھوں نے کہاکہ اُن کے خیال میں کشمیر کی صورتحال پر اندیشوں سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ یہ حقیقت ہے کہ سکریٹری جنرل نے یہ مسئلہ نہیں اُٹھایا ہے لیکن کئی دیگر اہم حالات میں دنیا بھر میں اُنھوں نے اِس مسئلہ کو نظرانداز کردیا لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اِسے بالائے طاق رکھتے ہیں۔ کشمیر میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

جھڑپوں کا احتجاجیوں اور فوج کے درمیان آغاز ہوچکا ہے۔ گزشتہ ہفتہ برہان وانی کی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے اپنا دورہ امریکہ ملتوی کردیا ہے تاکہ ہند ۔ امریکہ اندرون ملک صیانتی مذاکرات میں جو آئندہ ہفتہ مقرر تھے شرکت کرسکیں۔ وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے آئندہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں مرکزی وزیرداخلہ کے 18 جولائی سے مصروف پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اِسی وجہ سے اُنھوں نے اپنا دورہ ملتوی کردیا ہے۔ تاہم کشمیر میں بے چینی بھی اِس کی ایک وجہ ہے۔ نئی تواریخ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ یہ ماہ سپٹمبر میں اُسی وقت ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی بیرونی دورہ پر ہیں۔ مرکزی وزیرداخلہ ملک کی اندرونی سلامتی کے ذمہ دار ہیں اور مرکزی حکومت کی جموں و کشمیر میں معمول کے حالات بحال کرنے کی کوششوں کی قیادت کررہے ہیں۔ بی جے پی زیرقیادت حکومت پر قیمتوں میں اضافہ اور کشمیر کی صورتحال پر دباؤ ڈالنے کے مقصد سے سی پی آئی ایم پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وقفہ سوالات ملتوی کرنے کا مطالبہ کرے گی تاکہ مانسون اجلاس کے پہلے ہی دن افراط زر کے مسئلہ پر بحث کی جاسکے۔ پارٹی مختصر مدتی مباحث کا مطالبہ کرے گی جو وادیٔ کشمیر کی دھماکو صورتحال کے بارے میں ہوگی۔ یہاں حزب المجاہدین کے عسکریت پسند کی گزشتہ ہفتہ انکاؤنٹر میں ہلاکت کے بعد فوج اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔ قیمتوں میں اضافہ کے مسئلہ پر سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری راجیہ سبھا میں تحریک التواء پیش کریں گے۔ پارٹی کے سینئر قائد محمد سلیم لوک سبھا میں تحریک التواء پیش کریں گے۔ پارلیمنٹ کا اجلاس امکان ہے کہ 18 جولائی سے 12 اگسٹ تک ہوگا۔ بائیں بازو کی پارٹی فی الحال ایک ہفتہ طویل ملک گیر احتجاج کا پروگرام بنارہی ہے جو قیمتوں اور بے روزگاری میں اضافہ کے خلاف کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT