Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / کشمیر کے انتہائی پیچیدہ مسئلہ کو حل کرنے تعاون طلب

کشمیر کے انتہائی پیچیدہ مسئلہ کو حل کرنے تعاون طلب

حکومت کا راجیہ سبھا میں آج مباحث سے اتفاق ، پلیٹ گنس کا استعمال روکنے اور کل جماعتی وفد روانہ کرنے اپوزیشن کا مطالبہ
نئی دہلی ۔ 9 اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام) متحدہ اپوزیشن کے مسلسل اصرار پر حکومت نے راجیہ سبھا میں کشمیر کی صورتحال پر کل مباحث سے اتفاق کیا ہے اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اس پیچیدہ مسئلہ کو حل کرنے کیلئے تمام طبقات کی تائید طلب کی ۔ اپوزیشن قائدین بشمول کانگریس ، سی پی آئی (آیم) ، ایس پی اور جنتادل (یو) نے وادی کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصہ سے کرفیو کی برقراری پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے احتجاجیوں پر پلیٹ گنس کے استعمال کو روکنے اور عوام کے تمام طبقات سے بات چیت کیلئے پارلیمانی وفد روانہ کرنے کے علاوہ کل جماعتی اجلاس کا مطالبہ کیا۔ وقفۂ صفر کے دوران اپوزیشن نے جب یہ مسئلہ اُٹھایا تب وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ ایوان میں آئے اور قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد سے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر کل مباحث کریں گے ۔ ڈپٹی چیرمین پی جے کورین نے کہاکہ جب دونوں فریق اس معاملے پر بحث سے اتفاق کررہے ہیں تو پھر کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوگا ۔ راجناتھ سنگھ نے یہ اعتراف کیا کہ صورتحال سنگین ہے اور انھوں نے تمام فریقین سے اس پیچیدہ مسئلہ کو حل کرنے میں مدد کی خواہش کی۔

قبل ازیں غلام نبی آزاد نے وادی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کرفیو 31ویں دن میں داخل ہوگیا ہے ۔ ہم اس صورتحال کیلئے حکومت کو مورد الزام قرار دینا نہیں چاہتے بلکہ ہم صورتحال پر قابو پانے مدد کیلئے تیار ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ بے قصور خواتین و بچے مر رہے ہیں ۔ آپ کی سکیورٹی فورسیس بھی مررہی ہے ، آخر آپ مباحث سے فرار کیوں اختیار کررہے ہیں ؟ انھوں نے کہاکہ آپ صرف تماشہ کیوں دیکھ رہے ہیں ؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کشمیر میں 2008 ء اور 2010 ء میں بھی جب وہاں عمر عبداﷲ کی حکومت تھی وہاں صورتحال خراب ہوگئی تھی ۔ غلام نبی آزاد نے کہاکہ اندرون ایک یا دو یوم دہلی میں کل جماعتی اجلاس طلب کیا جائے اور ایک وفد کشمیر روانہ کیا جائے کیونکہ سارا ملک صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ۔ سیتارام یچوری (سی پی آئی ایم ) نے جاننا چاہا کہ آخر کشمیر کو وفد روانہ کیوں نہیں کیا جارہا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ خدارا 12 اگسٹ کو ہی ایک وفد روانہ کیجئے اور پلیٹ گنس کا استعمال روکنے کا اعلان کیجئے ۔

انھوں نے کشمیر میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے سیاسی عمل شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شردیادو (جنتادل یو) نے کشمیر کے تعلق سے حکومت کا لائحہ عمل معلوم کرنا چاہا اور کہا کہ سارے ملک کو اس پر تشویش ہے ۔ انھوں نے پلیٹ گنس کا استعمال فوری روکنے کا مطالبہ کیا ۔ رام گوپال یادو (سماج وادی پارٹی ) نے کہاکہ عوام یہ پوچھیں گے کہ ہم کیا کررہے تھے ؟ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کا ایک حصہ جل رہا ہے اور اس کے اثرات سارے ملک پر مرتب ہورہے ہیں لہذا ایک وفد کشمیر روانہ کیا جائے ۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے بھی اس مسئلہ پر فوری مباحث کا مطالبہ کیا اور دلتوں کے بارے میں وزیراعظم کے بیان پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے اسے سیاسی مفادات پر مبنی قرار دیا ۔ منسٹر آف اسٹیٹ پارلیمانی اُمور مختار عباس نقوی نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر کل مباحث ہوسکتے ہیں اور حکومت بھی یہی چاہتی ہے کہ کشمیر کی ترقی کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے ۔

 

وادی کشمیر میں 32 دن سے کرفیو جاری
سرینگر ۔ 9 اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام) کشمیر کے کئی علاقوں میں آج 32 ویں دن بھی کرفیو اور مابقی حصوں میں تحدیدات برقرار رہیں۔ وادی میں عام حالات کسی حد تک بہتر ہونے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں اور فوج کی جانب سے پولیس و پیراملٹری عملے کی معاونت کی جارہی ہے ۔ پولیس کے عہدیدار نے بتایا کہ سرینگر شہر کے مختلف پولیس اسٹیشن حدود اور اننت ناگ ٹاؤن میں کرفیو برقرار ہے ۔ کل سنگباری کے معمولی واقعات پیش آئے ۔ تاہم آج کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا ۔ تشد دمیں اب تک 55 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوچکے ہیں۔ وادی میں مسلسل 32 ویں دن بھی عام زندگی بری طرح مفلوج ہے اور علحدگی پسندوں نے سکیورٹی فورسیس کی کارروائی میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال جاری رکھی ہے ۔ اس ہڑتال میں 12ا گسٹ تک توسیع کی گئی۔ سڑکوں پر ٹریفک مسدود رہی اور اسکولس ، کالجس ، تجارتی ادارے بند رہے ۔ اس کے علاوہ موبائیل ، انٹرنیٹ خدمات بھی منقطع ہیں۔

TOPPOPULARRECENT