Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / کشمیر کے تشدد میں نیشنل کانفرنس کا ہاتھ

کشمیر کے تشدد میں نیشنل کانفرنس کا ہاتھ

علحدگی پسندوں کی تائید پر چیف منسٹر محبوبہ مفتی کا ردعمل
سرینگر، 6دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیان سے عیاں ہوگیا ہے کہ اُن کی جماعت کا کشمیر میں گذشتہ پانچ ماہ سے جاری ایجی ٹیشن میں رول تھا۔انہوں نے نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ جماعت اقتدار کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے ‘۔ منگل کو یہاں ایک تقریب کے حاشئے پر محترمہ مفتی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ‘فاروق صاحب نے کل جو بیان دیا اور اپنے ورکروں سے کہا کہ وہ حریت کا پورا سپورٹ کرے ۔ اس سے یہ بات پوری طرح سے ثابت ہوجاتی ہے ، جس کا ہم نے آج تک کبھی ذکر نہیں کیا کہ نیشنل کانفرنس کرسی حاصل کرنے کے لئے کسی حد تک جاسکتی ہے ‘۔خیال رہے کہ نیشنل کانفرنس صدر اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پیر کو اپنے والد مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی 111ویں سالگرہ کے سلسلے میں سری نگر کے مضافاتی علاقہ نسیم باغ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علیحدگی پسند رہنماؤں سے متحد ہوکر کشمیر کی موجودہ تحریک کو آگے لے جانے کی اپیل کی۔فاروق عبداللہ نے علیحدگی پسند رہنماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ‘میں ان حریت رہنماؤں سے کہتا ہوں کہ وہ متحد ہوجائیں۔ ہم نے اس تحریک کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمیں اپنا دشمن مت سمجھو’۔محبوبہ مفتی نے اس بیان کے ردعمل میں نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ گذشتہ پانچ ماہ کے دوران رونما ہونے والے تشدد کے واقعات میں این سی کا ہاتھ رہا ہے ۔انہوں نے کہا ‘پچھلے چار پانچ مہینوں کے دوران جو یہاں پر ماحول چلااور اس میں جو مجرمانہ عناصر گھس گئے جنہوں نے گاڑیوں پر پتھر مارے ، جنہوں نے اسکول جلائے اور جنہوں نے کیمپوں پر حملہ کیاتو کہیں نہ کہیں فاروق صاحب نے جو کل بیان دیا ، اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اُن کی جماعت نیشنل کانفرنس اس قسم کے کاروائیوں میں شامل تھی اور اب جب کہ حالات سدھر رہے ہیں، بچے اسکول جارہے ہیں ، تھوڑا سا سیاحت بھی پٹری پر لوٹ آیا ہے ، ماحول ٹھیک ہورہا ہے تو فاروق صاحب نے اپنے ورکروں کو کل ایک بار پھر یہ حکم دیا کہ آپ دوبارہ یہ ماحول پیدا کرے جس کے ذریعے جموں وکشمیر کے حالات پھر سے تتربتر ہو’۔

TOPPOPULARRECENT