Saturday , August 19 2017
Home / اداریہ / کشمیر کے حالات اور پاکستان

کشمیر کے حالات اور پاکستان

کیا بات کوئی اس بت عیار کی سمجھے
بولے ہے جو مجھ سے تو اشارات کہیں اور
کشمیر کے حالات اور پاکستان
سرحدی ریاست جموں و کشمیر میں حالات تشویش کا باعث ہیں۔ ہر گذرتے دن کے ساتھ تشدد کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے ۔ جہاں سکیوریٹی فورسیس کی کارروائیاں کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہیں وہیں عوام کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ ریاست میں حالات کو بہتر بنانے کیلئے ضروری ہے کہ صبر و تحمل سے کام لیا جائے ۔ ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جس کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ ملک کے دستور و قانون کی بالا دستی یقینی ہو بلکہ ریاست کے عوام کا اعتماد بھی بحال ہوسکے ۔ جب تک یہ دونوں کام نہیں ہونگے اس وقت تک حالات کو بہتر بنانے میں مدد نہیں مل سکتی ۔د اخلی سطح پر جو اقدامات ہونے چاہئیں یا ہو رہے ہیں ان سے قطع نظر ریاست کے حالات میں پاکستان کی غیر ضروری مداخلت کی کوششوں کے نتیجہ میں مزید ابتر ہوتے جا رہے ہیں ۔ پاکستان کسی طرح مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورمس میں موضوع بحث بناتے ہوئے ہندوستان کے خلاف رائے ہموار کرنا چاہتا ہے لیکن اس کوشش میں اسے کامیابی ملتی نظر نہیں آتی اور نہ ہی اسے آئندہ کسی کامیابی کی امید ہونی چاہئے ۔ بین الاقوامی سطح پر یہ واضح ہوچکا ہے کہ پاکستان راست یا بالواسطہ طور پر کشمیر کے حالات میں بگاڑ کا ذمہ دار ہے ۔ اس کے علاوہ وہ کشمیر میں پیش آنے والے واقعات پر غیر ضروری فریق بننے کی کوشش کر رہا ہے جس کا اسے نہ کوئی حق ہے اور نہ ہی اس کا کوئی جواز ہوسکتا ہے ۔ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اورا سی طرح کشمیری عوام ہندوستانی ہیں اور یہاں جو بھی حالات پیش آ رہے ہیں وہ ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے ۔ اس میںکسی تیسرے ملک یا فریق کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور نہ کسی کو ایسا کرنے کا کوئی حق حاصل ہے ۔ پاکستان محض حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں خود مسئلہ کو مزید پیچیدہ اور نزاعی بنانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اس مسئلہ کو حقوق انسانی سے مربوط کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے ۔ یہاں ہونے والی فائرنگ اور دوسرے واقعات پر بین الاقوامی فورمس کی توجہ مبذول کروانے میں مصروف ہوچکا ہے جبکہ اسے ایسا کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ ہندوستان اپنی ریاست میں پیش آنے والے حالات سے نمٹنے کی کامل صلاحیت رکھتا ہے ۔
پاکستان کی روایت رہی ہے کہ وہ وقفہ وقفہ سے کشمیر کے مسئلہ کو بین الاقوامی فورمس میں موضوع بحث بناتا رہا ہے ۔ چاہے یہ اقوام متحدہ ہو یا دوسرے بین الاقوامی ادارے ۔ اس نے اس بات سے بھی سبق حاصل نہیں کیا ہے کہ اب تک کی جانے والی اس کی یہ کوششیں ناکام ہی ثابت ہوئی ہیں۔ اب کشمیر میں ایک مبینہ عسکریت پسند کی ہلاکت پر پاکستان نے اسے شہید قرار دیدیا ہے اور پاکستان میں ریلی منعقد کی جا رہی ہے ۔ یوم سیاہ منایا جا رہا ہے ۔ یہ سب کچھ کشمیری عوام سے دکھاوا ہے اور بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے ۔ کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان نے جو کچھ بھی اپنے بس میں ہوسکتا ہے کیا ہے لیکن اسے عالمی سطح پر کوئی قبولیت حاصل نہیں ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ دوسرا انداز اختیار کرنے جا رہا ہے ۔ خود پاکستان میں جو حالات ہیں وہ انتہائی دگرگوں ہیں۔ اس کی سرحدات محفوظ نہیں ہیں ۔ سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندوں اور تخریب کاروں کی آماجگاہیں ہیں۔ اس کے شہروں میں رہنے والے عوام محفوظ نہیں ہیں۔ پرہجوم مقامات اور عبادتگاہوں میں حملے ہو رہے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندوں و تخریب کاروں کا عملا کنٹرول ہے ۔ پاکستانی عوام اس لعنت سے نالاں ہیں ۔ ان حالات پر توجہ دیتے ہوئے انہیں بہتر بنانے کی کوشش کرنے کی بجائے پاکستان اور وہاں کی حکومت ہندوستان کے داخلی معاملات پر غیر ضروری تشویش ظاہر کرنے میں جٹی ہوئی ہیں ۔ یہ خود اپنے ملک کے عوام کی توجہ ہٹانے اور انہیں غیر متعلقہ مسائل میں الجھانے کی کوشش ہے ۔
کشمیر کے حالات یقینی طور پر اطمینان بخش نہیں ہیں ۔ وہاں امن بحال ہونا چاہئے ۔ عوام کو راحت نصیب ہونی چاہئے اور اس کیلئے خود جموں و کشمیر کی حکومت اور مرکزی حکومت دونوں ہی کوششیں کر رہے ہیں۔ قیام امن کیلئے مختلف ایجنسیاں سرگرم ہیں۔ یہ سب کچھ ہندوستان کا اپنا داخلی معاملہ ہے اور ہندوستان اپنے ہر داخلی مسئلہ کو حل کرنے کی کامل صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس پر کسی تیسرے فریق یا ملک کو مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور نہ اس کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ کو مزید پیچیدہ بنانے اور عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنے کی اپنی کوششوں کو ترک کردے ۔ اس سے نہ اسے کچھ حاصل ہونے والا ہے اور نہ وہ یہاں کچھ کہنے کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔ اسے اپنے مسائل پر توجہ کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT