Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / کشمیر کے حالات بگاڑنے میں پاکستان کا اہم رول

کشمیر کے حالات بگاڑنے میں پاکستان کا اہم رول

پڑوسی ملک کو ہندوستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ۔ وزیر داخلہ کا بیان
نئی دہلی 21 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر میں حالیہ کشیدگی میں پاکستان نے اہم رول ادا کیا ہے اور وہ ہندوستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے یہ بات بتائی ۔ وزیر داخلہ نے لوک سبھا میں اظہارخیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ وادی میں صورتحال بتدریج معمول کی سمت لوٹ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے وہاں حالات کو بگاڑنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کو ہوا دینے میں اہم رول ادا کیا ہے اور ہندوستان میں جو دہشت گردی پھیل رہی ہے وہ پاکستان کی اسپانسر کردہ ہے ۔ حزب المجاہدین کے دہشت گرد کی کشمیر میں ہلاکت پر پاکستان میں منائے گئے یوم سیاہ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کو ہندوستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ تاہم وہ اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے ایسا کر رہا ہے کیونکہ اس کے اپنے ملک میں لوگ فرقوں کی اساس پر لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان میں کوئی دہشت گردی ہوتی ہے تو یہ پاکستان کی اسپانسر کردہ ہے ۔ انہوں نے لوک سبھا میں یہ بھی اعلان کیا کہ ایک ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی جائیگی جو کشمیر میں استعمال کئے جانے والے بندوقوں کے متبادل کی سفارش کریگی ۔ یہ ایسا ہتھیار ہے جس سے عوام کو شدید زخم آ رہے ہیں اور ان کی وجہ سے کشمیر میں احتجاجی بینائی سے محروم ہو رہے ہیں۔ کشمیر میں بے چینی پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ کمیٹی اندرون دو ماہ اپنی رپورٹ پیش کریگی ۔ انہوں نے کچھ ارکان کے ان اندیشوں کو بھی مسترد کردیا کہ وادی میں دہشت گردی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے ۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ سکیوریٹی فورسیس کی جانب سے مزید دہشت گردوں کو ختم کرتے ہوئے اس میں کمی لائی گئی ہے ۔

انہوں نے دعوی کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سکیوریٹی فورسیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ انتہائی صبر و تحمل سے کام لیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بات سے کوئی انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کہ کسی نے کوئی غلطی کی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ وہاں زندگیوں کا جو اتلاف ہوا ہے اور جو لوگ زخمی ہوئے ہیں اس پر ہمیں افسوس ہے ۔ انہوں نے جو کچھ بھی بہیمانہ کارروائی ہوتی ہے اس کی سماج میں کوئی جگہ نہیں ہے اور کچھ افراد نے اس وقت خوشی منائی تھی سکیوریٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے ۔ وادی میں استعمال کئے جانے والے بندوقوں کے استعمال پر کچھ ارکان کی تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ہتھیاروں کے استعمال سے ایک شخص ہلاک ہوا ہے جبکہ 53 افراد کو آنکھوں میں زخم آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہتھیار 2010 میں بھی استعمال کئے گئے تھے اور اس وقت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 98 افراد اس سے زخمی ہوئے تھے اور پانچ افراد پوری طرح بینائی سے محروم ہوگئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ان ہتھیاروں کے متبادل پر غور کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دینگے ۔ یہ کمیٹی یہ سفارش کریگی کہ ہم ان بندوقوں کے متبادل کے طور پر کس ہتھیار کا استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ کمیٹی اندرون دو ماہ اپنی رپورٹ پیش کردیگی ۔ انہوں نے بتایا کہ وادی میں جاریہ بے چینی اور بگاڑ سے قبل دہشت گردی سے متعلق واقعات میں صرف پانچ عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ گذشتہ برسوں میں یہ تعداد قدرے زیادہ تھی ۔

TOPPOPULARRECENT