Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / کشمیر کے شہری علاقوں کی فوج میں تخفیف کا مطالبہ

کشمیر کے شہری علاقوں کی فوج میں تخفیف کا مطالبہ

سرینگر ۔ 20 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) سی پی آئی ایم نے آج تجویز پیش کی کہ شہری علاقوں میں تعینات فوج کی تعداد میں کمی کی جائے اور فوج کو لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال سے نمٹنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ سی پی ایم کے سینئر قائد شام پرساد کیسر صدر ریاستی سی پی آئی آیم نے ایک دن طویل اجلاس کے بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ فوج کو لاء اینڈ آرڈر سے بے تعلق رکھا جانا چاہئے اور شہری علاقوں میں تعینات فوجیوں کی تعداد میں کمی کی جانی چاہئے ۔ اجلاس میں مقررین نے پرزور انداز میں اعلیٰ ترین سطح پر ریاست کی صیانتی صورتحال کا جائزہ لینے اور شہری علاقوں سے پوری وادی میں فوج کے فوری تخلیہ کا مطالبہ کیا تھا ۔ عوامی اہمیت کے کئی مسائل خاص طورپر حالیہ شہریوں کی ہلاکت خاص طورپر ریاست کے علاقہ ہندواڑہ ضلع کپواڑہ اور این آئی ٹی میں بحران کا حوالہ دیتے ہوئے اجلاس میں کُھل کر بحث کی گئی ۔ پانچ شہریوں کی ضلع کپواڑہ میں گزشتہ ہفتہ احتجاجی مظاہرے کے دوران ہلاکت کی پارٹی نے شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ فوج کی فائرنگ کے واقعہ کی عدالتی تحقیقات تعین وقت کے ساتھ کروائی جائیں ۔ پارٹی نے آزادی اظہار خاص طورپر سماجی میڈیا پر آزادی اظہار پر پابندیوں پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ حقیقی باقاعدہ نظام کے قیام کی ضرورت ہے تاکہ ناراضگی کے جذبہ کا احترام کیا جائے ۔ سی پی آئی ایم نے کہا کہ عہدیداروں کو زیادہ انسانی رویہ اختیار کرنا چاہئے ۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور روایتی تکثریت کے اقدار کا احترام کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT