Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / کشمیر کے مختلف علاقوں میں فوج سے طلبہ کی جھڑپیں اور ہڑتال

کشمیر کے مختلف علاقوں میں فوج سے طلبہ کی جھڑپیں اور ہڑتال

SRINAGAR, MAY 5 (UNI)- Protest march leaded by moderate Hurriyat Conference chairman Mirwaiz Moulvi Omar Farooq after Friday prayers in Srinagar on Friday. UNI PHOTO-103U

پلوامہ فوج کیلئے درد سر ، شوپیان میں ڈرائیور کی ہلاکت پر ہڑتال، سوپور میں فوج اور طلبہ کی جھڑپیں، علیحدگی پسندوں پر تحدیدات جاری

سرینگر  5مئی (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کشمیر کے قصبہ شوپیان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں جمعہ کو سویلین ڈرائیور نذیر احمد شیخ کی ہلاکت کے خلاف مکمل تعزیتی ہڑتال کی گئی۔ خیال رہے کہ کچھ ڈورو شوپیان کا رہنے والا نذیر احمد گذشتہ شام اُس وقت جاں بحق ہوگیا، جب جنگجوؤں نے فوج کی ایک پارٹی پر ضلع کے باس کوچھن اور ملک گنڈ کے درمیان گھات لگاکر حملہ کیا۔ اس حملے میں فوج کی 62 راشٹریہ رائفلز (آر آر) کے تین اہلکار بھی زخمی ہوگئے تھے ۔ دریں اثناء وادی کشمیر میں طلباء کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جمعہ کو اکیسویں دن میں داخل ہوگیا۔ تاہم بیشتر تعلیمی اداروں میں معمول کی درس وتدریسی سرگرمیاں بحال ہوگئی ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور کے مضافاتی علاقہ بومئی سوپور میں جمعہ کو گورنمنٹ ہائر سکینڈری اسکول کے درجنوں طالب علموں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا جن کو منتشر کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز نے آنسوگیس کے گولے داغے ۔ اطلاعات کے مطابق احتجاجی طلباء نے اسکول احاطے سے باہر نکل کر پولیس چوکی بومئی تک مارچ کرنے کے بعد شدید نعرے بازی شروع کی۔ سیکورٹی فورسز نے جب ان احتجاجی طلباء کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کا استعمال کیا تو وہ مشعل ہوئے اور پتھراؤ کرنے لگے ۔ سیکورٹی فورسز نے بعد ازاں آنسو گیس کے متعدد گولے داغے ۔ دریں اثنا احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش ایپل ٹاون سوپور کے گورنمنٹ ڈگری کالج اور بائر اینڈ گرلز ہائر سکینڈری اسکولوں میں جمعہ کو تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں۔

ان تعلیمی ادارے کے طلباء اور سیکورٹی فورسز کے مابین جمعرات کو شدید جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں کم از کم آدھ درجن طالب علم اور متعدد سیکورٹی فورس اہلکار زخمی ہوگئے تھے ۔ اطلاعات کے بموجب حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کو جمعہ کے روز اپنی رہائش گاہ میں نظربند کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ سری نگر کی تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں اپنا معمول کا جمعہ خطبہ نہیں دے سکے ۔ دوسری جانب حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی کو گذشتہ ایک برس سے مسلسل اپنی حیدرپورہ رہائش گاہ میں نظر بند رکھا گیا ہے ۔ حریت کانفرنس (ع) کے ایک ترجمان نے بتایا کہ میرواعظ کو جمعہ کی صبح نگین علاقہ میں واقع اپنی رہائش گاہ میں نظربند کیا گیا اور انہیں جامع مسجد جانے سے روکنے کی غرض سے رہائش گاہ کے باہر سیکورٹی فورسز کی ایک بھاری جمعیت تعینات کی گئی۔ اسی دوران پلوامہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب پلوامہ عملی اعتبار سے فوج کے لئے ایک درد سر بن گیا ہے کیوں کہ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد عسکریت پسند گروپس کو عوامی تائید میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ یراوان کے علاقہ میں گھنے جنگلوں کی وجہ سے اِس علاقہ کے عسکریت پسندوں کو قدرتی تحفظ حاصل ہے۔ فوج اور صیانتی محکموں کی کئی کوششیں متعدد مواقع پر ناکام ہوچکی ہیں۔ پلوامہ میں جاریہ سال مارچ کے بعد فوج کی بھاری جمعیت تعینات کردی گئی ہے۔ تاہم اِس سے عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوا۔

 

کشمیر کی خطرناک صورتحال پر وزیراعظم خاموش کیوں
کانگریس کا استفسار، دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی بھی تنقید
نئی دہلی ؍ کولکتہ۔5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج وزیراعظم نریندر مودی کی جموں و کشمیر کی خطرناک صورتحال پر خاموشی پر سوال اٹھایا اور استفسار کیا کہ آیا حکومت اس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے کوئی فوجی حل کے حق میں ہے یا پھر مذاکرات چاہتی ہے۔ اے آئی سی سی ترجمان کپل سبل نے بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے  حکومت پر طنز کرتے ہوئے ریمارک کیا کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے لیکن دہشت گردی اور برتھ ڈے کیک ایک ساتھ ہوسکتے ہیں۔ وہ ظاہر طور پر مودی کی یکایک دورہ پاکستان کا حوالہ دے رہے  تھے جب 2015ء میں وہ اپنے ہم منصب نواز شریف کی سالگرہ پر پڑوسی ملک گئے تھے۔ انہوں نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس کے پاس کشمیر یا پاکستان کے بارے میں کوئی پالیسی نہیں ہے۔ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی مرکز کو ہدف تنقید بنایا۔ خاص طو رپر سی پی آئی (ایم) جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کولکتہ میں ایک پروگرام کے موقع پر کہا کہ جموں و کشمیر میں جو کچھ اتھل پتھل ہے اس کیلئے مودی حکومت ذمہ دار ہے اور کہا کہ وہ اس سے سیاسی فائدے حاصل کرنے کوشاں ہے۔

TOPPOPULARRECENT