Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / کشمیر کے معاملے میں مرکزی حکومت ’’نامرد‘‘

کشمیر کے معاملے میں مرکزی حکومت ’’نامرد‘‘

قوم پرستی پر صرف نصیحتیں ، مودی حکومت فوری حرکت میں نہ آئے تو اپوزیشن کو اپنا رول ادا کرنا پڑے گا : کانگریس

نئی دہلی ۔22 مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی اور جموںو کشمیر حکومت کو ’’نامرد‘‘ قرار دیتے ہوئے کانگریس نے الزام عائد کیا کہ یہ دونوں وادی میں مخالف قوم سرگرمیوں اور تشدد کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہیں ، حالانکہ حکمراں بی جے پی قوم پرستی کے بارے میں کافی ’’نصیحتیں ‘‘ کیا کرتی تھی ۔ پارٹی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں سنگین صورتحال سے نمٹنے کیلئے اپوزیشن کو اعتماد میں لے اور اگر حکومت اس صورتحال کو نظرانداز کرتی ہے تو پھر اپوزیشن خود پیشرفت کرے گی ۔ اے آئی سی سی کے ترجمان ابھیشک سنگھوی نے کہاکہ کانگریس کشمیر میں ہر طرح کی علحدگی پسندی بشمول پلوامہ میں پیش آئے واقعات جہاں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کا گیت گایا گیا مذمت کرتی ہے لیکن اُس نے حکمراں جماعتوں پر صورتحال کو ابتر بنانے سے روکنے کیلئے کچھ بھی نہ کرنے کا الزام عائد کیا ۔ سنگھوی نے کہاکہ یہ ایک انتہائی افسوسناک پہلو ہے کہ موجودہ حکومت میں حالات جس قدر بے قابو اور ابتر ہوئے ہیں ، 1987 ء یعنی تقریباً 30 سال کے دوران کبھی ایسا نہیں ہوا ۔ انھوں نے جاننا چاہا کہ آخر یہ سب کیوں ہورہا ہے ؟ موجودہ حکومت ’نامرد‘ کیوں ہوگئی ہے ؟ ریاستی اور مرکزی سطح پر بھی بے شرمی کے ساتھ قوم پرستی پر صرف بیان بازی کی جاتی رہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ بھی ایک انتہائی افسوسناک پہلو ہے کہ مرکز اور ریاست میں ایک ہی حکومت ہونے کے باوجود ہم اس صورتحال سے دوچار ہیں جہاں دہشت گردی کے واقعات پیش آرہے ہیں اور عام شہریوں کے علاوہ پولیس کو بھی نقصانات برداشت کرنا پڑ رہاہے ۔ کانگریس نے نریندر مودی حکومت سے وادی میں امن کی بحالی کیلئے بلیوپرنٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین سال کے دوران تشدد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔ کانگریس کے ایک اور لیڈر رندیپ سرجیوالا نے کہا کہ وادی میں امن کیلئے مرکز کی پیشرفت کو ہماری تائید حاصل رہے گی لیکن اس طرح کی صورتحال پیدا کرنے کی ذمہ داری وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے ۔ نریندر مودی کو واضح موقف اختیار کرنا چاہئے ۔ کانگریس اور دیگر جماعتیں عام حالات بحال کرنے میں مدد کریں گی ۔ سرجیوالا نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ تین سال کے دوران 200 سپاہی اور 51 عام شہری جموںو کشمیر میں اپنی زندگی سے محروم ہوگئے ۔ پی ڈی پی ۔ بی جے پی حکومت میں سنگباری اور دیگر واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ کانگریس لیڈر نے کہاکہ اپوزیشن کا ہر شعبہ اس صورتحال پر انتہائی تشویش سے دوچار ہے اور ہم معاملے کی حساسیت کو بھی سمجھتے ہیں ، لہذا اس مقصد کیلئے اگر کوئی پیشرفت کی جارہی ہو تو بھی حیرت کی بات نہیں ہے ۔ اُنھوں نے کہاکہ اس طرح کی پیشرفت بعض بی جے پی قائدین بھی کررہے ہیں ۔ بالفرض حکومت جموںو کشمیر جیسی حساس ریاست کے معاملے میں دستوری ذمہ داری سے فرار اختیار کرے تو پھر فطری طورپر اپوزیشن کو یہ ذمہ داری ادا کرنی ہوگی ۔ انھوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی ہر اُس علامتی ، راست ، بالراست اور دیگر سرگرمیوں کی مذمت کرتی ہے جو علحدگی پسندی کو فروغ دیتی ہوں ۔ ہم اس کی پہلے بھی مذمت کرچکے ہیں اور اب بھی مذمت کریں گے ۔ سنگھوی نے کہاکہ موجودہ حکومت نے خواہ وہ مرکزی سطح پر ہو یا ریاستی سطح پر گزشتہ 36 ماہ کے دوران قوم پرستی پر نصیحتیں بہت ہوچکی ہیں اور اب خود موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے جموں و کشمیر میں ایسے واقعات پیش آرہے ہیں جو ماضی میں کبھی نہیں ہوئے اور ان واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ کانگریس لیڈر نے کہاکہ گزشتہ تین سال کے دوران موجودہ حکومت کی کشمیر پالیسی ہر گذرتے دن کے ساتھ بدلتی رہی ہے ۔ جموں و کشمیر کے بارے میں مستقل پالیسی کا فقدان پایا جاتا ہے اور ہفتہ میں 8 مرتبہ حکومت نے یہ پالیسی چینج کی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اپنا موقف تبدیل کرنے یا کبھی اِدھر تو کبھی اُدھر پالیسی اختیارات کرنے سے غلط اشارے ملیں گے ۔ انھوں نے کشمیر میں موجودہ صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیا اور کہاکہ حکومت کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT