Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / کشمیر ‘ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ۔ الجیریا کی ہندوستان کے موقف کو تائید

کشمیر ‘ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ۔ الجیریا کی ہندوستان کے موقف کو تائید

ائر انڈیا ون طیارہ سے 20 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سرحد پار دہشت گردی کو پاکستان کی تائید پر بڑھتی ہوئی ہند ۔ پاک کشیدگی کے دوران الجیریا نے واقف کروایا ہے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور دہشت گردی کو اس کی تمام اشکال میں ختم کیا جانا چاہئے ۔ الجیریا نے اپنے اس موقف سے نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کو ان کے دو روزہ دورہ کے موقع پر واقف کروایا ۔ باہمی بات چیت کے دوران الجیریا کے وزیر اعظم عبدالملک سیلل نے نائب صدر جمہوریہ سے کہا کہ ان کا ملک جموں و کشمیر پر ہندوستان کے موقف کی مکمل تائید و حمایت کرتا ہے ۔ جناب حامد انصاری کے ساتھ دورہ سے ملک واپس ہوتے ہوئے ایک سینئر عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ تاہم کسی بھی فریق نے اس مسئلہ میں راست پاکستان کا نام نہیںلیا ۔ ہندوستان ہمیشہ سے واضح کرتا آیا ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے ۔ پاکستان پر سرحد پار سے دہشت گردی کو ہوا دینے کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے ۔ طیارہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جناب حامد انصاری نے کہا کہ ان کے پانچ روزہ دو قومی دورہ کے موقع پر دہشت گردی کے مسئلہ پر دونوں ملکوں الجیریا اور ہنگری کی قیادت سے تبادلہ خیال کیا گیا ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا دونوں ملکوں سے بات چیت کے دوران دہشت گردی کو کسی تیسرے ملک کی مدد سے متعلق مسئلہ پر بات چیت ہوئی ہے جناب حامد انصاری نے کہا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ تیسرا ملک کون ہے ۔ یقینی طور پر سب جانتے ہیں۔

 

اس میں کسی ملک کا راست نام لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ الجیریا اور ہنگری کی قیادت کے ساتھ تبادلہ خیال میں دہشت گردی کی لعنت پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ان ممالک کا خیال تھا کہ یہ ایسی بیماری ہے جس سے ساری دنیا متاثر ہے اور اس کو تمام اشکال میں ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ جناب حامد انصاری نے کہا کہ الجیریا کو بھی ماضی میں دہشت گردی کی لعنت کا سامنا تھا اور یہ کئی برسوں کی کوشش کے بعد اور ہزاروں انسانی جانوں کی قربانی کے بعد ختم ہوسکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ الجیریا میں کوئی ایک خاندان بھی ایسا نہیں ہے جس کا کوئی نہ کوئی فرد دہشت گردی میں اپنے عزیزوں سے محروم نہ ہوا ہو ۔ ان دونوں ملکوں کو نائب صدر جمہوریہ کا دورہ ایک طویل وقت کے بعد ہوا ہے ۔ اس سے قبل ہنگری کا دورہ اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر شنکر دیال شرما نے 1993 میں کیا تھا ۔
جبکہ الجیریا کو کسی ہندوستانی لیڈر کا دورہ 1985 کے بعد ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں ملکوں سے سیاسی رابطے کم ہوگئے تھے اور یہ دورہ دیرینہ تعلقات کو بحال کرنے کیا گیا تھا ۔ اس موقع پر کئی اہم مسائل پر جامع بات چیت ہوئی ہے ۔ یہ دورہ بہت اطمینان بخش رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہنگری کے ستاھ دو معاہدات پر دستخط کئے گئے ہیں جبکہ الجیریا کے ساتھ بھی کچھ مشترکہ پراجیکٹس کو منظوری حاصل ہوئی ہے ۔ الجیریا میں فرٹیلائزر پلانٹ قائم کرنے کے تعلق سے ہندوستان و الجیریا کے مابین اتفاق ہوا ہے اور اس سلسلہ میں معاہدہ کو قطعیت دی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT