Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کلاس رومس میں پڑھائی کم چاٹنگ زیادہ

کلاس رومس میں پڑھائی کم چاٹنگ زیادہ

سرکاری اسکولس کے خاطی ٹیچرس کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت
حیدرآباد ۔ 24 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ٹیچر کا کام صرف کلاس روم میں طلبہ کو پڑھانا ہی نہیں ہے بلکہ کلاس روم سے باہر بھی ان کا کردار مثالی ہونا چاہئے ۔ طلبہ کے لیے اساتذہ نمونہ عمل ہوتے ہیں لیکن اب سب اقدار دم توڑ رہی ہیں ۔ سرکاری اسکولس میں ٹیچرس خود ریاستی حکومت کے احکام کی دھڑلے سے خلاف ورزی کررہے ہیں ۔ اس طرح پیشہ تدریس کا احترام اور تقدس پامال ہورہا ہے ۔ حکومت نے کلاس رومس میں ٹیچرس کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی لگائی ہے لیکن ٹیچرس دھڑلے سے اس پابندی کو توڑ رہے ہیں اور قواعد کی خلاف ورزی کررہے ہیں ۔ ان طلبہ کی تعلیم کا کیا حشر ہوگا جن کے اساتذہ کلاس رومس میں فونس استعمال کرتے ہوئے واٹس اپ پر چاٹنگ یا بروزنگ میں مصروف ہیں ۔ چند موبائل نٹ ورکس کی طرف سے فری انٹرنیٹ سرویس فراہم کی گئی ہے جس کا سرکاری ٹیچرس پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ آن لائن رہتے ہیں ۔ درس و تدریس ثانوی ہو کر رہ گئی ہے ۔ ٹیچرس کم از کم چالیس منٹ بھی بے روک ٹوک کلاس نہیں لے رہے ہیں ۔ کیوں کہ ان کے سیل فونس کی گھنٹی بار بار پوری کلاس کے پرسکون ماحول کو مکدر کرتی رہتی ہے ۔ مختلف سرکاری اسکولس کے ہیڈماسٹرس اس صورتحال پر فکر مند ہیں وہ تاکید کررہے ہیں کہ ٹیچرس کو ضابطہ اخلاق کی پابندی کرتے ہوئے کلاس رومس میں سیل فون ساتھ نہیں لانا چاہیے ۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ کلاس رومس میں جانے سے پہلے اپنے سیل فونس ہیڈ ماسٹر کے پاس محفوظ کرادیں ۔ ایک ہیڈ ماسٹر نے کہا کہ ہم قصور وار ٹیچرس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتے کیوں کہ ٹیچرس نٹ سے اسباق ڈاؤن لوڈ کرنے کے بہانے سیل فون استعمال کررہے ہیں ۔ تلنگانہ اسٹیٹ گزیٹیڈ ہیڈ ماسٹرس اسوسی ایشن نے ہیڈ ماسٹرس پر زور دیا کہ وہ ٹیچرس سے سیل فونس حاصل کرلیں تاکہ اسکول کے اوقات میں ان کا استعمال روکا جاسکے ۔ اسکول انسپکٹرس کو چاہیے کہ وہ وقفہ وقفہ سے اسکولس کا اچانک معائنہ کریں اور کلاس رومس میں سیل فونس استعمال کرنے والے ٹیچرس کے خلاف سخت کارروائی کریں ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT