Tuesday , April 25 2017
Home / مضامین / کلبھوشن جادھوکی سزا پر ہند۔پاک سیاست

کلبھوشن جادھوکی سزا پر ہند۔پاک سیاست

امتیاز متین ، کراچی
ان دنوں پاکستان میں انسداد دہشت گردی اور ہر قسم کے فساد کے خاتمے کی مہم جاری ہے۔ ملک میں ہونے والی عظیم بدعنوانیوں کے مقدمات کی سماعت کسی نہ کسی مرحلے پر جاری ہے اور غیر محسوس طور پر بڑے بدعنوانوں، دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ دہشت گردی اور بدعنوانی کے نیٹ ورک توڑے جا رہے ہیں، لیکن ملک بھر میں پھیلے ہوئے ان ناسوروں کی جڑیں اتنی گہری اور مضبوط ہیں کہ ان کا صفایا کرنا اتنا آسان نہ ہوگا۔
گزشتہ ہفتے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ اور بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف مبارک حسین پٹیل کو بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کے نیٹ ورک چلانے، دہشت گردوں کو سرمایہ فراہم کرنے اور تخریب کاری کے جرائم کا اعتراف کرنے کی پاداش میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل سے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی اس کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے توثیق کر دی ہے۔ بھارتی میڈیا میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کلبھوشن یادیو ایک ریٹائرڈ نیوی افسر تھا جو ایران کے ساحلی شہر چاہ بہار میں اپنا ایک چھوٹا سا کاروبار کرتا تھا جسے وہاں سے اغوا کرکے بلوچستان لایا گیا اور پھر ایک جاسوس کے طور پر اس کی گرفتاری ظاہر کرکے اسے پھانسی کی سزا سنا کر زیادتی کی گئی ہے۔
کمانڈر کلبھوشن یادیو کے پاس خود کو سنائی جانے والی سزائے موت کے خلاف اپیلٹ کورٹ میں اپیل کرنے کا حق موجود ہے، اس کے بعد وہ صدر ممنون حسین سے رحم کی اپیل کر سکتا ہے۔ اگر وہاں سے بھی معافی نہ ملی تو پھر بالآخر اسے سزائے موت دے دی جائے گی۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ قانونی مدت پوری ہونے پر ہی سزا کے حتمی فیصلے پر عملدرآمد کر دیا جائے گا۔  بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کلبھوشن یادیو کو اپنا بیٹا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت اپنے شہری کو سزا سے بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔ ان کے اس بیان میں پاکستان کے لیے شدید نوعیت کی دھمکی چھپی ہوئی ہے۔

کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھارتی ٹی وی چینلز سے جو تجزیے اور تبصرے نشر ہوئے ہیں ان کے مطابق بھارتی حکمراں یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ ہم نے پہلے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے اور اب اسے چار ملکوں میں تقسیم کریں گے جس کی شروعات بلوچستان سے ہوگی، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کلبھوشن یادیو کو پھانسی دی گئی تو اس کے سنگین اثرات پاک بھارت تعلقات پر پڑیں گے۔ سچی بات یہ ہے کہ پاک بھارت تعلقات پہلے ہی کون سے اچھے ہیں جو پھانسی کے بعد خراب ہو جائیں گے۔ کنٹرول لائن پر فائرنگ روز کا معمول بن چکی ہے ۔ افغانستان کی سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھارت پر انگلیاں اٹھائی جاتی رہی ہیں اور اب بھی بلوچستان میں تخریب کاری کی توقعات کی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے سینہ ٹھونک کر مکتی باہنی کی حمایت کا اعتراف کیا تھا اور گزشتہ برس بھارت کے یوم آزادی کی تقریر کے دوران انہوں نے بلوچستان کی آزادی کی حمایت کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بی جے پی  کے بعض وزرا بھارت میں بلوچستان کی جلاوطن حکومت بنوانے کے عزائم کا اظہار کر رہے ہیں۔ یو ٹیوب پر ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں بھارت کے ریٹائرڈ جنرل اور دوسرے اعلیٰ حکام عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے یہ عندیہ دیتے رہے ہیںکہ بھارت پاکستان کو اندر سے توڑنے کی مہم پر کاربند ہے۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ دوران تفتیش کلبھوشن یادیو نے جو معلومات فراہم کی تھیں اس کے نتیجے میں اس کے بنائے ہوئے دہشت گردی نیٹ ورک کے کئی سو کارندوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو مختلف نوعیت کی تخریبی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے، ان افراد کے گرفتار ہونے کے بعد سے گزشتہ ایک برس کے دوران کراچی اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے۔ اس کے علاوہ کلبھوشن جادھو نے بھارت میں ’را‘ کے ان افسران کے نام، عہدے اور ٹیلی فون نمبرز بھی بتائے ہیں جن سے وہ براہ راست رابطے میں تھا اور ان کی ہدایات کے مطابق کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک چلا رہا تھا اور ان کی مالی معاونت کر رہا تھا۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کی خواہش ہوگی کہ کلبھوشن جادھو کا معاملہ سفارتی سطح پر ہی طے ہو جائے لیکن ایسا ہونا بھی مشکل ہی نظر آ رہا ہے کیونکہ اس پر دہشت گردی، ملک کے خلاف سازش کرنے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں آرمی ایکٹ 1952ء کی دفعہ 131 کے تحت فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔ سزائے موت کے اعلان کے بعد آرمی چیف قمر جاوید باجوہ وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کرکے انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کر چکے ہیں جس کے بعد یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف، بھارتی ہم منصب سے دوستی کے باوجود اس معاملے میں زیادہ لچک کا مظاہرہ نہیں کر سکیں گے۔ دوسرے یہ کہ سینیٹ میں بھی پھانسی کے فیصلے کی حمایت کی گئی ہے۔   ان دنوں پاکستان میں جو سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں اس کے تانے بانے پانامہ پیپرز کیس سے جا کر ملتے ہیں۔ حکمراں مسلم لیگ (نواز گروپ) اور پیپلز پارٹی کی تمام عوامی سرگرمیوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ آئندہ انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف جس طرح نامکمل ترقیاتی منصوبوں کی نقاب کشائیاں کرتے رہے ہیں یا انہوں نے سندھ میں جلسے کرنے شروع کر دیے ہیں۔ اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے کہ پانامہ پیپرز کیس کا فیصلہ کب آئے گا؟ یہ تو واضح نظر آ رہا ہے کہ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو اس کیس میں برأت نہیں ملے گی لیکن حکومت کا کیا ہوگا؟ کیا صرف وزیر اعظم ہی بدلے گا یا پھر پوری اسمبلی ہی تحلیل کرکے عبوری حکومت بنا دی جائے گی۔

دوسری جانب آصف علی زرداری نے پنجاب اور اسلام آباد میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور حالیہ مہینوں میں وہ سیاسی پینترے بدلتے رہے ہیں اب وہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ پانامہ کیس کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی ان کے لیے ایک اور پریشانی یہ شروع ہو گئی ہے کہ ان کے تین غیر سیاسی قریبی دوست لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ تینوں لوگ ملک میں ہونے والی عظیم ترین بدعنوانیوں، قیمتی زمینوں پر قبضوں اور منی لانڈرنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں۔ تاحال یہ معلوم نہیں ہے کہ ان تینوں افراد کو کون اپنے ساتھ کہاں لے گیا ہے لیکن پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس بارے میں فکر مند ہے اور اس کی جانب سے اسمبلی میں ان افراد کی گمشدگی پر احتجاج اور واک آئوٹ کیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی لیاری گینگ وار پیپلز پارٹی کی ذیلی تنظیم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عذیر بلوچ اور ایم کیو ایم کے ایک سابق یونٹ انچارج کے مقدمات فوجی عدالتوں کو منتقل کر دیے گئے ہیں اور انہیں پولیس سے فوج کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ عذیر بلوچ گزشتہ ایک برس سے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمات کا سامنا کر رہا ہے لیکن جب گزشتہ دنوں اسے ایک مقدمے میں ضمانت ملنے کی خبریں جاری ہوئیں تو تمام لوگ حیران رہ گئے تھے سنگین جرائم میں ڈوبے ہوئے لوگ یقیناً خوش ہوئے ہوں گے کہ عدالتوں میں ان کے آنکڑے چلنا شروع ہو گئے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عام عدالتی نظام کی ناکامی سامنے کے بعد عذیر بلوچ کا مقدمہ فوجی عدالت میں منتقل کرکے انہیں فوج کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ آج جبکہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت عذیر بلوچ کو پہچاننے سے بھی انکار کر رہی ہے لیکن ان کے لیے ان تصاویر اور ویڈیوز کو جھٹلانا ممکن نہیں ہوگا جس میں وہ عذیر بلوچ کے ساتھ نظر آ رہے ہیں بلکہ ریکارڈ پر ایسی ویڈیوز بھی موجود ہیں جس میں لیاری سے منتخب ہونے والے پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی عذیر بلوچ سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اب بات پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے ہاتھ سے نکل گئی ہے کیونکہ عذیر بلوچ قتل، دہشت گردی، بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم کے ارتکاب کے علاوہ ایرانی انٹیلیجنس کے لیے کام کرنے کا اعتراف کر چکا ہے۔

گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن جب اپنی خود ساختہ جلا وطنی ختم کرکے آئے تھے تو ان کا جوش و جذبہ دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ صوبہ سندھ آئندہ وزیر اعلیٰ وہ ہی بنیں گے۔ حیدر آباد میں شاندار استقبال اور تاجپوشی اور چند دھواں دھار پریس کانفرنسوں کے بعد اب عدالتوں میں پیشی کے مناظر میں ان کی کمر جواب دیتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر ان کے ایک ہاتھ میں تسبیح اور دوسرے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی ہے اور دائیں بائیں کھڑے ہوئے لوگوں کے سہارے سے عدالت میں داخل ہونے کے مناظر نیوز چینلز کی نشریات کا معمول بن گئے ہیں۔ ادھر آصف زرداری کے ایک اور دوست ڈاکٹر عاصم بھی کہہ رہے ہیں کہ ان کی کمر میں شدید تکلیف ہے، ضمانت ملنے کے بعد اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوانا چاہتے ہیں تاکہ وہ بھی ماڈل ایان علی کی طرح ملک سے باہر جا سکیں۔ تاہم عذیر بلوچ کے بعد انہیں بھی اب ہوشیار ہو جانا چاہیے کہ ان کا سیکڑوں ارب روپے کے ہیر پھیر کا مقدمہ بھی فوجی عدالت میں منتقل کرکے انہیں بھی کراچی کے جناح ہسپتال کے وی آئی پی وارڈ سے منتقل کرکے فوج کی تحویل میں دیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT