Saturday , August 19 2017
Home / اضلاع کی خبریں / کلواکرتی میں ٹی آچاری کی زبردستی دواخانہ منتقلی

کلواکرتی میں ٹی آچاری کی زبردستی دواخانہ منتقلی

پولیس کے اقدام پر عوام کی زبردست مزاحمت، ومشی ریڈی کا مرن برت شروع

کلواکرتی ۔/14ستمبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کلواکرتی کو ریونیو ڈیویژن بنانے کے مطالبہ کو لیکر یہاں پر جاری احتجاج آج 24دن میں داخل ہوگیا۔ کل اس مطالبہ کے تحت مرن برت کررہے بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری ٹی آچاری کو جو کل 7 دن مکمل کررہے تھے ان پر طاری کمزوری کو دیکھتے ہوئے پولیس نے زبردستی منگل کے دن ایک بجے اٹھاتے ہوئے کلواکرتی گورنمنٹ ہاسپٹل منتقل کیا۔ انہیں جب اٹھایا جارہا تھا جے اے سی قائدین اور عوام نے زبردست مزاحمت کی۔ کثیر تعداد میں موجود پولیس اہلکاروں نے عوام کو ہٹاتے ہوئے انہیں دواخانہ منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی جہاں پر ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈاکٹروں نے ان کے خون میں شوگر کی گراوٹ کو دیکھتے ہوئے حیدرآباد منتقلی کا مشورہ دیا جنہیں بڑی ہی جدوجہد کے بعد پولیس حیدرآباد منتقل کرنے میں کامیاب ہوئی کیونکہ ان کی گرفتاری کے بعد سے تقریباً 3گھنٹے تک دواخانہ کے روبرو راستہ روکو احتجاج کیا گیا اور حیدرآباد کے راستے میں تقریباً تین جگہ ویلدنڈہ آمنگل کڑتال پر عوام نے ان کی تائید میں راستہ روکو احتجاج کرتے ہوئے انہیں دواخانہ لیجانے سے روکنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ پولیس جمعیت انہیں حیدرآباد سنتوش نگر گیلاکسی ہاسپٹل منتقل کرنے میں کامیاب ہوئی جبکہ ٹی آچاری وہاں بھی اپنا مرن برت جاری رکھے ہوئے ہیں اور ڈاکٹرس سے کسی بھی طرح کا تعاون دینے سے صاف انکار کررہے ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ اگر ان کی صحت کی اتنی ہی فکر ہے تو حکومت پہلے کلواکرتی کو ڈیویژن کا اعلان کرے تب تک وہ یہ احتجاج بالکل جاری رکھیں گے۔ تادم تحریر ڈاکٹرس کی رپورٹ کے مطابق ان پر غشی طاری ہورہی ہے اور شوگر ڈاون ہورہا ہے جیسے ہی ٹی آچاری کو پولیس نے احتجاجی کیمپ سے اٹھایا تمام جے اے سی قائدین نے وہاں پر مشورہ کرتے ہوئے ایم ایل اے ڈاکٹر چلاومشی چند ریڈی کو مرن برت کے ارادہ کو عملی جامہ پہنانے کی منظوری دے دی۔ آج مقامی ایم ایل اے نے کثیر تعداد میں زبردست ریالی کی شکل میں کیمپ پر پہنچتے ہوئے اپنے مرن برت کا آغاز کیا جس کی حمایت اور تائید کیلئے سینکڑوں عوام ان کے ہمراہ احتجاجی کیمپ پہنچے۔

 

گمبھی راؤ پیٹ کو ضلع کاماریڈی میں شامل کرنے کا مطالبہ
گمبھی راؤ پیٹ۔/14ستمبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نوتشکیل شدہ ضلع کاماریڈی میں گمبھی راؤ پیٹ کو شامل کرنے کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے جے اے سی کی جانب سے طلباء کی ریالی نکالی گئی۔ اس موقع پر سابق زیڈ پی ٹی سی رکن ملوگاری نرسا گوڑ نے اخباری نمائندوں اور عوام کی ایک بڑی تعداد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گمبھی راؤ پیٹ کو حسب سابق کی طرح ضلع کریم نگر میں رکھا گیا جبکہ قریب میں واقع کاماریڈی کو ضلع کا درجہ دیا گیا تھا اس میں شامل کرنے کی بجائے 8کیلو میٹر دور واقع کریم نگر ضلع میں برقراررکھا گیا ۔ ملوگاری نرسا گوڑ نے کہا کہ گمبھی راؤ پیٹ تا کاماریڈی کا فاصلہ 28کیلو میٹر ہے اگر گمبھی راؤ پیٹ کو کاماریڈی میں شامل کیا گیا تو عوام کو کافی سہولتیں فراہم ہوں گی جبکہ کریم نگر کافی دور ہونے کی وجہ کئی دشواریوں کا سامنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT