Tuesday , June 27 2017
Home / ہندوستان / کلگام میں کرفیو جیسی پابندیاں ، علحدگی پسندوں کی اپیل ناکام

کلگام میں کرفیو جیسی پابندیاں ، علحدگی پسندوں کی اپیل ناکام

علحدگی پسند قائدین کو نظربند کردیا گیا، سڑکوں کی ناکہ بندی ،ضلع کلگام میں ہڑتال کا مسلسل تیسرا روز

سرینگر، 15فروری (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر انتظامیہ نے آج جنوبی کشمیر کے ضلع کلگام میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کرکے علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے دی گئی ’’کلگام چلو‘‘کی اپیل ناکام بنادی۔ خیال رہے کہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے 12 فروری کو ضلع کلگام کے فرصل میں مسلح جھڑپ اور اس کے بعد احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے دو عام شہریوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی و ہمدردی ظاہر کرنے کے لئے آج ’’کلگام چلو‘‘کی اپیل کی تھی۔ تاہم کشمیر انتظامیہ نے اس اپیل کو ناکام بنانے کے لئے نہ صرف ضلع کلگام میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کیں بلکہ علیحدگی پسند رہنماؤں کو کسی بھی احتجاجی مارچ کی قیادت کرنے سے روکنے کے لئے تھانہ یا خانہ نظربند کیا۔جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع کلگام بالخصوص فرصل کی طرف جانے والی بیشتر سڑکوں کو خاردار تار سے بند کردیا گیا ہے جبکہ ضلع میں کسی بھی احتجاجی جلوس یا ریلی کو ناکام بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مہلوک شہریوں کے رسم چہارم اور علیحدگی پسندوں کی طرف سے دی گئی ’’کلگام چلو‘‘کی اپیل کے پیش نظر ضلع مجسٹریٹ کلگام نے دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کردی ہے ۔

کلگام کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ اُن کے علاقوں میں تعینات سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے انہیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ ضلع میں بیشتر سڑکوں کو خاردار تاروں سے سیل کیا گیا ہے ۔ پابندیوں کے بیچ ضلع کلگام میں چہارشنبہ کو مسلسل تیسرے دن بھی ہڑتال رہی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع بھر میں مسلسل تیسرے دن بھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر متاثر رہی۔ تاہم سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی روانی معمول کے مطابق جاری رہی۔ اس دوران پولیس نے علیحدگی پسند رہنماؤں کو کسی بھی احتجاجی مارچ کی قیادت کرنے سے روکنے کیلئے تھانہ یا خانہ نظربند کردیا ہے ۔ جہاں حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کو اپنی رہائش گاہ پر نظر بند کیا گیا، وہیں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) چیئرمین محمد یٰسین ملک کو حراست میں لے لیا گیا۔حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی اور ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ کو بدستور اپنی رہائش گاہوں پر نظر بند رکھا گیا ہے جبکہ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو بھی پولیس تھانہ رامباغ میں بدستور مقید رکھا گیا ہے ۔ حریت کانفرنس (ع) ترجمان ایڈوکیٹ شاہد الاسلام نے نیوز ایجنسی ’یو این آئی‘ کو بتایا ’’میرواعظ کو آج ایک بار پھر نظر بند کیا گیا‘‘۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT