Sunday , October 22 2017
Home / سیاسیات / کلیان ۔ ڈومبویلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں غیر واضح نتائج

کلیان ۔ ڈومبویلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں غیر واضح نتائج

مہاراشٹرا میںشیوسینا اور بی جے پی میں پھر ایک بار آنکھ مچولی اور مفاہمت کا اشارہ
ممبئی۔/3نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) کلیان۔ ڈومبویلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں شیوسینا اگرچیکہ بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے لیکن واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے جس کے پیش نظر پارٹی نے آج یہ اشارہ دیا ہے کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا جاسکتا ہے اور کہا کہ انتخابات کے دوران جو کچھ ہوا ہے وہ عارضی نوعیت کا ہے۔ میونسپل انتخابات میں بی جے پی کی طاقت میں قابل لحاظ اضافہ ہوا ہے جس کے نتائج کا کل اعلان کیا گیا ہے۔شیونا کے ترجمان ’ سامنا ‘ کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ گوکہ بلدی انتخابات کی مہم کے دوران ایک دوسرے ( بی جے پی۔ شیوسینا ) پر کیچڑ اچھالا گیا ہے لیکن ہمیں اب عوام کے فیصلہ کا احترام کرنا ہوگا اور انتخابات کے دوران الزامات جوابی الزامات اور تنقید و تعریض کی گئی لیکن اسے بالکلیہ فراموش کردیا جائے اور نئے خوشگوار تعلقات استوار کئے جائیں۔ انتخابی مہم کے دوران اپنی حلیف جماعت بی جے پی کے خلاف جارحانہ رُخ اختیار کرنے والی شیوسینا اب نرم خو دکھائی دے رہی ہے، باہمی تلخیوں اور کھینچا تانی کے قطع نظر ترقی کیلئے کام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ شیو سینا نے کہا کہ کلیان اور ڈومبولی کے انتخابی نتائج حیرت انگیز ثابت ہوئے ہیں کیونکہ عوام نے ہمیں اکثریت کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے

لیکن اب ترقی کیلئے ہر ایک کو ساتھ لیکر چلنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں حکمران اتحاد کی حلیف جماعت شیوسینا نے یہ بھی نشاندہی کی کہ دیگر میونسپل کونسلوں کے انتخابات میں بی جے پی نے بہتر مظاہرہ نہیں کیا ہے ۔ چیف منسٹر دیویندر فڈ نویس کو یہ محاسبہ کرنا چاہیئے کہ ان کی ایک سالہ حکمرانی کے بارے میں عوامی رجحان کیوں تبدیل ہوگیا۔ پارٹی ترجمان نے کہا کہ گزشتہ سال اسمبلی انتخابات کے دوران علاقہ ودربھا بی جے پی کے ساتھ تھا لیکن آج حالات تبدیل ہوگئے ہیں۔ ریاست کے مختلف میونسپل کونسلوں میں کانگریس اور این سی پی نے بہتر مظاہرہ کیا ہے اور چیف نسٹر کو یہ محاسبہ کرنا ہوگا کہ عوام صرف ایک سال میں کیوں بدل گئے ہیں۔ کلیان ۔ ڈمبویلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں شیوسینا 52نشستیں حاصل کرکے بڑی پارٹی بن کر اُبھری ہے لیکن 122 رکنی ایوان میں واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی۔ بی جے پی نے 42 نشستیں حاصل کرکے اپنی عددی طاقت میں 9 کا اضافہ کیا ہے۔ راج ٹھاکرے کی زیر قیادت ایم این ایس نے 9نشستیں جبکہ کانگریس اور این سی پی بالترتیب تین، تین نشستیں حاصل کرکے چوتھے مقام پر ہیں۔ مخلوط حکومت میں شمولیت کے باوجود دونوں زعفرانی جماعتوں نے بلدی انتخابات سے عین قبل تعلقات قطع کرلیئے تھے اور انتخابی مہم کے دوران حریفوں جیسا رویہ اختیار کیا تھا لیکن غیر واضح نتائج نے دونوں کو دوبارہ اتحاد قائم کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT