Friday , August 18 2017
Home / سیاسیات / کل جماعتی اجلاس: جی ایس ٹی بل پر عدم اتفاق

کل جماعتی اجلاس: جی ایس ٹی بل پر عدم اتفاق

کانگریس کا موقف غیر واضح، چند بلوں کی تائید سے اتفاق
نئی دہلی /18 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا کے صدر نشین محمد حامد انصاری نے آج ایک کل جماعتی اجلاس طلب کیا تھا، لیکن اس اجلاس میں جی ایس ٹی بل کی منظوری پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا، تاہم تمام ارکان نے 6 زیر التواء بلس کی سرمائی اجلاس کے باقی تین دنوں میں منظوری سے اتفاق کرلیا اور کہا کہ اگر ضروری ہو تو ضائع ہونے والے وقت کی پابجائی کے لئے رات دیر گئے تک بھی اجلاس منعقد کیا جاسکتا ہے۔ ایک گھنٹہ طویل اجلاس کے بعد صدر نشین حامد انصاری نے صرف اتنا کہا کہ اجلاس ’’اچھا‘‘ تھا۔ اجلاس میں انتہائی بامعنی غور و خوض ہوا، کئی پارٹیوں نے پارلیمنٹ کی کارروائی معطل ہو جانے پر اظہار تشویش کیا۔ ان تمام نے فیصلہ کیا کہ ایوان کا اجلاس کارکرد ہونا چاہئے۔ فیصلہ کیا گیا کہ زیر التواء بلس منظور کرنے کے لئے اگر اجلاس دیر تک جاری رہے، تب بھی کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا۔

مرکزی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے ایک پریس کانفرنس میں اس کا انکشاف کیا۔ اہم جی ایس ٹی بل کے بارے میں سوال پر نقوی نے کہا کہ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے اپوزیشن سے اس دستوری بل کی منظوری کی اپیل کی۔ علاوہ ازیں خوشگوار ماحول میں اجلاس کے انعقاد کی بھی اپیل کی۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ اہم اپوزیشن پارٹی نے اس سلسلے میں کوئی معاہدہ نہیں کیا اور نہ اپنا موقف واضح کیا۔ آج کے اجلاس میں ارکان نے فیصلہ کیا کہ ایس سی، ایس ٹی (انسداد مظالم) ترمیمی بل، مطالبات زر، مخالف ہائی جیکنگ بل، ایٹمی توانائی ترمیمی بل، تجارتی عدالتوں کا آرڈیننس بل اور ثالثی و مفاہمت ترمیمی بل آئندہ ہفتہ منظور کئے جائیں گے۔ قائد اپوزیشن راجیہ سبھا غلام نبی آزاد نے کہا کہ آج کے اجلاس کی کارروائی میں کوئی نئی بات پیش نہیں آئی، سوائے اس کے کہ بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس پر بحث کی گئی۔ اس سوال پر کہ کیا کانگریس نے بعض بلس کی منظوری سے اتفاق کیا ہے؟

انھوں نے کہا کہ بعض بلس جن پر پارٹی نے تائید کا تیقن دیا ہے، ان میں ایس سی / ایس ٹی بل اور مطالبات زر بل شامل ہیں۔ جی ایس ٹی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے بموجب یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بچہ مزدور (امتناع و قواعد) ترمیمی بل، خبردار کرنے والوں کے تحفظ کا ترمیمی بل اور بچوں کے ساتھ انصاف (دیکھ بھال اور تحفظ اطفال) بل پر سرمائی اجلاس کے باقی دنوں میں تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عوامی اہمیت کے مسائل جیسے قیمتوں میں اضافہ، سیلاب اور قحط کا زراعت پر اثر، عدم رواداری اور اروناچل پردیش کی تبدیلیوں پر مباحثہ بھی آخری تین دنوں میں منعقد کیا جائے گا۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ ارکان نے اتفاق کیا ہے کہ ضائع ہو جانے والے پارلیمنٹ کی کارروائی کے گھنٹوں کی پابجائی کے لئے آخری دنوں میں دیر تک اجلاس منعقد کیا جائے۔ راجیہ سبھا کے صدر نشین کو ایوان کے اجلاس کی کارروائی میں خلل اندازی کرنے والے ارکان کے خلاف کارروائی کے لئے زیادہ اختیارات دینے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے منفی جواب دیا۔

TOPPOPULARRECENT