Tuesday , May 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / کمانے کے قابل بچوں کو نفقہ

کمانے کے قابل بچوں کو نفقہ

سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ
۱۔  زید وظیفہ یاب ہے، دو لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں ۔ لڑکے کمانے کے قابل ہیں اور لڑکیوں کی شادی کرنا ہے ۔ زید کی بیوی بہت نافرمان ہے ۔
۲۔  بیوی کا مہر دو دینار شرعی ہے ۔ زید نے کچھ تھوڑا سا سونا بطور مہر دیا۔ اب کتنا مہر زید کو دینا ہوگا۔
۳۔  کیا زید دوسری شادی کرسکتا ہے۔
۴۔  اگر زید اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو کیا اسکا نفقہ زید پر لازم رہے گا   ؟  بینواتؤجروا
جواب :  ۱ ۔ لڑکا بالغ اور کمانے کے قابل ہے تو اس کا نفقہ باپ کے ذمہ نہیں ہے ۔ البتہ لڑکیوں کی شادی تک ان کا نفقہ باپ کے ذمہ ہے ۔ باپ وظیفہ یاب ہے تو وہ لڑکیوں کو اپنے ساتھ رکھ کر کھلاسکتا ہے ۔
۲ ۔  دو دینار شرعی مہر، چھ ماشہ دو رتی سونا ہوتا ہے اسکی قیمت بوقت ادائی مہر جو ہو وہ دی جائے ۔ اگر کم دیئے ہیں تو بقیہ دیدیں۔
۳ ۔  ہر مسلمان شخص ایک سے زائد عورتوں کے درمیان انصاف کرسکتا ہے تو چار عورتوں سے شادی کرنے کی اجازت ہے ۔
۴ ۔  طلاق کے بعد عدت (تین حیض) یا تین ماہ (اگر حیض نہ آتا ہو) تک نفقہ، شوہر طالق پر واجب ہے۔ اسکے بعد مطلقہ نکاح سے باہر ہوجاتی ہے ، طلاق دینے والے پر نفقہ نہیں ہے ۔
فرضی نام بتلاکر نکاح کرنا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر نے ہندہ سے تین گواہان کے روبرو فرضی نام بتلا کر ایجاب و قبول کیا ۔ بعد ازاں ایک حافظ صاحب نے خطبہ نکاح پڑھا۔ شرعاً دونوں کا نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟
۲۔  ان دونوں کو دو لڑ کے اور ایک لڑکی ہے۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ نکاح منعقد نہیں ہوا، ان دونوں کو از سر نو دو گواہوں کے روبرو نکاح کرنا ضروری ہے۔ شرعاً کیا حکم ہے   ؟  بینواتؤجروا
جواب :  بالغ عاقد اور عاقدہ متعین ہوں اور وہ دونوں گواہوں کے روبرو ایجاب و قبول کرلیں تو عقد منعقد ہوجاتا ہے ۔ عالمگیری جلد اول  فیما ینعقد بہ النکاح و مالا ینعقد بہمیں ہے : ینعقد بالا یجاب والقبول و ضعا للمضی او وضع احد ھما للمضی والاخر لغیرہ مستقبلا کان کالامر او حالا کالمضارع کذا فی النھر الفائق۔ فاذا قال لھا اتزو جک بکذا فقالت قبلت یتم النکاح وان لم یقل الزوج قبلت۔
پس صورت مسئول عنہا میں اصالتاً نکاح کرنے کی وجہ بکر اپنا نام بدل کر ہندہ سے جو عقد کیا وہ منعقد ہوگیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT