Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / کمسن بچوں پر مظالم اور اس کا سدباب

کمسن بچوں پر مظالم اور اس کا سدباب

۱۷؍ڈسمبر ۲۰۱۴ء کے اخبارات میں ایک بڑی ہی غم ناک خبر شائع ہوئی تھی، جس میں پشاور کے ایک اسکول میںخودکش حملہ آوروں کی وجہ ۱۶۰ افراد کے ہلاک ہو نے کی اطلاع تھی،ان مہلوکین میں ۱۳۲ کمسن بچے شامل تھے،اس دہشت گردانہ حملے نے ساری دنیا کو مغموم کر دیا تھا، مہلوکین کے غمزدہ خاندانوں پر کیا بیت رہی ہو گی اس کا کچھ اندازہ نہیں کیا جا سکتا، جن افراد نے یہ حملہ کیا ہے یقینا وہ بڑے قابل مذمت ہیں، ساری دنیا میں اس غیر انسانی حرکت کی بھی کافی مذمت کی گئی تھی لیکن کیا اس وقتی مذمت سے بن کھلے مرجھاجانے والے غنچوں یعنی معصوم جانوں پر ہونے والے غیر انسانی مظالم کاتدارک ہوسکتا ہے؟
بے خطا افراد اور کمسن بچوں پر اندھا دھند فائرنگ کر نے والے انسان نما بھیڑئے تو کہلا سکتے ہیں لیکن انسان نہیں،ان کے اس وحشیانہ عمل نے انسانیت کی پیشانی کو داغدار کر دیا ہے، کمسن بچے تو پیار و محبت کی چیز ہو تے ہیں ان کو گولیوں کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دینا کیسا سفاکانہ عمل ہے ، ان کمسن بچوں کا آخر کیا قصور تھا، اسکول جہاں بچے انسانیت کا سبق سیکھتے ہیں ان معصوموں پر بے رحمانہ انداز سے گولیاں چلا کر ان ظالموں نے انسانیت کو شرمسار کیا ہے ، امن و امان کے غارت گر جس طرح دہشت پھیلا رہے ہیں اس سے تو معاشرے کا چین و سکون ہی رخصت ہو گیا ہے،ایک انسان حقیر مخلوق جیسے مکھی یا مچھر کو پیدا کر نے کی سکت نہیں رکھتا اس کو کیا حق پہونچتا ہے کہ وہ ان گنت بے قصور انسانوں اور کمسن بچوں کی جان لے۔
الغرض اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر انسانی دہشت گر دی کے خلاف سارے انسان اکٹھا ہوں اور اس جیسے وحشیانہ عمل کی سخت مذمت کر یں، اور ان دہشت گردوں تک انسانیت کا ایسا پیغام پہنچائیں کہ جس کی وجہ ظلم و بر بر یت او ردہشت گردی کا سلسلہ بند ہو، ان ظالمانہ واقعات کے پیچھے کیا اسباب و محرکات ہیں اور کو نسی طاقتیں ان کے پیچھے کام کر رہی ہے ،انسانیت نواز افراد اس تک پہونچنے اور اس کے تدارک کیلئے اسباب اختیار کرنے کی سخت جدوجہد اور انتھک کوشش کریں۔اس مہم میں ظالموں کے ساتھ پنجہ آزمائی کی ضرورت ہو تو انسانیت پر یقین رکھنے والے نیک دل انسان متحدہ کوششوں کے ذریعہ اس سے بھی دریغ نہ کریں۔
۲۱؍جولائی ۲۰۱۵؁ء کی اخباری اطلاع کے مطابق حقوق انسانی کی عا لمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی قید خانوں اور فوج کے زیر انتظام حراستی مراکز میں ۱۱ سال سے بھی کم عمر فلسطینی بچوں کو وحشیانہ اذیتیں دی جاتی ہیں‘ تشدد کے انتہائی ظالمانہ حربے ان معصوموں پر آزمائے جا کر زبردستی نا کر دہ جرائم کے اعتراف پر مجبور کیا جا تا ہے، ان ظالمانہ اذیت ناک حربوں میں جلتے سگریٹ سے داغا جا نا، قینچیوںسے جسم کے اعضاء کو کا ٹا جانا بجلی کے تاروں سے جھٹکے لگایا جا نا شامل ہے ۔یہ بھی کہ حراست میں لئے گئے بعض بے خطا بچوں پر تشدد کیلئے کئی کئی ظالم فوجی مسلط کئے جا تے ہیں۔ان حالات میں کمسن بچوں کی تعلیم و تربیت اور انکے اچھے مستقبل کی کیا ضمانت دی جا سکتی ہے۔

چنانچہ ۴؍ ستمبر ۲۰۱۵ء کے ایک روزنامہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کے حوالہ سے یہ خبر شائع ہوئی کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں جاری جنگی ماحول کی وجہہ ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد بچوں کی تعلیم متاثر ہے، ان کمسن اور مظلوم بچوں کیلئے مدارس کے ماحول میں تحصیل علم و نظم تربیت ایک ایسا خواب معلوم ہو تا ہے جسکی بظاہر تعبیر مو ہو م ہے ۔یو نیسیف نے ’’تعلیم آتش کی زد میں‘‘ کے عنوان سے ایک جامع رپورٹ مرتب کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ شام ،عراق ،یمن اور لیبیا کے جدید علاقوں میں اسکول جانے کی عمر کے بچوں پر جنگ کے اثرات کا جائزہ لیا گیا تو یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ پوری ایک نسل تعلیمی نظام سے باہر رہتے ہوئے جوان ہونے جارہی ہے،جنگ سے متاثرہ علاقوں کے افراد جو پناہ حاصل کرنے کیلئے کشتیوں کے ذریعہ روانہ ہو رہے ہیں ان میں اکثر شام اور عراق کے ہیں ان ہجرت کر نے والوں میں سے اکثر کا ماننا ہے کہ انکے بچوں کی تعلیم انکی دیگر ترجیحات میں مقدم ہے ،نئی نسل کی تعلیمی و تر بیتی نظم کی فکر کو ہر حال میں انکے نزدیک اولیت حاصل ہے ،لیکن افسوس یہ ہے کہ انکا یہ بنیادی حق موجودہ جنگی حالات کے پس منظر میں اور دیگر پر امن ملکوں کی عدم توجہہ کی بناء انکے بچوں کو نہیں مل پا رہا ہے۔ موجودہ نامساعد حالات میں کثیر تعداد میں تعلیم سے دلچسپی رکھنے والے بچوں کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل سے قاصر ہیں۔

اس رپورٹ میں ان خدشات کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ تعلیمی نظام سے باہر رہ کر پرورش پانے والے بچے انسان دشمن ، مفاد پرست افراد کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہو سکتے ہیں ، دہشت گرد تنظیموں کے ہتھے چڑھ سکتے ہیں ،اسطرح غیر انسانی ،غیر اخلاقی اور غیر قانونی چلنے والے مجرمانہ و مفسدانہ نظام کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ساری دنیا میں اس وقت کمسن بچے انسانوں ہی کے ہاتھوں سخت مظالم کا شکار ہیں، ہندوستان میں ایک سروے کے مطابق ہر سا ل تقریبا تخمینی دس لاکھ بچے گم ہو جاتے ہیں ، اسطر ح کی صورتحال پسماندہ و تر قی پذیر ممالک ہر دو جگہ نوٹ کی گئی ہے۔ بلکہ فلسطین کے حالیہ واقعات میں بچوں پر ہوئے مظالم اور پشاور میں ہو ئے قتل و غارت گری کے واقعہ نے انسانیت کے رخسار پر ایک زبر دست طمانچہ رسید کیا ہے، عالمی سطح پر اسلامی نقطہ نظر سے بچوں کی حفاظت کا فرض پو را نہ کیا جائے تو ان واقعات کو روکا نہیں جا سکے گا ، اسلام نے جس انسانیت کا سبق دیا ہے اسکو پھر سے نصاب تعلیم میں شریک کر نے اور ساری انسانیت تک اس پیغام کو پہونچانے کی سخت ضرورت ہے، تاکہ ہر طرح کے ہو نے والے ظلم کا سدباب ہو سکے، اور انسانیت کی حفاظت کے ساتھ کمسن بچوں کی حفاظت اور انکے لئے امن و سکون کے ماحول کی فراہمی اور انکی تعلیمی و تربیتی نظام کی بحالی ممکن ہو سکے۔ تاکہ ماہر علم و فن، اعلیٰ اخلاق کی پیکراور پر امن نسل تیار ہو سکے ،جو قوم و ملک کو کچھ دے سکے اور ساری انسانیت کیلئے سرمایہ افتخار ثابت ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT