Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / کمسن بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے علوم و فنون پر توجہ ناگزیر

کمسن بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے علوم و فنون پر توجہ ناگزیر

شہر میں کھیل کود کے مشاغل مفقود ، والدین کی ہمت افزائی پر سرگرمیوں میں اضافہ ممکن
حیدرآباد۔21اپریل (سیاست نیوز) موسم گرما کی تعطیلات سے صحیح فائدہ حاصل کرنا بچوں کی نشو نما پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے اسی لئے یہ ضروری ہے کہ گرمائی تعطیلات کے دوران بچوں کو دینی علوم کے حصول کے علاوہ کھیل کود ‘ کرتب بازی ‘ پیراکی اور حفاظت خود اختیاری کی تربیت دلوانے میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں تاکہ بچوں کو کم عمری سے ہی اس طرح کی سرگرمیوں میں دلچسپی رہے اور وہ مستقبل میں ان سرگرمیوں میں حصہ لینے سے خوفزدہ نہ رہیں۔ حالیہ عرصہ میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ گرمائی تعطیلات کے دوران بچوں کو کمپیوٹر گیمس تک محدود کرتے ہوئے ان کی دلچسپیاں اسی حد تک محدود کی جارہی ہیں یا پھر سیر و تفریح پر اکتفاء کیا جانے لگا ہے جس کے سبب بچوں کی ذہنی و جسمانی نشو نما پر منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دور حاضر کے بچوں میں ذہانت پائی جاتی ہے لیکن ان کی یہ ذہانت کتابوں اور کمپیوٹر کے اسکرین تک محدود ہوتی جارہی ہے اور ان میں بچپن کی بیباکی و بے خوفی ختم ہوتی جا رہی ہے اسی لیئے یہ ضروری ہے کہ والدین بچوں میں پائے جانے والے خوف کو دور کرنے کیلئے انہیں جسمانی مصروفیات کا حصہ بنائیں تاکہ ان کی ذہنی نشونما کے ساتھ جسمانی نشونما کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ شہر حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں بچوں کو پیراکی سکھانے کے سرکاری سوئمنگ پول  موجود ہیںجن میں عنبرپیٹ ‘ مغلپورہ اور چندو لعل بارہ دری کے سوئمنگ پول شامل ہیں۔ علاوہ ازیں کراٹے ‘ کنگ فو ‘ مارشل آرٹ جیسی سرگرمیوں کیلئے شہر کے کئی علاقوں میں تربیت فراہم کی جانے لگی ہے۔ پرانے شہر میں گرانڈ ماسٹر صلاح الدین اسٹار کراٹے کلب کی نگرانی میں سمر کوچنگ کیمپ چلایا جا رہا ہے۔اسی طرح مختلف تنظیموں و اداروں کی جانب سے محلہ واری اساس پر ووکیشنل کورسس چلائے جانے لگے ہیں جن میں معصوم بچے بھی شرکت کر سکتے ہیں۔ دینی درسگاہوں کی اعانت سے کئی تنظیمیں گرمائی تعطیلات کومفید بنانے کے لیئے دینی معلوماتی کورسس چلا رہی ہیں ان کورسس میں داخلوں کے ذریعہ سے بچوں کو بنیادی دینی معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اسی لیئے بچوں کو کمپیوٹر گیمس کی حد تک محدود کرنے کے بجائے انہیں عملی کھیلوں کا حصہ بناتے ہوئے بے خوف و خطر زندگی گزارنے کے قابل بنائیں تاکہ مستقبل میں انہیں کسی بھی طرح کے حالات سے خوفزدہ نہ ہونا پڑے۔ حالیہ عرصہ میں ہر گوشہ سے قدیم کھیل کود کی سرگرمیوں کی بازیافت کے متعلق غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا جانے لگا ہے لیکن عملی طور پر ایسا کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے چونکہ شہری علاقوں میں کھیلوں کے میدان تیزی سے مفقود ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسی صورت میں بچوں کو گرمائی تعطیلات کے دوران ایسی سرگرمیوں میں مصروف رکھنا صحت و تندرستی کے اعتبار سے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT