Thursday , August 24 2017
Home / مضامین / کمسن سائنسداں احمد محمد امریکہ میں نسلی امتیاز پر فتح کی علامت

کمسن سائنسداں احمد محمد امریکہ میں نسلی امتیاز پر فتح کی علامت

محمد ریاض احمد
امریکہ بلکہ ساری دنیا میں آجکل ایک 14 سالہ سوڈانی نژاد امریکی لڑکے احمد محمد کے کافی چرچے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں سوشیل میڈیا پر اس لڑکے کو اس قدر غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی ہے کہ اس نے مقبولیت کے معاملہ میں نوبل لاریٹ اور تعلیمی جہدکار ملالہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے  ۔ امریکی صدر بارک اوباما نے اسے وائٹ ہاوز آنے کی دعوت دی ہے ۔ فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے کمسن احمد محمد جیسے لڑکوں کو امریکہ کا مستقبل قرار دیتے ہوئے فیس بک کے ہیڈ کوارٹر پر فخریہ انداز میں مدعو کیا ہے ۔ امریکہ کی سابق سکریٹری آف اسٹیٹ اور ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن ، احمد محمد کو ملک کا اثاثہ قرار دینے پر مجبور ہوئیں ۔ امریکی سائنسدانوں، انجینئروں ، آئی ٹی ماہرین ، حقوق انسانی کے جہد کار اور کھلے دل و ذہن کے حامل امریکی عوام کی اکثریت احمد محمد کو ناسا NASA (نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس اڈمنسٹریشن) مدعو کرتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ گوگل جیسا ادارہ اس مسلم لڑکے کی حوصلہ افزائی کیلئے تیار ہے ۔ احمد محمد کو امریکہ میں جو اہمیت دی جارہی ہے اس پر کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ آخر یہ لڑکا ہے کون  ؟ اس نے ایسا کیا کمال کردیا کہ راتوں رات اس کا نام ہر خاص و عام کی زبان پر آگیا ۔

ٹی وی چینلوں ، اخبارات اور سوشیل میڈیا غرض ہر طرف وہی چھایا ہوا ہے ؟ لوگ بلالحاظ مذہب و ملت احمد محمد کی تائید و حمایت پر کیوں اتر آئے ہیں ؟ ہم مذکورہ سوالات کے جوابات دیتے ہیں ۔ احمد محمد کی عمر 14 سال ہے اور وہ مارک ارتھر ہائی اسکول اِرون ٹیکساس کا طالبعلم ہے ۔ اس کے والد محمد الحسان محمد 30 سال قبل اپنے دیگر ارکان خاندان کے ہمراہ سوڈان سے امریکہ منتقل ہوئے ۔ انھیں امریکہ کے اس گستاخ پادری ٹیری جونس کی شدید مخالفت اور چیلنج کرنے کا اعزاز حاصل ہے جس نے قرآن مجید کے اوراق کو نذر آتش کرنے کی گستاخی کی تھی ۔ وہ ہمیشہ امریکہ میں ان افراد سے نبرد آزما رہے جنھوں نے امریکی معاشرہ میں اسلاموفوبیا (اسلام اور مسلمانوں سے خوف پیدا کرنے) کی کوشش کی ۔ احمد محمد ڈلاس کے مقامی علاقہ میں اپنے والد ، ماں مونا احمد ابراہیم، دادی عائشہ موسی ، دو بہنوں 16 سالہ ایمن اور 17 سالہ عائشہ محمد کے ساتھ مقیم ہے ۔ اس کا شمار اپنی جماعت کے ذہین طلباء میں ہوتا ہے ۔ احمد محمد کو نئی نئی ایجادات سے کافی دلچسپی ہے ۔ گھر میں الکٹرانک اشیاء کی وہ خود مرمت کرتا ہے اپنے والد کا فون خراب ہوجائے تو یہ معصوم لڑکا فون کو منٹوں میں درست کرتے ہوئے اپنی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کرتا ہے ۔ کار ، واشنگ مشین ، ریڈیو ، کمپیوٹر کی تکنیکی خرابیوں کو آنکھ جھپکتے دور کرنے میں بھی وہ ماہر ہے ۔ بالفاظ دیگر احمد محمد امریکہ کا ایک کمسن اور ابھرتا ہوا سائنسداں ہے تاہم گذشتہ پیر کو اسے اس وقت اپنا سائنسی شوق کافی مہنگا پڑا جب وہ بڑی خوشی کے ساتھ اپنی تیار کردہ ڈیجیٹل گھڑی اس غرض سے اسکول لے گیا کہ وہاں انجینئرنگ ٹیچر کو اپنی اس نئی ایجاد سے واقف کراتے ہوئے داد و تحسین حاصل کرے ۔

انجینئرنگ کے ٹیچر نے جب احمد محمد کی بنائی ہوئی ڈیجیٹل گھڑی دیکھی تو کچھ دیر کیلئے حیران رہ گئے  ۔اسے بہت ہی عمدہ ایجاد قرار دیتے ہوئے یہ بھی مشورہ دیا کہ یہ گھڑی کسی اور ٹیچر کو نہ دکھائے  لیکن عین انگریزی کی کلاس میں گھڑی کا الارم بج اٹھا اور ٹیچر کے دریافت کرنے پر احمد محمد نے انھیں جب اپنی ایجاد کردہ ڈیجیٹل گھڑی دکھائی تو وہ اسے بم سمجھ بیٹھی اس طرح پولیس عہدیدار نے اس بچے کو اس کے ہم جماعتوں اور اساتذہ کے سامنے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈالکر مرکز حراست برائے اطفال لے کر چلے گئے ۔ حد تو یہ ہے کہ احمد محمد سے پوچھ تاچھ کے دوران ان کے والدین کو طلب کیا گیا نہ ہی اٹارنی کو ۔ پوچھ تاچھ کے دوران بار بار وہ عہدیداروں سے یہ کہتا رہا کہ یہ بم نہیں بلکہ اس کی خود کی بنائی ہوئی ڈیجیٹل گھڑی ہے ۔ احمد محمد کو ہتھکڑی پہنائے حراست میں رکھے جانے کی اطلاع عام ہوتے ہی نہ صرف امریکی مسلمانوں بلکہ دیگر امریکی شہریوں نے سوشیل میڈیا پر ایک مسلمان اور وہ بھی سیاہ فام لڑکے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک کی شدید مذمت کی ۔ اسکول انتظامیہ اور پولیس کی حرکت کو عوم نے نسلی امتیاز اور اسلاموفوبیا سے تعبیر کیا ۔ عوامی برہمی نے صدر اوباما کی توجہ حاصل کرلی  ، اس طرح ایک ذہین مسلم لڑکے کو صرف اور صرف اس کی علمی صلاحیتوں کے باعث امریکی صدر کے بشمول دیگر امریکیوں کی زبردست تائید و حمایت حاصل ہوگئی ۔ احمد محمد کے ساتھ اس کی انگریزی ٹیچر نے جو سلوک کیا اور ایک شاندار ایجاد کو جس طرح بم قرار دیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں جہاں بچوں کی تعلیم اور صحت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔ جہاں کے اسکولوں میں ریاضی اور سائنس کے فروغ پر اربوں ڈالرس خرچ کئے جاتے ہیں  ایسے نااہل ٹیچرس بھی ہوتے ہیں جو گھڑی اور بم میں فرق محسوس نہیں کرسکتے ۔ طلبہ کی صلاحیتوں کو پرکھنے کی ان میں تمیز نہیں پائی جاتی ۔ اس انگریزی ٹیچر کی نااہلی پر ہمیں افسوس کی بجائے یہ سوچ کر اطمینان ہوا کہ اہلیت کے معاملہ میں وہ اڈیشہ کے اس سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور دوسرے ٹیچروں کے برابر ہے جنھوں نے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو ’’مرنے سے پہلے ہی مارکر‘‘ (موت سے پہلے ہی) نہ صرف اسکول میں تعزیتی جلسہ کا انعقاد عمل میں لایا بلکہ اسکول کو چھٹی بھی دے دی ۔ تاہم احمد محمد کی تائید میں جس طرح امریکی صدر بارک اوباما اور سابق سکریٹری آف اسٹیٹ ہلاری کلنٹن اتر آئیں اس سے یہ سوچ کر سکون ہوا کہ امریکی سیاستداں اُن ہندوستانی سیاستدانوں کی طرح نہیں ہیں جنھوں نے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے انتقال سے قبل ہی ان کے پورٹریٹ پر پھول مالا چڑھادیں تھی ۔ ہمارے ریاستوں اور مرکز کے کئی وزراء کی زبانوں سے ایسے الفاظ ادا ہوتے ہیں جنھیں سنکر ایسا نہیں لگتا کہ یہ کسی صحیح العقل سیاسی راہ نما کے الفاظ ہوں ، اکثر تو جاہل گنواروں کی طرح خیالات کا اظہار کرکے نفرت پھیلاتے ہیں ۔

بہرحال امریکی صدر بارک اوباما نے احمد محمد کی گرفتاری اور پھر رہائی کے فوری بعد ٹوئیٹر پر ایک پیام ٹوئٹ کیا اور احمد محمد کی ستائش کرتے ہوئے نہ صرف ان کی بنائی گئی گھڑی دیکھنے کی خواہش ظاہر کی بلکہ وائٹ ہاوز آنے کی دعوت بھی دے ڈالی ۔ اوباما نے اپنے اس اقدام سے ثابت کردیا کہ امریکہ میں نسلی امتیاز اور اسلاموفوبیا کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے بلکہ اس سرزمین پر باصلاحیت لوگوں کی قدر کی جاتی ہے ۔ ان کی ذہانت سے امریکی قوم کو مستفید کرایا جاتا ہے ۔ اوباما کے مطابق احمد محمدجیسے کمسن سائنسدنواں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے اور امریکی قوم ایسے سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتی ۔ احمد محمد 9 اکتوبر کو وائٹ ہاوز کے ساؤتھ لان میں منعقد ہونے والی اسٹرانومی نائٹ میں حصہ لیں گے ۔ اس نائٹ میں سائنسداں، انجینئرس ، اسٹروناٹس ، اساتذہ اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل طلبہ شرکت کرتے ہیں ۔ فیس بک کے بانی و سی ای او مارک زکر برگ نے احمد محمد کی تائید و حمایت میں آگے آتے ہوئے انھیں فیس بک ہیڈ کوارٹر آنے کی دعوت دیتے ہوئے ببانگ دہل کہا کہ مستقبل احمد جیسے ذہین بچوں کا ہے ، سب سے اچھی بات یہ رہی کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن نے بھی احمد محمد کے ساتھ اسکول اور پولیس کے روا رکھے گئے رویہ پر شدید ردعمل ظاہر کیا ۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں امریکی قوم کو مفروضوں اور خوف میں مبتلا نہ ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مفروضہ اور خوف ہمیں محفوظ نہیں رہ سکتے بلکہ یہ چیزیں ہمیں پستی کی طرف لے جاتی ہیں ۔ ہلاری کلنٹن نے کمسن احمد کی حوصلہ افزائی ان الفاظ میں کی ’’احمد اپنا کام کرتے رہو‘‘ ۔ دوسری طرف احمد محمد کے والد محمد الحسان محمد کا کہنا ہے کہ ان کے ہونہار فرزند کے ساتھ اس کے مسلمان ہونے کے باعث ایسا سلوک کیا گیا ۔ محمد الحسان محمد نے سال 2011 میں اس وقت مقبولیت حاصل کی تھی جب گستاخ پادری ٹیری جونس نے گستاخی کرتے ہوئے قرآن مجید کے اوراق جلانے کے سنگین گناہ کا ارتکاب کیا تھا ۔ محمد الحسان نے اس پادری کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے چیلنج کیا تھا ۔ احمد محمد کے والد امریکی معاشرہ میں اسلاموفوبیا کے خلاف برسرپیکار رہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ امریکی صدر سے لیکر عام شہریوں کے خیال میں مسلم ڈاکٹرس ، انجینئرس ، سائنسداں ، سیاستداں اور آئی ٹی و قانونی ماہرین امریکہ کی ترقی میں اہم رول ادا کررہے ہیں ۔
احمد محمد کی گرفتاری پر ٹیکساس کالج کی ایک 23 سالہ طالبہ آمنہ جفاری نے جن کے دو بھائی بھی احمد محمد کی عمر کے ہیں سب سے پہلے آئی اسٹینڈ ود احمد کا ہیش ٹیگ استعمال کیا ۔ اس ہیش ٹیگ نے چند گھنٹوں میں غیر معمولی اہمیت حاصل کرلی اور 24 گھنٹوں میں ٹوئیٹر پر ایک نہیں دو تین نہیں بلکہ 7 لاکھ افراد نے احمد محمد کے ساتھ اپنی حمایت کا اعلان کیا ۔ احمد محمد کے ساتھ پیش آئے واقعہ نے اس بات کو ثابت کردیا ہیکہ علم کی طاقت کا کوئی  مقابلہ نہیں کرکستا ۔ نسلی امتیاز ، تعصب و جانبداری اور ناانصافیوں کا مقابلہ علم کے ذریعہ ہی کیا جاسکتا ہے۔ علم ہی انسان کو دنیا میں عزت و احترام دلاتا ہے اور جہالت اسے پستی میں ڈھکیل دیتی ہے ۔ احمد محمد کے واقعہ سے یہ بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ امریکہ میں بچوں کے حقوق پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور بچوں کو چھونے پر وہاں کیا ہوتا ہے  احمد کے اسکول انتظامیہ اور پولیس پر ہورہی تھوتھو سے اس کا اندازہ ہوتا ہے ۔ احمد محمد کیلئے ٹیکساس پولیس کی ہتھکڑی اور اسکول پرنسپل کی دھمکیاں عالمی سطح پر اس کی حمایت میں تبدیل ہوگئیں ۔ ساتھ ہی سوشیل میڈیا پر آئی اسٹینڈ ود احمد کی مقبولیت سے پھر ایک بار یہ ثابت ہوگیا کہ عوام کے الفاظ میں کتنی طاقت ہوتی ہے ۔ بہرحال احمد محمد کو اس کے علم و ذہانت کے باعث ہی اللہ عز و جل نے نسلی امتیاز ، تعصب اور جانبداری پر کامیابی دلائی ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT