Friday , September 22 2017
Home / مضامین / کمسن شہیدحافظ جنید کا خط اپنی غمزدہ ماں کے نام

کمسن شہیدحافظ جنید کا خط اپنی غمزدہ ماں کے نام

 

محمدریاض احمد
ہندوستان میں گذشتہ تین دہوں کے دوران نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت میں فرقہ پرستی کے جو ناخوشگوار واقعات پیش آئے ہیں ان کی ہندوستان کی تاریخ میں شائد مثال نہیں ملے گی۔ آر ایس ایس کے سیاسی ونگ بی جے پی کا خفیہ اور ظاہری ایجنڈہ ایک ہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سیکولر ہندوستان کو ہندو راشٹرا میں تبدیل کیا جائے۔ آر ایس ایس کے اس ایجنڈہ کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ ملک کے 25 تا 30کروڑ مسلمان ہیں حالانکہ سرکاری طور پر ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی 172ملین ( 14.2 فیصد ) بتائی جاتی ہے۔ آزادی سے قبل بھی ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی حکومت نے مسلمانوں کو ہی اپنی بقاء کیلئے سب سے بڑا خطرہ تصور کیا تھا۔ چنانچہ انگریزوں نے چن چن کر مسلم علماء اور ممتاز شخصیتوں کو موت کی نیند سلادیا۔ یہاں تک کہ مسلم مجاہدین آزادی کو درختوں سے لٹکاکر پھانسی دی گئی، ان پر بے تحاشہ تشدد کیا گیا، اس کے لئے آج قوم پرستی کا دعویٰ کرتے ہوئے ملک میں مختلف بہانوں سے دہشت پھیلارہے عناصرکے اجداد کا مخبروں کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اب انگریزوں کی طرح ہی نریندر مودی کی حکومت میں ملک کے غدار فرقہ پرست مختلف بہانوں سے مسلمانوں کو ہراساں و پریشان کررہے ہیں، ان کی جان و مال اور عزتوں کو لوٹ رہے ہیں۔ ان درندوں کو روکنے والا کوئی نہیں ملک کا وزیر اعظم خودکو صرف نام نہاد قوم پرست ہندوؤں کا وزیر اعظم سمجھ بیٹھا ہے، اسے مسلمانوں کی تو دور دوسرے انصاف پسند ہندوؤں ، عیسائیوں، دلتوں اور قبائیلوں کی کوئی فکر نہیں۔ مودی جی نے ایسا لگتا ہے کہ پچھلے تین سال سے مسلمانوں اور اقلیتوں و کمزور طبقات پر ہونے والے مظالم پر خاموشی اختیار کرنے کی قسم کھالی ہے۔ ملک بالخصوص بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں دستور اور قانون کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں لیکن پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں خاموش تماشائی کا رول ادا کررہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی ذمہ داریوں اور فرائض میں خاص طور پر مسلمانوں کی جان و مال اور آبرو کی حفاظت کو یقینی بنانا اور امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانا شامل ہی نہیں ہے۔حد تو یہ ہے کہ ٹریفک، گاڑیوں پر لال بتیوں کے استعمال پر پابندی اور طلاق ثلاثہ جیسے اہم اور غیر اہم منصوبوں پر غیر معمولی سرگرمی دکھانے والی عدالتیں بھی چپ سادھی ہوئی ہیں۔ اگر ملک میں اس طرح کی کیفیت جاری رہتی ہے تو اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے۔ اگرچہ تین برسوں کے دوران بی جے پی کی زیر قیادت ریاستوں میں برہم ہجوم کے ہاتھوں بے گناہوں کے قتل کی بیسیوں وارداتیں پیش آچکی ہیں اور مرنے والوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔لیکن وزیر اعظم نریندر مودی ان کی مرکزی حکومت اور بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں کے چیف منسٹرس اور نفاذ قانون کی ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کا زرخرید غلام گوشہ مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے لیکن 28جون کو ملک بھر خاص طور پر دہلی، حیدرآباد، ممبئی، کولکتہ، تھرواننتھا پورم، بھوپال اور بنگلور میں انصاف پسند عوام بشمول ادیبوں۔ شعراء، صحافیوں، فلم اداکاروں، حقوق انسانی اور آر ٹی آئی کے انسان دوست جہد کاروں کی کثیر تعدا سڑکوں پر نکل آئی اور مودی حکومت اور اس کی سرپرست آر ایس ایس کو یہ واضح پیام دیا کہ ہندوستان گنگاجمنی تہذیب، ہندو مسلم اتحاد اور امن وامان کا گہوار ہے یہاں انسانوں کے بھیس میں چھپے فرقہ پرست درندوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے، یہ ملک سیکولر ہے اور سیکولر رہے گا اور عوام گائے، بھینس، بیل اور دوسرے جانوروں کے تحفظ کے نام پر انسانوں کے قتل کو برداشت نہیں کریں گے۔ ملک میں منظم و منصوبہ بند انداز میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں کو برہم ہجوم کی شکل میں موت کے گھاٹ اُتارنے کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ not in my name ( میرے نام پر خون مت بہاؤ ) نامی مظاہرہ کیا گیا جس میں ہریانہ سے تعلق رکھنے والے کمسن شہید نوجوان حافظ جنید کے کچھ غمزدہ ارکان خاندان بھی موجود تھے، اس موقع پر حافظ جنید کا جنت سے اپنی ماں کے نام دو سطری علامتی خط بھی جنید کے بھائی نے پڑھ کر سنایا جسے سن کر وہاں موجود ہزاروں آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ مظاہرین کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کا ہر قطرہ مودی حکومت اور فرقہ پرستوں سے یہی سوال کررہا ہے کہ آخر تم لوگ جنت نشان ہندوستان کی تباہی و بربادی پر کیوں تلے ہوئے ہو؟ آخر تم نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرکے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے انگریز سامراج کا طریقہ کیوں اختیار کیا ہے۔؟ آخر تم میں انسانیت کا جذبہ ختم کیوں ہوگیا ہے؟ جنید نے جنت سے اپنی غمزدہ ماں کو جو دو سطری علامتی خط بھیجا ہے وہ اس طرح ہے:
’’ پیاری امی جان، آپ چاہتی تھیں کہ میں عیدالفطر کیلئے نئے کپڑے خریدوں لیکن قسمت نے مجھے جنت پہنچادیا جہاں آپ کو بے قابو ہجوم کا ڈر و خوف نہیں، میں یہاں سکون و عافیت سے ہوں۔‘‘ فقط: آپ کا جنید۔

ہم نے سوچا کہ جنت سے شہید جنید نے اپنی ماں کے نام جو علامتی خط بھیجا ہوگا اس میں شائد یہ بھی لکھا ہوگا:
’’ پیاری امی جان … ظالموں نے مجھے بڑی بیدردی سے مارا پیٹا، میرے مذہب کو گالیاں دیں، میری اور میرے بھائیوں کی ٹوپیوں کو اُچھالا، داڑھیوں کو نوچا، لباس کا مضحکہ اڑایا، بارہا گائے کا گوشت کھانے والے کہکر طعنے کسے، ہم نے ان سے کچھ نہیں کہا، خاموشی اختیار کی کیونکہ مجھے بار بار آپ کی اور ابو کی بہت یاد آرہی تھی، دل چاہتا تھا کہ پرندوں کی طرح اُڑ کر اپنے گھر پہنچ جاؤں اور آپ کے سینے سے لپٹ کر اپنی اور ہندوستانی مسلمانوں کی بے بسی پر چیخ چیخ کر روؤں۔ ابو سے لپٹ کر یہ بتاؤں کہ فرقہ پرست درندوں نے مجھے اور میرے بھائیوں کو صرف اس لئے شدید مارا پیٹا کہ ہم مسلمان ہیں۔ امی … بے شک اللہ عزو جل نے مجھے شہادت کا اعزاز بخشا لیکن آپ کی مامتا، ابو کا پیار، آپ لوگوں کی دعائیں، بھائی بہنوں کی محبت دنیا میں میری بہت بڑی طاقت تھی ، شائد آپ کی مامتااور ابو کی دعائیں میرے کام آگئیں کہ میری زندگی کامیاب ہوگئی۔

امی جان … مجھے پتہ ہے کہ آپ پل پل میری یاد میں رورہی ہیں، شدید غم سے آپ کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے۔ ابو اور بھائی بہنیں بھی غم سے نڈھال ہیں لیکن میری امی یہ دنیا فانی ہے ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ آپ سب کو بھی موت کا مزہ چکھنا ہے۔ آج ہندوستان میں جس طرح مختلف بہانوں سے فرقہ پرست مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں مسلمانوں کو قتل کررہے ہیں ان کی املاک کو نقصان اور معیشت کو تباہ کررہے ہیں ان کی عورتوں اور بیٹیوں کی عصمتوں کو لوٹ رہے ہیں وہ دن بہت قریب ہے جب یہ درندے اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے، ان کا عبرت ناک انجام ہوگا۔ چاہے وہ گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے ذمہ دار ہوں یا پھر ممبئی کی نوجوان طالبہ عشرت جہاں و دیگر پانچ نوجوانوں کے فرضی انکاؤنٹر کے مجرمین حیدرآباد کے وقار اور دوسرے کئی نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے والے ہوں یا دادری کے محمد اخلاق، لاتیہار جھارکھنڈ کے مظلوم انصاری اور کمسن نوجوان امتیاز خاں کے قاتل جھارکھنڈ کے محمد علیم الدین اورگجرات کے محمد ایوب میواتی کے مجرمین ایک نہ ایک دن وہ اپنے انجام کو ضرور پہنچیں گے، ان ظالموں کی مائیں، بیویاں، بیٹے، بیٹیاں ، بھائی بہنیں بھی اسی طرح روئیں گے جس طرح آج آپ لوگ ہماری شہادت پر رورہے ہیں۔ پیاری امی ، آپ ہی کی طرح کشمیر کے 16 سالہ شہید طالب علم زاہد رسول بٹ کی ماں بھی اپنے نور نظر کی یاد میں آنسو بہارہی ہیںاسے بھی گائے کے نام پر ظالم فرقہ پرستوں نے شہید کیا تھا۔ پیاری امی … آپ کا ابو کا غم ان مسلمانوں کے غم سے بہت کم ہے جنھیں بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں راجستھان، جھار کھنڈ، ہریانہ ، یو پی، مدھیہ پردیش و آسام اور جموں و کشمیر میں گاؤ رکھشکوں اور ہندوتوا کی تنظیموں نے انتہائی بیدردی سے موت کی نیند سلادیا جن میں الوار کے پہلو خان ، پرتاپ گڑھ راجستھان کے ظفر خان، جھارکھنڈ کے محمد نعیم، شیخ سجو، شیـخ سراج اور شیخ حلیم اور درجنوں مسلم نوجوان شامل ہیں۔ پیاری امی، جھارکھنڈ کے میرے ہی ہم عمر امتیاز خاں کو گاؤ رکھشکوں نے مار مار کر درخت پر لٹکاکر پھانسی دے دی تھی۔ امتیاز کی ماں ہر روز اپنے بیٹے کو یاد کرکے آنسو بہاتی ہے، اس کا گھر بھی سنسان ہوگیا۔ پیاری امی… مجھے کسی سے کوئی شکوہ ہے نہ شکایت، حالانکہ جب میرے پیٹ میں چھراگھونپا گیا، اسمعیل بھائی، فیصل بھائی، ہاشم بھائی اور شاکر بھائی پر چاقوؤں سے حملہ کیا گیا۔ اس وقت میں نے اور بھائیوں نے پولیس سے مدد طلب کی تھی لیکن پولیس والوں نے ہماری التجاء پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ ٹرین کے ڈبے میں موجود دوسرے مسافرین بھی میرے قاتلوں کو شہ دے رہے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ ایک دن ان کی اولاد بھی قتل ہوگی ، ان کے گھروں میں بھی صف ماتم بچھ جائے گا۔ ان کی مائیں بھی اپنی اولاد کے غم میں تڑپ اُٹھیں گی جبکہ ہمارے ملک میں فرقہ پرستی کا زہر گھولنے والے سیاستداں بھی گھٹ گھٹ کر مریں گے۔ مظلوموں، کمزوروں کی آہیں آخری سانس تک ان کا تعاقب کریں گی۔

پیاری امی … مجھے جہاں آپ لوگوں سے جدائی کا غم ہوا تھا وہیں ایک حسرت سی رہ گئی ہے کہ کاش ! میں جام شہادت نوش کرتے ہوئے اپنے قاتلوں میں سے کم از کم چار پانچ کو جہنم رسید کردیتاکیونکہ جس انسان کو یہ پتہ چل جاتا ہے کہ اس کی زندگی اب ختم ہونے والی ہے تو اس کی قوت میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ پیاری امی اور پیارے ابو مجھے اپنے ملک کے زرخرید غلام میڈیا پر بھی افسوس ہوتا ہے کہ گاؤ رکھشک اور فرقہ پرست، مسلمانوں کا قتل کررہے ہیں اور زر خرید غلام میڈیا انصاف کا قتل کرتے ہوئے قانون کی دھجیاں اُڑا رہا ہے۔ پیاری امی جان ، کہنے کو تو بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں لیکن مجھے خوف ہے کہ میرے ان الفاظ سے آپ کا غم تازہ ہوجائے گا، میری یاد میں آنسو بہانے لگیں گی، آپ بار بار اس اُمید سے میری راہ تک رہی ہیں کہ میں عید کے نئے کپڑے لئے گھر میں داخل ہوں گا۔ پیاری امی جان میں عید کے نئے کپڑے تو زیب تن نہیں کرسکا ہاں عید کے دن صاف ستھرا کفن پہنے سفر آخرت پر روانہ ہوا اور یہ ایسا لباس ہے جسے پہن کر جانے والے واپس نہیں آتے، صرف ان کی یادیں رہ جاتی ہیں۔ پیاری امی ، صبر اور نمازوں کا سہارا لیجئے، زندگی بہت مختصر ہے، وقت بڑی تیزی سے گذر جاتا ہے، غم کے زخم بھی بھر جاتے ہیں لیکن چونکہ آپ ماں ہیں اس لئے ماں کا غم ہمیشہ تازہ رہتا ہے۔ آپ ایک شہید کی ماں ہیں، اللہ کا شکر ادا کیجئے۔‘‘
اللہ حافظ
فقط آپ کا بیٹا جنید
[email protected]

Top Stories

TOPPOPULARRECENT