Wednesday , July 26 2017
Home / شہر کی خبریں / کمسن طلبا ‘ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ملازم و فلمی صنعت ڈرگس مافیا کا نشانہ

کمسن طلبا ‘ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ملازم و فلمی صنعت ڈرگس مافیا کا نشانہ

کسی تگ و دو کی ضرورت نہیں۔ فون کال ‘ واٹس اپ مسیج یا پھر انٹرنیٹ کلک سے منشیات کا حصول ‘18 گیانگس سرگرم
حیدرآباد /7 جولائی ( سیاست نیوز ) منشیات مافیا دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں بڑی آسانی اور بغیر کسی پریشانی سے منشیات کی لت کو پھیلاتے ہوئے کمسن طلبا ، ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کرنے والے پروفیشنلس اور تلگو فلم انڈسٹری کو اپنا نشانہ بنارہے ہیں ۔ کسٹمرس کو منشیات کی حصولی کیلئے دوڑ دھوپ کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ صرف فون کال ، واٹس اپ مسیج یا پھر ایک انٹرنیٹ کلک سے جس طرح گھروں تک فاسٹ فوڈ یا پیزا پہونچ جاتا ہے اس طرح منشیات پارسل ہوکر گھروں تک پہونچ جارہا ہے ۔ اس طرح کے 18 گیانگس شہر میں منشیات سربراہ کرنے کا کام کر رہے ہیں ۔ اسکول سے پب تک کروڑہا روپئے کا کاروبار کیا جارہا ہے ۔ آن لائین چلائے جانے والے اس دھندہ پر نظر رکھنے والے پولیس عہدیداروں نے 8 لوگوں کو گرفتار کیا ہے ۔ ان سے تفتیش کے دوران کئی چونکا دینے والے انکشافات ہوئے ہیں جس سے والدین اسکول انتظامیہ تحفظاتی ایجنسیاں اور عام لوگوں میں حیرت و تعجب کی لہر پھیل گئی ہے ۔ مختلف طریقوں سے طلبہ کو منشیات کا غلام بنایا جارہا ہے ۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ 6 اقسام کی منشیات فروخت کی جارہی ہے ۔ جن کے نام بھی کمسن طلبا کی نفسیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے رکھے گئے ہیں ۔ ان منشیات کو مشہور اور بچوں میں مقبول عام کارٹون کرداروں سے منسوب کیا گیا ہے ۔ جن میں پوگو ، ٹام اینڈ جیری ، ڈیزنی ، چارلی چاپلین ، میکی موز اور سوناپی شامل ہیں ۔ منشیات فروخت کرنے والے ریاکٹ کے گرفتار ارکان نے تفتیش پر بتایا کہ منشیات کی لت میں مبتلا ہوچکے طلبا و طالبات اُن سے کوڈ لینگویج میں ہی بات کرتے ہیں مثال کے طور پر ’’ پوگو آیا ، ٹام اینڈ جیری ملیگا ، ڈیزنی کا کیا ہوا کب آئے گا ۔ چارلی چاپلین اب تک نہیں پہونچا ۔ میکی موز پارلر کرادو ، سوناپی سے کام چلے گا ‘‘ ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ جاریہ سال مہاراشٹرا میں بھی منشیات سربراہ کرنے کا ایک بہت بڑا ریاکٹ بے نقاب ہوا تھا ۔ جس میں منشیات کے سربراہ کرنے والوں نے منشیات کو بالی ووڈ کے فلمی اسٹاروں کے نام دئے تھے ۔ مثال کے طور پر سپلائیر کو سلطان کا خفیہ نام دیا تھا ۔ جبکہ منشیات کے ذیلی سربراہ کرنے والے کو رنویر سنگھ بے فکرے سے پکارا گیا تھا ۔ کوکین کیلئے عالیہ بھٹ ، افیون کیلئے کنگنا راوت اور اسمیک کیلئے کیٹرینہ کیف کے نام استعمال کئے گئے ۔ ایسل ایس ڈی اور ایسکٹس کیلئے پرینکا چوپڑا اور نرگس فقری کے نام دئے گئے تھے ۔ فلم پی کے کی ہیروئین انوشکا شرما کا نام حشیش کے بجائے استعمال کیا گیا تھا ۔ بہرحال اس بات کی بھی اطلاعات مل رہی ہے کہ متاثرہ طلبا و طالبات کے فکرمند والدین اپنے بچوں کو ماہرین نفسیات سے رجوع کر رہے ہیں تاکہ انہیں اس لعنت سے چھٹکارا دلاکر انکا مستقبل برباد ہونے سے بچایا جاسکے ۔ اکسائز محکمہ کے ذرائع نے بتایا کہ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں معروف منشیات کے سپلائیرس اسکولی طلبہ کے بشمول سینکڑوں لوگوں تک ایل ایس ڈی اور ایم ڈی ایم اے سربراہ کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں جن 8 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں 5 ایسے انجینئیرس ہیں جو ملٹی نیشنل کمپنیوں میں اعلی عہدوں پر فائز ہیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT