Monday , September 25 2017
Home / ہندوستان / کمیشن کی کارروائی راست نشر کرنے کی تجویز

کمیشن کی کارروائی راست نشر کرنے کی تجویز

ڈی ڈی سی اے میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات میں شفافیت کی بھرپور وکالت:سبرامنیم
نئی دہلی ۔ 28 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سابق سالیسٹرجنرل سبرامنیم جو کہ ڈی ڈی سی اے کے امور میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کے ضمن میں تشکیل کردہ کمیشن کے صدر ہیں، انہوں نے آج پرزور حمایت کی ہے کہ تحقیقات کی کارروائی کو راست نشر کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا ہے وہ اس بات کی وضاحت بھی کردینا چاہتے ہیں کہ مذکورہ معاملے کی تحقیقات کی کارروائیوں کو راست نشر کیا جاناچاہئے تاکہ دنیا یہ دیکھ سکے کہ کمیشن اس معاملے میں کس طرح اپنی کارروائی انجام دے رہا ہے کیونکہ میں نے پہلے ہی یہ وعدہ کیا ہے کہ اس مسئلہ میں عوامی تحقیقات ہوں گی۔ سبرامنیم نے مزید کہا ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دنیا کے ا کثر مقامات پر تحقیقات کی کارروائی کو راست نشر کیا جاتا ہے اور خاص طور پر برطانیہ اور کینیڈا میں عوامی کارروائی کو راست نشر کیا جاتاہے ۔ سبرامنیم کے بموجب انہیں اس میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں دکھائی دیتا ہے کہ جس معاملے میں کرکٹ شامل ہو، اس معاملے میں اس طرح تحقیقاتی کارروائی کو راست نشر کیوں نہیں کیا جانا چاہئے ۔ دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ اسوسی ایشن میں مالیاتی بے قاعدگیوں کی تحقیقات کرنے والی کمیشن کی صدارت کو قبول کرنے والے سبرامنیم نے کہا ہے کہ دستور میں اس معاملہ کیلئے رہنمائی موجود ہے اور اس مسئلہ گورنر نجیب جنگ کے تحفظآت کو کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔ دہلی اسمبلی کی جانب سے کمیشن کے قیام کیلئے منظور کردہ قرارداد کے ض من میں انہوں نے کہا کہ یہ ریاستی حکومت کا اختیار ہے کہ وہ اس طرح کی کمیشن کا قیام عمل میں لائے ۔ معروف وکیل نے گورنر نجیب جنگ پر راست تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کا قیام دستوری ہے ۔ انہوں نے ہندوستانی دستور کے دفعہ 239AA کا حوالہ دیتے ہ وئے کہاکہ ریاستی اسمبلی کو یہ اختیار حاصل ہے ۔ وہ ریاست کی قانون ساز ادارہ بھی ہے ۔ نیز دفعہ 324 ، 326 اور 329 کی رو سے بھی مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اسمبلی کو ریاستی قانون ساز ادارہ ہے۔ وکیل نے یہ بھی کہا ہے کہ میڈیا کی رپو رٹس جن میں گورنر جنگ کے شاہدات کے روشنی میں جس میں شائع کی گئی ہیں، وہ اس پر اظہار خیال سے گریز کرنا چا ہتے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال کے مشاہدہ کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ شائد ان کی دیانتداری کو بدعنوانیوں کے اندھیرے میں گم ہوجائے گی ۔ انہوں نے مزیدکہا کہ تحقیقات کا فائدہ کھیل کو ہونا چاہئے اور ساتھ ہی ڈی ڈی سی اے کو بھی اس کا فائدہ ہونا چاہئے ۔ سبرامنیم میں اس ضمن میں اپنے خیالات کو وسعت دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی کرکٹ کے ایک بڑے مداح ہیں اور وہ دہلی حکومت کے عہدیداروں کے ساتھ اس انفراسٹرکچر کی نشاندہی بھی کرنا چاہیں گے جہاں کمیشن اپنا تحقیقاتی کام انجام دے سکتے۔ دہلی کابینہ نے 21 ڈسمبر کو ایک رکنی کمیشن کے قیام کو منظوری دی تھی اور اس کمیشن کی صدارت سبرامنیم کر رہے ہیں جبکہ کمیشن ڈی ڈی سی اے میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کرے گی جبکہ اس کرکٹ باڈی کے مرکزی وزیر فینانس جیٹلی 2013 ء تک تقریباً 13 برس صدر رہے ہیں۔ سبرامنیم جنہوں نے پہلے ہی جیٹلی کو اپنا ایک اہم اور معتبر ساتھی قرار دیا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی وضاحت کردی ہے کہ وہ اپنا کام مکمل کھلے ذہن اور شفافیت کی بنیادوں پر کریں گے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل نے کجریوال کے کام کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اس معاملہ کو صحیح اسپرٹ کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔

TOPPOPULARRECENT