Thursday , August 17 2017
Home / سیاسیات / ’’کم سے کم آخری چار دن پارلیمانی کارروائی چلانے دیجئے‘‘

’’کم سے کم آخری چار دن پارلیمانی کارروائی چلانے دیجئے‘‘

کانگریس ارکان کی معطلی یوم سیاہ تھا تو یوم سفید کہاں گئے : وینکیا نائیڈو

نئی دہلی ۔ 7 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ کانگریس کو چاہئے کہ وہ ’’جیسے کو تائسا‘‘ رویہ ترک کرے نیز للت مودی مسئلہ پر وزیرخارجہ سشماسوراج کی طرف سے بیان دیئے جانے کے بعد پارلیمنٹ کو باقی ماندہ چار دن تک معمول کے مطابق کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ کانگریس کے 25 ارکان کے خلاف ’’غیرجمہوری کارروائی‘‘ پر اپوزیشن کی تنقیدوں پر جوابی وار کرتے ہوئے وزیرپارلیمانی امور نے کہا کہ حکومت ان (کانگریس ارکان) کی معطلی کے احکام کی منسوخی کیلئے ہمیشہ تیار تھی لیکن کانگریس ارکان ایوان میں واپسی کیلئے تیار نہیں تھے۔ تاہم انہوں نے اس کارروائی کی مداخلت کی اور کہا کہ پہلے کارڈس لہرانے والے ارکان کے خلاف اسپیکر کو بہت پہلے ہی یہ کارروائی کرنا چاہئے تھا کیونکہ ایوان کی باقاعدہ کارروائی کو یقینی بنانا ان (اسپیکر) کی ذمہ داری ہے۔ کانگریس ارکان کی معطلی کو اس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کی جانب سے ’’یوم سیاہ‘‘ قرار دیئے جانے پر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ اگر وہ ’’یوم سیاہ‘‘ تو پھر رواں مانسون سیشن کے ’’یوم سفید‘‘ کہاں گئے؟۔ ’’قومی مفاد مجروح نہ کریں۔ ملک کی ترقی میں رخنہ نہ ڈالئے۔ یہ میری مخلصانہ درخواست ہے‘‘۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ’’میں شریمتی سونیا گاندھی سے امید کرتا ہوں کہ سشماسوراج کی جانب سے کی گئی وضاحت کے بعد اب اس مسئلہ پر سنجیدہ توجہ دیں گی اور کم سے کم سیشن کے آخر چار دن میں پارلیمانی کارروائی چلانے کی راہ ہموار کریں گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ضمن میں مختلف قائدین سے بات چیت کررہے ہیں۔ کانگریس کے سینئر قائدین غلام نبی آزاد اور ملک ارجن کھرگے سے گذشتہ روز بات چیت کرچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT