Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / کندیکل گیٹ روڈ اوور برج کا پیر کو افتتاح

کندیکل گیٹ روڈ اوور برج کا پیر کو افتتاح

ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی افتتاح انجام دینگے ۔ ٹریفک کے بہاؤ میں سہولت کا امکان

حیدرآباد 28 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی 31 اگسٹ پیر کو کندیکل گیٹ روڈ اوور برج کا افتتاح انجام دینگے ۔ یہ برج اپوگوڑہ علاقہ میں ہے اور اس دن سے برج پر ٹریفک کے گذر کی اجازت دیدی جائیگی ۔ روڈ اوور برج سے ریلوے لیول کراسنگ کی وجہ سے ٹریفک کے بہاو میں ہونے والی رکاوٹ دور ہوجائیگی ۔ کندیکل گیٹ علاقہ میں ریلوے لیول کراسنگ کی وجہ سے اکثر راہ گیروں کو رکنا پڑتا تھا ۔ اب نئے روڈ اوور برج کی تعمیر اور اس پر گذر کی اجازت مل جانے کے بعد راہ گیروں کو آسانی پیدا ہوگی ۔ اس کے علاوہ چارمینار ۔ فلک نما ۔ چندرائن گٹہ روڈ پر بھی ٹریفک میں کمی واقع ہوسکتی ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس روڈ اوور برج کی تعمیر کے نتیجہ میں راہ گیروں کیلئے فاصلہ کم ہوسکتا ہے اور وقت بھی بچ سکتا ہے ۔ مقامی عوام اور یہاں سے گذرنے والی ٹریفک طویل وقت سے اس برج کے افتتاح کی منتظر تھی ۔ مجلس بلدیہ حیدرآباد کی جانب سے اس برج کا افتتاح جاریہ سال جنوری کے مہینے میں ہی کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا تاہم اس کی تکمیل میں تاخیر ہوئی تھی جس کے نتیجہ میں یہ افتتاح نہیں ہوسکا تھا ۔ تاخیر پر برہمی کو دیکھتے ہوئے اس برج کے مابقی کاموں کی تکمیل میں تیزی پیدا کی گئی تھی اور برج کے ساتھ سرویس روڈز کی تعمیر کو بھی یقینی بنایا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اس روڈ اوور برج کی تکمیل کے ساتھ حیدرآباد سے شمس آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ براہ بارکس پہونچنے میں بھی سہولت ہوسکتی ہے ۔ حالانکہ اس روڈ اوور برج کا باضابطہ افتتاح نہیں ہوا تھا تاہم بسا اوقات دو پہیہ گاڑیاں رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اس پر سفر کر رہی تھیں۔ جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کندیکل گیٹ روڈ اوور برج کی تعمیر پر جملہ 23 کروڑ روپئے کا صرفہ آیا ہے ۔ اس برج پر کام جون 2012 میں شروع ہوا تھا ۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس برج کی تعمیر میں جو تاخیر ہوئی ہے اس کی وجوہات میں اس کی راہ میں آنے والی عمارتوں کا حصول شامل تھا ۔ عمارتوں کے مالکین نے ان کی حوالگی سے انکار کردیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ برقی پولس ‘ آبی اور سیوریج لائینس کی منتقلی کے کام میں بھی غیر معمولی تاخیر ہوئی جس کے نتیجہ میں بحیثیت مجموعی برج کی تعمیر کا وقت مقررہ نشانہ سے آگے بڑھ گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT