Monday , June 26 2017
Home / Top Stories / کنسٹرکشن کمپنیوں کو مشکلات، مزدوروں کیلئے کارکرد نوٹس کی عدم دستیابی

کنسٹرکشن کمپنیوں کو مشکلات، مزدوروں کیلئے کارکرد نوٹس کی عدم دستیابی

کام جاری رکھنے سے قاصر، فلیٹ بُک کروانے والوں میں بے چینی کی کیفیت
حیدرآباد۔20نومبر(سیاست نیوز) کرنسی تنسیخ اور 100کے نوٹوں کی قلت نے شہر میں کئی صنعتوں کو مفلوج کردیا ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ اثر تعمیراتی سرگرمیوں پر دیکھا جا رہا ہے اور تعمیری سرگرمیاں انجام دینے والے مزدور کو ادائیگی کیلئے کارکرد نوٹ نہ ہونے کے سبب کنسٹرکشن کمپنیوںکو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کنسٹرکشن کمپنیوں کے علاوہ گتہ پر جائیداد حاصل کرتے ہوئے تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے والوں کو بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان حالات میں وہ کام جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔ دونوں شہروں میں گذشتہ 10دن کے دوران کئی زیر تعمیر عمارتوں کے کام روک دیئے گئے ہیں جن میں مکانات اور رہائشی اپارٹمنٹس بھی شامل ہیں بلڈر کو فوری ادائیگی کیلئے رقومات میسر نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے جبکہ رہائشی اپارٹمنٹس کی تعمیر کیلئے بھاری پیشگی رقومات ادا کرتے ہوئے تعمیر کی تکمیل کا انتظار کرنے والوں میں بھی بے چینی کی کیفیت دیکھی جانے لگی ہے کیونکہ انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ بلڈرز معینہ وقت میں تعمیرات مکمل کرنے سے قاصر رہیں گے اور جس طرح سے تعمیراتی سرگرمیاں مفلوج ہوئی ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا کہ فوری طور پر ان سرگرمیوں کو بحال کیا جا سکے گا کیونکہ جو بلڈرز پیشگی حاصل کر چکے ہیں ان میں بیشتر کے پاس منسوخ کردہ 1000اور500کے کرنسی نوٹ ہیں جبکہ کچھ لوگوں کی رقومات بینکوں میں جمع ہے جسے فوری طور پر نکالنا ممکن نہیں ہے۔ حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے والے ایک بلڈر نے بتایا کہ اس کام میں نقد لین دین کے سبب کافی مشکلات پیش آرہی ہیں کیونکہ کوئی مزدور چیک یا کارڈ سے مزدوری حاصل نہیں کرتا اسی لئے انہیں نقد ادائیگی ضروری ہوتی ہے اسی طرح بیشتر تعمیری اشیاء کا انحصار نقد خریدی پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے تعمیری اشیاء کی خریدی بھی ممکن نہیں ہو پا رہی ہے۔ تعمیری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ نقد رقومات ساتھ میں ہوں کیونکہ روزمرہ کی ادائیگی کے ذریعہ ہی مزدور سے کام لیا جاتا ہے۔ اسی طرح مکانات کی تعمیر کے لئے بھی جن گتہ داروں نے کام حاصل کئے ہیں وہ بھی نقد رقم ہاتھ میں نہ ہونے کے سبب تعمیری کام کو روک دینے پر مجبور ہو چکے ہیں یا تعمیری کاموں کی رفتار سست کردی گئی ہے جو کہ تعمیری تخمینہ میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے ۔ اس صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ کم از کم ان بلڈرز کو جو بینکوں سے رقم نکالتے ہوئے مزدور کو مزدوری ادا کرتے ہیں انہیں کچھ رعایت دینی چاہئے تاکہ تعمیری سرگرمیوں کو جاری رکھا جا سکے اور اس کے ذریعہ مزدوروں کے پاس بھی کارکرد نوٹ پہنچنے شروع ہو جائیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT