Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / کنٹونمنٹ کے مسائل کو حل کرنے اور سکریٹریٹ کے لیے ڈیفنس اراضی فراہم کرنے کا تیقن

کنٹونمنٹ کے مسائل کو حل کرنے اور سکریٹریٹ کے لیے ڈیفنس اراضی فراہم کرنے کا تیقن

حکومت تلنگانہ کے وزراء کی مرکزی وزیر دفاع منوہر پاریکر سے ملاقات اور نمائندگی
حیدرآباد۔/3ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کے وزراء اور ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل وفد نے آج نئی دہلی میں وزیر دفاع منوہر پاریکر سے ملاقات کی اور تلنگانہ حکومت کو وزارت دفاع سے مربوط مسائل پر نمائندگی کی۔ ڈپٹی چیف منسٹرس کڈیم سری ہری، محمد محمود علی، وزراء ایٹالہ راجندر، پوچارم سرینواس ریڈی اور ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ اس وفد میں موجود تھے۔ ان قائدین نے کنٹونمنٹ میں درپیش مسائل اور تلنگانہ حکومت کے نئے سکریٹریٹ کیلئے دفاعی اراضی کے الاٹمنٹ اور دیگر مسائل پر یادداشت پیش کی۔ منوہر پاریکر نے بتایا کہ وہ جاریہ ماہ کے اواخر یا پھر جنوری کے پہلے ہفتہ میں حیدرآباد کا دورہ کریں گے اور تلنگانہ حکومت کے مسائل کی یکسوئی کے اقدامات کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ منوہر پاریکر نے کنٹونمنٹ سے متعلق مسائل کی یکسوئی کا تیقن دیا اور نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کیلئے ڈیفنس کی اراضی سے متعلق تلنگانہ حکومت کی درخواست پر ہمدردانہ غور کا بھی تیقن دیا ہے۔ تلنگانہ کے وزراء نے فوج میں تلنگانہ ریجمنٹ کے قیام کی ضرورت ظاہر کی اور کہا کہ اس ریجمنٹ کے قیام کیلئے تلنگانہ میں ڈیفنس کالج کا قیام ضروری ہے۔ فوجی تنصیبات کے شہری علاقوں میں آنے کے سبب شہریوں کو پیدا ہونے والے مسائل سے بھی وزیر دفاع کو واقف کرایا گیا۔ وفد نے بتایا کہ شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور شہری علاقوں کی توسیع سے فوجی تنصیبات آبادی کے درمیان آچکے ہیں، سڑکوں کی توسیع اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں حکومت کو اجازت کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ منوہر پاریکر نے حیدرآباد کے دورہ کے موقع پر تمام مسائل کا جائزہ لینے اور متعلقہ فوجی عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا تیقن دیا۔ تلنگانہ کے وزراء وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے منتظر ہیں اور توقع ہے کہ جمعہ کے دن وزیر اعظم سے ملاقات کا وقت طئے ہوگا۔ ریاست میں خشک سالی سے متاثرہ منڈلوں کیلئے مرکزی امداد اور کپاس کے کاشتکاروں کو مناسب امدادی قیمت کے سلسلہ میں وزیر اعظم سے نمائندگی کی جائے گی۔ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کیلئے پہلے مرحلہ میں ایک ہزار کروڑ روپئے کی امداد کا تیقن دیا ہے۔ اسی دوران وزیر زراعت پوچارم سرینواس ریڈی نے بتایا کہ جاریہ سال تلنگانہ میں خشک سالی کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ محبوب نگر، میدک ، رنگاریڈی اور نظام آباد کے علاقوں میں بارش کی کمی کے سبب زرعی شعبہ کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ضلع کلکٹرس کی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت نے 231منڈلوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا ہے۔ اس سلسلہ میں مرکز کو رپورٹ پیش کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں ایک لاکھ ہیکٹر اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ تلنگانہ حکومت ان پٹ سبسیڈی، زرعی مزدوروں کو امداد اور پانی کی سربراہی کیلئے 2514 کروڑ روپئے کی امداد کا مرکز سے مطالبہ کیا ہے ۔ سرینواس ریڈی نے بتایا کہ مرکزی وزیر زراعت نے تلنگانہ کو فراخدلانہ امداد کیلئے وزیر اعظم سے نمائندگی کا تیقن دیا۔

TOPPOPULARRECENT