Saturday , October 21 2017
Home / مضامین / کنہیا بی جے پی کیلئے بڑا خطرہ بن سکتا ہے

کنہیا بی جے پی کیلئے بڑا خطرہ بن سکتا ہے

امولیا گانگولی
راہول گاندھی کے ذریعہ پارلیمنٹ میں وزیراعظم نریندر مودی کو جارحانہ انداز سے ہدف تنقید بنائے جانے کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے ، جبکہ اس کے ردعمل کے طور پر مودی سے کچھ نرم دکھائی دینے لگے ہیں ۔ اب وہ راہول گاندھی کی بڑھتی عمر اور سیاسی شعور کی عدم پختگی کی بات کرنے لگے ہیں۔
گزشتہ منگل کو مودی کے ذریعہ راہول گاندھی کے متعلق کہے گئے جملے میں اس بات کی جھلک دکھائی دی جس میں انھوں نے راہول گاندھی کی بڑھتی عمر کو نشانہ بنایا اور کہا کہ راہول گاندھی کی عمر بڑھتی جارہی ہے ، لیکن ان کی سیاسی سمجھ اور دانشمندی میں اضافہ نہیں ہورہا ہے ۔
مودی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ راہول گاندھی اپنی والدہ سونیا گاندھی کے مقابلے لکھی ہوئی تقریر کم کرتے ہیں ، جبکہ سونیا گاندھی ہمیشہ لکھی ہوئی تقریر کرتی ہیں ۔ لیکن یہ ملک ایسے لیڈر کو پسند کرتا ہے جو برجستہ تقریر کرے ، لکھی ہوئی تقریر نہ کرے ۔ کیونکہ پہلے سے لکھی گئی تقریر اس تقریر کی طرح اثر انداز نہیں ہوتی جو مقرر برجستہ طور پر Extempore کرتا ہے ۔ اس سے اس کی ذہنی پختگی اور سیاسی شعور کا اندازہ ہوتا ہے ۔
کانگریس پارٹی کے نائب صدر نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ جذباتی تقریر کی بجائے طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں تقریر کے انداز کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے اور وہ اس پر عمل پیرا دکھائی بھی دے رہے ہیں ۔ کنہیا کمار سے زیادہ اس ہنر کو بھلا کون بہتر جان سکتا ہے ، جس کی جیل سے رہائی کے بعد جے این یو کیمپس میں کی گئی تقریر نے سب کو متاثر کیا اور حیرت زدہ بھی ۔ پارلیمنٹ میں جو کچھ ہورہا ہے ، اس کی پوری جھلک کنہیا کی تقریر میں دکھائی دی ۔
کنہیا کمار نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بی جے پی کے نہایت خطرناک مخالف آواز بن سکتا ہے ۔ اور مستقبل میں وہ بی جے پی کے لئے پریشانیاں کھڑی کرسکتا ہے ۔وہ موجودہ تمام مخالف سیاستدانوں یہاں تک کہ اروند کیجریوال سے بھی زیادہ بی جے پی کے لئے خطرناک اور نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے اور واقعی کنہیا میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنی جارحانہ اور طنزیہ تقریر سے بہتوں کی آوازیں بند کرسکتا ہے ۔
مودی نے ان تمام تنازعات سے خود کو دور رکھنے کی پوری کوشش کی ہے ، جس نے ان کی پارٹی کو بیک فٹ پر لاکھڑا کردیا ہے ۔ ان تنازعات میں ملک سے غداری کا بھی تنازعہ شامل ہے ، جس کے تحت جے این یو کے اسٹوڈنٹس یونین لیڈر کو ایک پولیٹیکل ٹول کے طور پر استعمال کیا گیا ۔ اس تنازع پر بھی مودی نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔
وزیراعظم نریندر مودی کی ماں اور بیٹے (سونیا اور راہول) کے احساس کمتری کے حوالے سے گفتگو سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ وہ راہول گاندھی کو نو مشق ، نوآموز اور سیاسی شعور سے عاری قرار دے کر انھیں حاشیہ پر لانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ دکھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اپوزیشن پارٹی کی خلل اندازی والی سیاست ، روٹین پولیٹکس کو اثر انداز کرسکتی ہے ۔
لیکن یہ ایشوز کچھ دنوں سے موضوع بحث بنے ہوئے ہیں ۔ یہ وہ معاملات ہیں جس کی وجہ سے ملک کی کئی یونیورسٹیوں (جے این یو  ، حیدرآباد یونیورسٹی ، جادوپور یونیورسٹی) کی خبریں بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کی گئیں ، اس پر مستزاد یہ کہ ’’ہیٹ اسپیچیس‘‘ جو زعفرانی شدت پسندوں کی جانب سے منظر عام پر آئی ہیں ، وہ بھی سرخیوں میں رہی ہیں ۔ یہ تقریریں آنے والے متعدد ریاستوں کے الیکشن کے لئے زمین ہموار کرنے کی کوشش کے طور پر کی گئی ہیں ۔
اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ ریفارم بلس کی حمایت کرنے کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی کیمپس پولیٹکس پر اپنے نظریات کا اظہار کریں گے ۔ خاص طور پر اے بی وی پی جو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہے، جس کی وجہ سے لفٹسٹ کو ابھرنے کا موقع مل رہا ہے ۔
وزیراعظم نریندر مودی کی مداخلت مملکتی وزیر برائے فروغ وسائل انسانی رام شنکر کیتھریا کے اس منافرت انگیز بیان پر ہونی چاہئے تھی ، جس کی وجہ سے یہ بات سامنے آئی کہ کس طریقے سے بی جے پی کے اندر مسلسل ہندو فرقہ پرستی کو فروغ حاصل ہورہا ہے ۔
اس تناظر میں یہ بات بھی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے رام شنکر کیتھرپا کو کلین چٹ دے دی ، حالانکہ انھیں کنہیا کمار کے معاملے میں بھی یہی رخ اختیار کرنا چاہئے تھاجسے عدالت نے ثبوت کے فقدان میں عبوری ضمانت دے دی ہے ۔
یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کنہیا ہی کی طرح غداری کے الزامات راہول گاندھی ، سیتارام یچوری ، کیجریوال اور دوسروں پر بھی عائد کئے گئے اور ان پر مقدمات بھی دائر کئے گئے ۔ اسے مودی کی نااہلی ہی قرار دی جائے گی وہ ملک میں بڑھتی زعفرانی سیاست کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں ، جس کی وجہ سے یو ایس گورنمنٹ اور مغربی میڈیا اور ماہرین تعلیم نے ان کو ہدف تنقید بنایا ہے اور ایسے ماحول میں جبکہ عدم رواداری کا ماحول ملک میں پایا جاتا ہے ، غداری کے معاملے کو غیر ضروری طورپر طول دے کرملک کے حالات کو مزید خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

اب وزیراعظم کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے جب سونیا اور راہول گاندھی کو یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ ان کی وجہ سے پارلیمنٹ میں خلل اندازی ہورہی ہے تو وہ اب نرم پڑگئے ہیں تو ایسے میں مودی کو چاہئے کہ وہ زعفرانی شدت پسندوں کے زور کو ختم کرنے کی کوشش کریں ۔
اگروہ اس کام کو کرنے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں ، یا وہ یہ کرنا نہیں چاہتے ہیں تو کنہیا پر لگائے گئے الزامات کا آر ایس ایس ایک نیارنگ دینا شروع کردے گا ۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ ملک کے ہر شہری کو ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کہنا چاہئے ، جو اے بی وی پی کا پسندیدہ نعرہ ہے اور ساتھ ہی زعفرانی کیمپ کا بھی ۔ اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ آر ایس ایس جے این یو اور حیدرآباد یونیورسٹی کو ’’ملک مخالف‘‘ کی بجائے دہشت گردوں کے اڈہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کررہا ہے ، جیسا کہ بہت سے بی جے پی کے وزراء نے اشارے دیئے ۔ اس میں تھوڑا شک ضرور پایا جاتا ہے کہ مودی بی جے پی کے واحد لیڈر ہیں جوکنہیا کے خلاف لگائے گئے غداری کے الزامات کی وجہ سے راجناتھ سنگھ اور سمرتی ایرانی کے وقار پر آنچ آئی ہے ، کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوں گے ۔ اس کے بعد ایک مسئلہ یہ بھی سامنے آئے گا کہ پارلیمٹ کو گمراہ کرنے کا کام کیا گیا اور یہ کام بی جے پی کے سیاسی قائدین نے کیا ہے ۔
بی جے پی کے سابق چائے والے اور بہار کے ایک غریب گھر سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم کے درمیان جاری لڑائی کو ملک دیکھ رہا ہے ۔ اس لڑائی کو اندرون ملک اور بیرون ملک بڑی دلچسپی سے دیکھا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT